بلوچستان کے ضلع سوراب میں پاکستانی فضائیہ کی بمباری اور عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیرِ اہتمام کوئٹہ، مستونگ، سوراب، کیچ سمیت بلوچستان کے کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
کوئٹہ میں پولیس نے پریس کلب کے باہر مظاہرے کے انعقاد کو روکنے کے لیے پریس کلب جانے والے راستوں کو بند کر دیا تھا، جس کے باعث بی این پی کے کارکنوں نے چمن پھاٹک کے قریب واقع چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے مظاہروں کے دوران اس واقعے کی مذمت کی گئی اور واقعے کی آزادانہ عدالتی تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
بی این پی کے مظاہروں میں بلوچستان میں فورسز کے آپریشنز بند کرنے اور تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
کوئٹہ میں بھی بی این پی نے پریس کلب کے باہر مظاہرے کا اعلان کیا تھا، لیکن پولیس نے کوئٹہ پریس کلب جانے والے تینوں راستوں کو بند کر دیا تھا۔ پریس کلب کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی، جبکہ پریس کلب جانے والے راستوں پر خاردار تاریں لگانے کے علاوہ جیل اور پولیس کی گاڑیاں کھڑی کی گئی تھیں۔ اس صورتحال کے باعث بلوچستان نیشنل پارٹی کے کارکن پریس کلب تو نہیں پہنچ سکے، لیکن انہوں نے چمن پھاٹک کے قریب چوک پر مظاہرہ کیا۔

















































