گوادر مونڈی چیک پوسٹ کے معاملے پر مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ کے خلاف ایف آئی آر درج
مونڈی چیک پوسٹ پر خواتین کی تضحیک اور پرائیویسی متاثر کیے جانے کے معاملے پر رکنِ بلوچستان اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی۔
گزشتہ روز مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے چیک پوسٹ کے سامنے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ جیونی اور پیشکان سے آنے والی باپردہ خواتین کو چیک پوسٹ پر روک کر
پردہ ہٹوا کر کیمروں کے سامنے کھڑا کیا جاتا اور ان کی تصاویر بنائی جاتی ہیں۔
مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے اس عمل کو خواتین کی عزتِ نفس اور پرائیویسی کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ سکیورٹی کے نام پر خواتین کی تذلیل برداشت نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ خواتین کی پرائیویسی متاثر کرنے والے کیمروں کو فوری طور پر ہٹایا جائے اور معاملے کا نوٹس لے کر ضروری کارروائی کی جائے۔
مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے مزید کہا تھا کہ اگر معاملے پر فوری کارروائی نہ کی گئی تو وہ عوام کو ساتھ لے کر مونڈی چیک پوسٹ پہنچیں گے اور وہاں دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ کے ویڈیو بیان کے بعد فدا حکیم رند نامی ایک شخص کی جانب سے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔
تاحال ایف آئی آر کی دفعات اور پولیس کی جانب سے اس معاملے پر مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔



















































