بلوچ لبریشن آرمی کے میڈیا چینل ہکّل نے پاکستانی فوج کے ساتھ جھڑپوں میں جاں بحق ہونے والے بی ایل اے کے پانچ ارکان کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔
ہکّل میڈیا کے مطابق ظاہر بلوچ عرف کے ڈی، ولد ناصر بلوچ، سکنہ لیگورک، پروم، پنجگور، نے 2023ء میں تنظیم میں شمولیت اختیار کی اور اکتوبر 2025ء میں پروم، گوارگو، پنجگور اور زامران میں سیکنڈ گشتی کمانڈ کی حیثیت سے سرگرم رہے۔
ہکّل میڈیا کے مطابق پنجگور سے تعلق رکھنے والے سنگت ظاہر گزشتہ تین سالوں سے شہری و جنگی محاذ پر تنظیم کے ساتھ ایک مضبوط، انقلابی اور ذمہ دارانہ اپروچ کے ساتھ کام کر رہے تھے۔ اپنی شہری ذمہ داریوں کے دوران وہ تنظیم کو اہم معلومات تک رسائی اور دشمن کے خلاف اہم جنگی معرکوں کی بروقت معلومات پہنچاتے رہے۔ انہوں نے اپنی شہری گوریلا ذمہ داریاں انتہائی زیرک بینی سے نبھائیں اور دشمن کی نظروں میں آنے کے بعد تنظیمی احکامات پر جنگی محاذ میں شمولیت اختیار کی، جہاں گزشتہ ایک سال سے ایک بہادر، مخلص اور محنتی سنگت کے طور پر کام کرتے رہے۔
ہکّل کے مطابق شہید سنگت ظاہر نے گزشتہ ایک سال کے دوران مکران کے مختلف علاقوں میں تنظیمی ذمہ داریاں سنبھالیں اور انہیں بہترین صلاحیتوں کے ساتھ پورا کیا۔ انہوں نے زامران سے پنجگور کے مختلف علاقوں میں ہونے والی فوجی کارروائیوں میں بھرپور حصہ لیا۔ انہی فوجی و انتظامی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تنظیم نے انہیں سیکنڈ گشتی کمان مقرر کیا، جہاں وہ بہترین انداز میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔ وہ بی ایل اے کے ایک جانباز اور بہادر سرمچار تھے اور 19 اگست کو دشمن کے ساتھ ایک جھڑپ میں شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوئے۔ تاریخ انہیں ایک عظیم قومی سرمچار کے طور پر یاد رکھے گی۔
ہکل میڈیا میں شائع تفصیلات کے مطابق اللہ داد بلوچ عرف ساؤڑ، ولد اللہ بخش بلوچ، سکنہ پروم، دز، پنجگور، 2026ء میں شامل ہوئے۔
ہکّل کے مطابق سنگت اللہ داد بلوچ عرف ساؤڑ نے رواں سال قومی آزادی کے عظیم اجتماعی مقصد کے ساتھ جڑنے کا فیصلہ کرتے ہوئے بلوچ لبریشن آرمی کی صفوں میں شمولیت اختیار کی اور پروم کے محاذ پر منتقل ہو گئے۔ بنیادی تنظیمی کورسز مکمل کرنے کے بعد انہوں نے جنگی کارروائیوں میں حصہ لینا شروع کیا اور جلد ہی ایک قابل و باہمت سرمچار کے طور پر خود کو ثابت کیا۔ ان کی صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ فوجی دلچسپی کو دیکھ کر انہیں گشت پر روانہ کیا گیا، جہاں انہوں نے آخر تک اپنی تنظیمی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے انجام دیا اور علاقوں میں تنظیمی برتری قائم کرنے کے لیے کام کیا۔
