پاکستانی فضائی بمباری کے خلاف سوراب میں احتجاج، میتیں رکھ کر کوئٹہ ،کراچی شاہراہ بند

39

سوراب گدر گندان میں 12 اگست کو پاکستانی فضائی کارروائی کے دوران بمباری کے نتیجے میں خواتین سمیت 20 سے زائد افراد جاں بحق اور 16 زخمی ہوگئے۔ زخمیوں اور جاں بحق افراد کو پولیس اور مقامی افراد نے ڈی ایچ کیو اسپتال سوراب منتقل کیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق جاں بحق افراد میں خواتین و بچے اور مرد شامل ہیں۔ جاں بحق افراد کی شناخت راج بابو زوجہ رسول بخش، صفیہ زوجہ نورجان، 2 سالہ جلال ولد نورجان، شبیر احمد ولد خداداد، نورجان ولد رسول بخش اور کریم داد ولد رسول بخش کے نام سے ہوئی ہے۔

زخمیوں میں 9 مرد و خواتین جبکہ 7 کمسن بچے اور بچیاں شامل ہیں۔ زخمیوں میں ایک سالہ عاصم، تین سالہ راحبیہ، پانچ سالہ سادیہ، سات سالہ فاطمہ، دو سالہ ضیاء الرحمن، ایک سالہ امیر اور چار سالہ حسینہ بھی شامل ہیں۔

مقامی افراد کی جانب سے ہلاکتوں کی تعداد اس سے زیادہ ہونے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے، واقعے سے متعلق سیکیورٹی حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

واقعے کے بعد جاں بحق افراد کے لواحقین اور مقامی افراد نے میتیں سوراب مین چوک میں کوئٹہ کراچی مرکزی شاہراہ N-25 پر رکھ کر احتجاج شروع کردیا، جس کے باعث شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت متاثر ہوئی اور دونوں اطراف گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔ مظاہرین نے مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

واقعے پر بلوچ یکجہتی کمیٹی نے شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے شہری آبادی، بالخصوص خواتین اور بچوں کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا اور ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے واقعے پر ردِعمل دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ “کیا یہ بچے شدت پسند نظر آتے ہیں؟” انہوں نے کہا کہ یہ معصوم بچے ہیں، آخر ان کا کیا قصور ہے؟ کیا بچوں کو قتل کرنے سے کبھی امن قائم ہوسکتا ہے؟

سردار اختر جان مینگل نے مزید کہا: “کیا یہ فلسطین ہے؟ کیا یہ کشمیر ہے؟ نہیں، یہ بلوچستان ہے۔”

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ردِعمل میں ساجد ترین ایڈووکیٹ نے بھی سوراب میں فضائی حملے کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 27 افراد کے جاں بحق ہونے کے دعوے کو افسوسناک اور شرمناک قرار دیتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کیا۔