بلوچستان میں جبری گمشدگیاں: جنید اور یاسر حمید کی بازیابی کا مطالبہ

10

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6338ویں روز بھی جاری رہا۔

جنید حمید اور یاسر حمید کے لواحقین نے احتجاجی کیمپ میں شرکت کرتے ہوئے بتایا کہ جنید حمید کو 8 اکتوبر 2024 کو حب، جبکہ یاسر حمید کو 11 اکتوبر 2024 کو قلات سے ریاستی اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔ دونوں کے بارے میں تاحال کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہی، جس کے باعث اہلِ خانہ شدید ذہنی اذیت اور پریشانی میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ ان کے لاپتہ پیاروں کی بازیابی یقینی بنائی جائے۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ جنید حمید اور یاسر حمید دونوں بھائی ہیں اور ان کی تاحال عدم بازیابی باعثِ تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی شہری کو طویل عرصے تک لاپتہ رکھنا بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جنید حمید اور یاسر حمید سمیت تمام جبری طور پر لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔ اگر ان کے خلاف کوئی الزام ہے تو انہیں منظرِ عام پر لا کر عدالت میں پیش کیا جائے، تاکہ ان کے خاندانوں کو جبری گمشدگی کی اذیت سے نجات مل سکے۔