تنظیم کے مطابق قومی آزادی و ریاست کی تشکیل کی عملی جدوجہد میں سرمچار بن کر انہوں نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کئی مرتبہ قبضہ گیر دشمن پر مہلک حملوں میں شمولیت اختیار کی اور دشمن پر واضح کر دیا کہ بلوچستان میں دشمن کے لیے کوئی جگہ یا مقام محفوظ نہیں رہے گا۔ تجارتی شاہراہوں پر تنظیمی طاقت و کنٹرول برقرار رکھنے کی پالیسیوں کے تحت اپنے متعلقہ علاقے میں ہونے والی کارروائیوں میں انہوں نے بھرپور شرکت کی اور ساتھیوں سمیت مل کر دشمن کی تجارت کے سامنے مسلسل رکاوٹیں کھڑی کیں۔ قومی آزادی کے عظیم مقصد کے لیے ان کی طرف سے دی گئی قربانیاں تاریخ کے اوراق میں بہترین الفاظ کے ساتھ نقش رہیں گی اور بلوچ قوم انہیں ہمیشہ آزادی کے سپوت کے طور پر یاد رکھے گی۔
جبکہ عزیز احمد سمالانی عرف جہانزیب، ولد شاہ محمد سمالانی، سکنہ قادر آباد، نوشکی، نے رواں سال بلوچ قومی آزادی کے عظیم مقصد و تحریک سے جڑنے کا فیصلہ کرتے ہوئے بلوچ لبریشن آرمی کے پلیٹ فارم کا انتخاب کیا اور مسلح مزاحمت میں شمولیت اختیار کر لی۔ شمولیت کے بعد انہیں فوجی تربیت کے غرض سے تربیتی کیمپ منتقل کیا گیا، جہاں انہوں نے بنیادی فوجی کورسز انتہائی محنت و مشقت کے ساتھ مکمل کیے اور بعدازاں عملی میدان میں دشمن کے خلاف اہم فوجی کارروائیوں میں حصہ لینا شروع کیا۔ پہلے انہوں نے نوشکی کے محاذ پر اپنی خدمات دیں اور ساتھیوں سمیت علاقے میں جاری معاشی ناکہ بندی کی سرگرمیوں میں عملی شمولیت کی، جبکہ علاقے میں گشت و عوامی آگاہی کی سرگرمیوں میں بھی ساتھیوں کے ساتھ رہے۔
ہکّل کے مطابق شہید عزیز احمد نے نوشکی کے مقام پر اپنی ذمہ داریاں انتہائی مخلصی و ایمانداری کے ساتھ انجام دیں اور بعدازاں انہوں نے بسیمہ کے مقام پر اپنی فوجی ذمہ داریاں پوری کرنا شروع کیں۔ بسیمہ کے جنگی علاقے میں ان کی کارکردگی نہایت بہترین رہی اور ساتھی سرمچاروں کے ساتھ مل کر علاقے میں تنظیمی اثر و رسوخ قائم کرنے میں اپنا انفرادی کردار خلوص اور لگن سے نبھایا۔ وہ ان ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے جو ہر وقت نقل و حرکت اور دشمن کے خلاف پیش قدمی کی سرگرمیوں میں پیش پیش رہتے تھے۔ 7 ستمبر کو قابض دشمن کے اہلکاروں کے ساتھ ایک جنگ میں انہوں نے قومی آزادی کے عظیم راستے پر شہادت حاصل کی اور تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔
ہکّل میڈیا کے مطابق عدنان سمالانی عرف ساہ روت، ولد جلال الدین سمالانی، سکنہ احمد وال، نوشکی، نے بلوچ لبریشن آرمی کے قومی و آزادی کے عظیم راستے کا انتخاب کرتے ہوئے رواں سال بلوچ لبریشن آرمی کے پلیٹ فارم سے شور کے مقام پر اپنی جدوجہد کا آغاز کیا اور مختصر مدت میں ساتھیوں کے درمیان ایک قابل اور بہادر سرمچار کے طور پر خود کو ثابت کیا۔ پہلے انہوں نے نوشکی کے محاذ پر اپنی ذمہ داریاں پوری کیں اور بعدازاں انہیں بسیمہ کے مقام پر تعینات کیا گیا، جہاں انہوں نے ساتھی سرمچاروں کے ساتھ مل کر مختلف مسلح کارروائیوں، ناکہ بندی اور گوریلا حکمتِ عملی کے تحت سرگرمیوں میں حصہ لیا۔
