بلوچستان اسمبلی اجلاس میں وزیراعلیٰ بلوچستان سرفرازبگٹی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ قلات، شورپارود کے پہاڑی سلسلے میں ایک ہزار افراد پر مشتمل آبادی کو وہاں سے منتقل کرکے کسی دوسری جگہ آباد کرکے فوجی آپریشن کیاجائے گا ۔
انہوں نے کہا کہ 1970 سے اب تک شورپارود کے پہاڑوں میں کبھی بھی فَراری کیمپ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ماضی میں وہاں امن قائم تھا، انہیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ امن کے ادوار میں بھی جنگ کی تیاریاں جاری رہتی رہی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مستونگ کے علاقے میں دہشت گردوں نے سیکیورٹی فورسز پر حملے کیے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ دہشت گردوں نے ہمارے لوگوں کو بے دردی سے شہید کیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ باغات کو کاٹنے سے متعلق میرے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ پیش کیا گیا۔کسی کی زاتی پراپرٹی سے فائرنگ ہوگی تو کیا ردعمل ہوگا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ باغات کی آڑ میں دہشت گرد حملہ آور ہوتے ہیں،ریاست چاہتی ہے کسی کی نجی پراپرٹی میں دہشت گرد ہوں تو اطلاع دی جائے،نہیں مان سکتا کسی باغ میں دہشت گرد چھپے ہوں اور مالک کو خبر نہ ہو ،اگر آپ اطلاع نہیں دیتے تو آپ کو سہولت کار سمجھتا ہوں۔
خیال رہےکہ مستونگ سمیت نوشکی کے کلی بٹو، کلی احمدوال، کلی ہارونی اور کلی جورکین تک کی آبادی کو فوجی آپریشن کے پیش نظر عارضی طور پر دو ماہ کے لیےخالی کرانے کا حکم دیا گیا ہے ۔
فورسز حکام کے حکم نے مقامی آبادی میں شدید تشویش اور بے چینی پیدا کردی ہے۔
جبکہ اس قبل رواں زہری سمیت پسنی شادی کور سے بھی مقامی آبادی کو جبرا علاقوں سے بے دخل کیا گیا ہے ۔



















































