کھڈکوچہ کے باغات کو کاٹنا ہمارے بچوں کو کاٹنے کا مترادف ہے۔ حکومت کا آخری سزا درختوں کو دینے کاارادہ ہے۔حاجی انور شاہوانی

9

بلوچستان گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے مرکزی چیئرمین حاجی محمد انور شاہوانی
نے کہا کہ کھڈکوچہ بلوچستان کے ان چند علاقوں میں سے ہے جہاں صدیوں سے آباد سرسبز و شاداب باغات لوگوں کی دن رات کی محنت، پسینے اور خون کا نتیجہ ہیں۔ یہاں کے ہر درخت کے پیچھے ایک خاندان کی تاریخ ہے۔ اس قیمتی ورثے کو موم سمجھ کر کاٹنے کی دھمکی دینا عقل و دانش سے بالاتر اور انتہائی افسوسناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ مستونگ، خاص طور پر کھڈکوچہ کے باغات صرف سیب یا انگور کے درخت نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کا معاشی سہارا ہیں۔ یہ باغات نہ صرف مقامی لوگوں کو روزگار دیتے ہیں بلکہ بلوچستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آج جب پورا صوبہ پانی کی شدید قلت، قحط سالی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے سنگین چیلنجز سے دوچار ہے، اس وقت ان باغات کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے نہ کہ ان کی تباہی۔

حاجی شاہوانی نے مزید کہا کہ کھڈکوچہ کے باغات ماحولیاتی توازن کے لیے بھی ناگزیر ہیں۔ یہ باغات مستونگ کی پہچان ہیں۔ ان کے خاتمے سے علاقے میں گرمی میں اضافہ ہوگا، زیر زمین پانی کی سطح مزید گرے گی اور ماحولیاتی تباہی جنم لے گی۔ ترقی کا مطلب تباہی نہیں تعمیر ہونا چاہیے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس غیر دانشمندانہ فیصلے کو فوری طور پر واپس لے اور اس کے برعکس جدید ڈرپ ایریگیشن سسٹم، سولر ٹیوب ویلز اور واٹر سٹوریج کی جدید ٹیکنالوجی متعارف کرا کر باغبانی کو فروغ دے۔ زمیندار دشمن نہیں بلکہ اس دھرتی کے اصل وارث ہیں۔

آخر میں حاجی محمد انور شاہوانی نے اعلان کیا کہ بلوچستان گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کھڈکوچہ کے زمینداروں کے ساتھ کھڑی ہے اور اس بیان کی ہر سطح پر، عوامی طاقت سے، بھرپور مخالفت کریگی۔ ہم کسی صورت اپنے سبز کھڈکوچہ کو صحرا میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے۔