ہکّل کے مطابق شہید عدنان بلوچستان پر پاکستان کے قائم کردہ غیر قانونی اور غیر انسانی قبضے سے آگاہ تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ اگر جلد یا بدیر دشمن کو بلوچستان سے باہر نہیں نکالا گیا تو وہ ہماری بقا اور شناخت پر مزید حملے کریں گے۔ اسی اجتماعی بقا کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے انہوں نے بلوچ لبریشن آرمی کے پلیٹ فارم سے قومی مزاحمت کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا، جسے وہ ہماری آزادی اور خودمختاری کا واحد ذریعہ سمجھتے تھے۔ انہوں نے آخر تک اپنے فکر و فلسفے کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے دشمن کے خلاف اپنے مورچے کو مضبوط رکھا اور 7 دسمبر کو قومی آزادی و مقصد کے لیے اپنی زندگی قربان کر دی۔ بلوچ قومی تاریخ کے پنوں میں وہ ہمیشہ ایک عظیم قومی سرمچار کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔
عباداللہ زہری عرف ثاقب، ولد فضل اللہ زہری، سکنہ زرد، واشک، نے اسی سال بلوچ قومی آزادی کے مقصد و پروگرام سے ہم آہنگی کا اظہار کرتے ہوئے بلوچ مسلح مزاحمت کے حقیقی راستے کا انتخاب کیا اور بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت اختیار کی۔ واشک سے تعلق رکھنے والے عبداللہ زہری نے بلوچ جنگ کے قومی اور اجتماعی مقاصد کی اہمیت کو اچھی طرح بھانپ لیا تھا، اس لیے انہوں نے دشمن کے خلاف اس عظیم راستے کا انتخاب کیا اور شور کے محاذ پر فعال ہو گئے۔ بنیادی ٹریننگ کورسز کے اختتام پر انہوں نے مسلح گشت جوائن کیے اور مختصر مدت میں خود کو ایک بہادر و باعمل سپاہی کے طور پر منوا لیا۔ ان کے اندر موجود صلاحیتیں جلد ہی گراؤنڈ پر قومی مقاصد کے لیے کارآمد ثابت ہونا شروع ہوئیں۔
ہکّل میڈیا کے مطابق ثاقب فکری و شعوری حوالے سے ایک پختہ اور باعمل جہدکار تھے اور جنگ کی سختیوں اور اس کی حقیقت سے آگاہی رکھتے تھے۔ اسی شعور نے انہیں اس مقام تک پہنچایا تھا جہاں انہوں نے قومی آزادی کے سفر میں اپنی ذاتی زندگی کی قربانی دی۔ انہوں نے ایک مختصر مدت تک جنگی میدان میں اپنی خدمات دیں، لیکن وہ اس تمام دورانیے میں ایک ثابت قدم اور باعمل سرمچار تھے، جنہوں نے تنظیم کی طرف سے ملنے والی ہر ذمہ داری اور سرگرمی کو انتہائی مخلصی و ایمانداری کے ساتھ انجام دیا۔ انہوں نے دشمن کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے شہادت حاصل کی اور آخر تک اسی نظریاتی حقیقت سے وابستہ رہے، جسے انہوں نے جنگ میں شمولیت اختیار کرنے سے پہلے قبول کیا تھا۔ ان کی قربانیاں تاریخ میں ایک بہادر سرمچار کے طور پر نقش رہیں گی، جنہوں نے وطن کی آزادی کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔



















































