داد جان، تم آ گئے؟ – فوزیہ بلوچ شاشانی

40

داد جان، تم آ گئے؟

تحریر: فوزیہ بلوچ شاشانی

دی بلوچستان پوسٹ

کبھی کبھی صبح سورج کے ساتھ نہیں، کسی ایسی آواز کے ساتھ طلوع ہوتی ہے جو انسان کے اندر کا پورا آسمان اندھیرے میں ڈبو دیتی ہے۔
آج صبح بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔

نیند سے بیدار ہوئی تو میرے ذہن میں ایک بالکل معمولی سا خیال تھا۔ میں نے سوچا، مجھے اپنے بھائی کے لیے ناشتہ تیار کرنا ہے کیونکہ آج امی ابھی تک نہیں اٹھی ہیں۔ ایک عام گھر کی ایک عام صبح تھی۔ کچن میں چولہا جلنا تھا، چائے بننی تھی، ناشتہ تیار ہونا تھا اور پھر شاید گھر میں کسی کی آواز گونجنی تھی۔ میں اپنے کمرے سے امی کے کمرے کی طرف چل پڑی۔ مگر دروازے تک پہنچتے پہنچتے صبح بدل چکی تھی۔ دروازے کے قریب پہنچی تو اندر سے سسکیوں کی آواز آ رہی تھی۔ ایسی سسکیاں جن میں الفاظ کم اور ایک ماں کا پورا وجود بول رہا تھا۔

میں رک گئی۔

امی ربِ کائنات کے سامنے بیٹھی تھیں۔ ان کے ہاتھ دعا کے لیے اٹھے ہوئے تھے، آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں اور لبوں پر اپنے رب سے ایک ہی فریاد تھی:

“اے کائنات کے مالک! تو رحیم ہے، تو کریم ہے، تو انصاف کرنے والا ہے، تو دلوں کے حال جانتا ہے۔ پھر میرے دل کا حال کیوں نہیں سمجھتا؟ میرے دل کا ٹکڑا مجھے واپس کر دے۔ ان ظالموں کے دلوں میں رحم پیدا کر دے۔ میرے بیٹے، میرے داد جان کو مجھے واپس کر دے۔”

یہ الفاظ میرے کانوں سے ٹکرائے تو جیسے میرے قدموں تلے زمین کھسک گئی۔ مجھے اچانک یاد آیا کہ میں کس بھائی کے لیے ناشتہ بنانے جا رہی تھی۔

وہ بھائی جو گھر میں موجود نہیں۔
وہ بھائی جو اپنی ماں کی آواز سننے کے لیے ترس رہا ہوگا۔
وہ بھائی جسے ہم گزشتہ ایک سو پچاس دنوں سے ڈھونڈ رہے ہیں۔
وہ بھائی جس کی واپسی کی امید میں گھر کا ہر دروازہ آج بھی جیسے کسی آہٹ کا منتظر ہے۔

اور میں کیسے بھول گئی تھی؟

میں کیسے چند لمحوں کے لیے یہ سمجھ بیٹھی کہ میرا بھائی گھر میں ہے، میں اس کے لیے ناشتہ بناؤں گی، وہ اٹھے گا، شاید مسکرا کر پوچھے گا کہ آج ناشتے میں کیا بنا ہے؟ جبکہ حقیقت یہ تھی کہ میرا بھائی ہمارے درمیان نہیں تھا۔ وہ ان لوگوں کی قید میں تھا جنہوں نے اسے ہم سے چھین لیا تھا۔

اچانک میرے لیے طلوع ہوتا سورج بجھ گیا۔ صبح کی روشنی میرے لیے اندھیرے میں بدل گئی۔ خاموش گھر میں صرف امی کی سسکیاں تھیں اور ان سسکیوں کے درمیان ایک نام بار بار بلند ہو رہا تھا:

“داد جان۔۔۔ داد جان۔۔۔ داد جان۔۔۔”

میرے قدم دروازے تک جاتے جاتے بوجھل ہو گئے۔ ایسا محسوس ہوا جیسے میرے پاؤں میں صدیوں کا بوجھ باندھ دیا گیا ہو۔ پھر بھی میں نے اپنے دل پر پتھر رکھا اور دروازہ کھول دیا۔

امی جان مصلے پر بیٹھی تھیں۔ ان کے چہرے پر آنسو تھے، ہاتھ دعا کے لیے بلند تھے اور لبوں پر صرف ایک نام تھا۔

داد جان۔

جیسے ہی روشنی ان کے چہرے پر پڑی، انہوں نے میری طرف دیکھا۔ ایک لمحے کے لیے ان کی آنکھوں میں ایسی روشنی آئی جیسے کسی نے اندھیرے کمرے میں چراغ جلا دیا ہو۔ انہوں نے مجھے دیکھا اور بے اختیار کہا:

“داد جان، تم آ گئے؟”

یہ سوال میرے سینے میں تیر کی طرح لگا۔ میں وہ داد جان نہیں تھی۔ میں وہ بیٹا نہیں تھی جس کا میری ماں گزشتہ ایک سو اکاون (151) دنوں سے انتظار کر رہی ہے۔ میں صرف اس کا انتظار اٹھائے کھڑی ایک بیٹی تھی۔

امی نے مجھے گلے لگا لیا، پھر ان کی آواز آئی:

“کچھ پتا چلا؟”

میرے پاس جواب نہیں تھا۔ میرے ہونٹوں سے صرف ایک لفظ نکلا:

“نہیں۔”

اور پھر میری آنکھوں نے وہ جواب دے دیا جو میری زبان نہیں دے سکتی تھی۔ میں رونے لگی۔ امی نے مجھے گلے لگایا، مگر شاید وہ خود اندر سے ٹوٹ چکی تھیں۔

اسی لمحے کسی نے میری چادر کھینچی۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو میری ننھی بھانجی کھڑی تھی۔ وہ ابھی ٹھیک سے بول بھی نہیں سکتی۔ اس کی معصوم آنکھوں میں ایک سوال تھا، ایسا سوال جس کا جواب میرے پاس بھی نہیں تھا۔ اس نے معصومیت سے پوچھا:

“میرے چاچا۔۔۔ میرے چاچو آ گئے ہیں؟”

بس۔۔۔

یہ ایک جملہ تھا، مگر اس جملے نے جیسے پورے گھر کے درد کو ایک لمحے میں زبان دے دی۔

وہ بچی نہیں جانتی کہ جب کسی کو اٹھا کر لے جایا جاتا ہے تو کیلنڈر کے دن صرف دن نہیں رہتے، وہ انتظار بن جاتے ہیں۔ وہ نہیں جانتی کہ ایک دن، ایک ہفتہ، ایک مہینہ اور پھر ایک سو پچاس دن کس طرح ایک ماں کی سانسوں پر بوجھ بن جاتے ہیں۔ وہ صرف اتنا جانتی ہے کہ اس کا چاچا لاپتہ ہے اور اسے آنا چاہیے۔

امی یہ سوال سن کر بیٹھ گئیں۔ ان کی آواز کانپ رہی تھی:

“بیٹا، میرا دل پھٹ جائے گا۔”

پھر وہ مصلے پر بیٹھ گئیں اور ایک ماں اپنے رب سے وہ سوال کرنے لگی جس کا جواب شاید پوری دنیا کو دینا چاہیے:

“اے میرے اللہ! ان لوگوں کو سمجھا دے کہ بچے ایک دن میں جوان نہیں ہوتے۔ ایک ماں اپنے بچے کو نو مہینے اپنے وجود میں رکھتی ہے، پھر برسوں اپنی نیندیں قربان کرتی ہے، اس کے بخار میں جاگتی ہے، اس کے رونے پر اٹھتی ہے، اس کے قدموں کے ساتھ چلنا سیکھتی ہے۔ ایک بچہ صرف ایک فرد نہیں ہوتا، وہ ماں کی دعاؤں کا حاصل ہوتا ہے، وہ باپ کی امید ہوتا ہے، وہ بہن بھائیوں کی خوشی ہوتا ہے، وہ ایک ننھی بچی کے لیے “چاچا” ہوتا ہے۔

تم کسی نوجوان کو اس کے گھر سے اٹھا کر لے جاتے ہو تو صرف ایک انسان کو نہیں لے جاتے۔ تم ایک ماں سے اس کا سکون چھینتے ہو، ایک گھر سے اس کی ہنسی چھینتے ہو، ایک بہن سے اس کا بھائی چھینتے ہو اور ایک معصوم بچی کو ایک سوال دے دیتے ہو۔

‘میرے چاچو کب آئیں گے؟’

اے میرے رب!

اگر دنیا کے دروازے بند ہیں تو تیرا دروازہ تو کھلا ہے۔ اگر انسان ہماری آواز نہیں سن رہے تو تو دلوں کی آواز سنتا ہے۔ اگر ہماری فریاد کہیں نہیں پہنچ رہی تو تیری بارگاہ سے کون سی فریاد لوٹتی ہے؟

میرے داد جان کو واپس کر دے۔ اس ماں کی گود کو پھر سے آباد کر دے۔ اس بچی کو اس کا چاچا واپس کر دے اور اس گھر کو وہ صبح واپس کر دے جس میں کسی دروازے پر دستک ہو اور امی بے اختیار کہیں:

‘داد جان، تم آ گئے؟’

مگر اس بار جواب حقیقت میں آئے۔ دروازہ کھلے، داد جان سامنے کھڑا ہو، امی اسے دیکھ کر روئے نہیں، مسکرائے اور وہ ننھی بچی دوڑ کر اپنے چاچا سے لپٹ جائے۔

شاید یہی ایک گھر کی سب سے بڑی خواہش ہے، شاید یہی ایک ماں کی سب سے بڑی دعا ہے اور شاید یہی اس صبح کا سب سے خوشی کا سوال بھی:

“داد جان، تم آ گئے؟”

یا ہم اب بھی تمہارا انتظار کر رہے ہیں؟


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