آزادی کی جنگ میں خواتین پر خاموشی کے اثرات۔۔۔! – ایس کے بلوچ

38

آزادی کی جنگ میں خواتین پر خاموشی کے اثرات۔۔۔!

تحریر: ایس کے بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

تاریخ میں جنگیں انسانوں کی خواہشات کی تکمیل کے لیے لڑی جاتی ہیں۔ یہ خواہشات مختلف نوعیت کی ہوتی ہیں۔ کچھ خواہشات فرد کی انفرادی شناخت، نفسیات، روزمرہ کی زندگی، آپسی تعلقات اور مستقبل سے جڑی ہوتی ہیں۔ اگر یہ جنگیں نہ لڑی جاتیں تو آج بھی کئی اقوام بادشاہوں اور نوآبادکاروں کی غلام ہوتیں۔

تاریخ میں جنگوں کا ذکر اس لیے بھی کیا جاتا ہے کہ ایک طرف ان کے ہولناک نتائج سامنے آتے ہیں، تو دوسری طرف ان کے مثبت اثرات بھی ہوتے ہیں، جن کی مثالیں معروف مورخین اور ادبی و سیاسی کتابوں میں ملتی ہیں۔ یہ جنگیں تب شروع ہوتی ہیں جب انسانی خواہشات مسخ ہونے لگیں یا کوئی تحریک جبر کے خلاف اٹھ کھڑی ہو۔ جب اجتماعی مقصد پوری قوم کی نفسیات پر اثر انداز ہو تو قوم اسی مقصد کے لیے متحد ہو کر جنگ لڑتی ہے۔

درحقیقت یہ “اجتماعیت” پوری قوم کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ سگمنڈ فرائڈ نے بھی اس پہلو پر بات کی تھی۔ ان جنگوں میں لاکھوں لوگوں کی خواہشات عملی شکل اختیار کرتی ہیں۔ یہ خواہشات انفرادی بھی ہوتی ہیں اور اجتماعی بھی۔ انفرادی اس لحاظ سے کہ کچھ لوگ وہی خواب رکھتے ہیں لیکن جنگ میں براہِ راست شریک نہیں ہوتے۔ اگر انفرادی خواہشات نوآبادکاروں کے اثر میں آ جائیں تو اجتماعی عمل کمزور پڑ جاتا ہے؛ حالانکہ وہ فرد کی اپنی خواہشات ہوتی ہیں، لیکن ان کے اثرات بالآخر پوری تحریک پر پڑتے ہیں۔ آج سرفراز بگٹی ایک مثال ہے۔

اجتماعی خواہش ہر فرد کی خواہش بن جاتی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ اجتماعی عمل پورے سماج کو خوشحالی دے گا۔ اس لیے لاکھوں لوگ اپنی انفرادی خواہشات کو اجتماعی مقصد پر قربان کر دیتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جنگیں انفرادیت کی بنیاد پر نہیں لڑی جاتیں، بلکہ خود کو پوری قوم کے لیے وقف کرنا پڑتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ غلام اقوام کے فرزندوں نے یورپی اور عرب نوآبادکاروں کے خلاف لڑ کر جامِ شہادت نوش کیا، لیکن ان کی انفرادی خواہشات مزاحمتی تحریک پر غالب نہ آ سکیں، کیونکہ انہوں نے خود کو مٹی میں ملا دیا۔

آزادی ایک نعمت ہے۔ یہ غلام کو سکون، چین اور نئی زندگی دیتی ہے، جس سے وہ خود کو زندہ محسوس کرتا ہے۔ بقول فوکو: “آزادی طاقت کے استعمال کی شرط ہے۔” جس کے پاس طاقت ہو، وہ آزادی حاصل کر سکتا ہے، ورنہ وہ تحریک کے اندر مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر آہستہ آہستہ ختم ہو جاتا ہے۔

جو جنگ آزادی کے لیے لڑی جاتی ہے، وہ زندگی کو سنوارتی ہے۔ یہ دنیا کے سامنے سر جھکانے کا منظر نہیں، بلکہ سر بلند کرنے کا خوبصورت منظر ہے۔

لیکن یہ منظر اس وقت دھندلا پڑ جاتا ہے جب خاموشی کا عالم طاری ہو۔ جب لوگ ایک دوسرے کے درد، غم اور دکھ کو محسوس نہ کریں۔ جب ہم اپنی تاریخ، ثقافت، خواہشات اور تجسس، یعنی اپنی “قومی شناخت” کو پسِ پشت ڈال کر صرف مذہبی نعرہ بازی اور عالمی طاقتوں کے پروپیگنڈے کے پیچھے چل پڑیں، تو تاریخ نویس، ادیب، دانشور، مابعد نوآبادیاتی مصنفین اور عام لوگ تشدد کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔ ثقافت، تہذیب، زبان، ادب اور تاریخ کی جگہ نوآبادکاروں کے اثرات لے لیتے ہیں۔ یورپی نوآبادیاتی حکومتوں نے اپنے مورخین، ادیب، شاعر، مذہبی رہنما اور بڑے تھنک ٹینک لائے، جنہوں نے مغلوب اقوام کی ہر چیز مسخ کر دی۔ اس کے باوجود مظلوم اقوام کے نوجوان مرد و خواتین اور بوڑھے جنگجوؤں نے اپنی قوموں کو آزادی دلوائی۔

عوام کو یہ بات سمجھ آ چکی تھی کہ خاموشی ذہنوں پر اثر ڈالتی ہے، ظلم کو برقرار رکھتی ہے اور سب کچھ چھین لیتی ہے۔ اگر آزادی کی جنگ میں متحد نہ ہوا جائے تو تحریک ناکام ہو جاتی ہے۔ جب خواتین نے اپنی عزت، حسن اور وجود کو قوم اور سرزمین کے سپرد کیا، تو کروڑوں لوگوں نے آزادی کی جنگ کا عزم کیا۔ انہیں احساس ہوا کہ اگر ہم مزاحمت میں حصہ نہ لیں تو ہماری خواتین دشمن کے ہاتھوں سرِ بازار بے عزت ہوں گی یا میدان میں گرفتار ہو کر ظلم سہیں گی۔ تب انہیں اپنی ثقافت میں خواتین کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔ خواتین ہی وہ ستون ہیں جنہوں نے سماج کو خوبصورتی بخشی ہے۔

اگر آزادی کی جنگ میں عوام خاموش رہیں تو جنگی محاذوں پر خدمات انجام دینے والوں کی بیویاں، عام خواتین، بچے اور بچیاں فوجی کیمپوں میں عصمت دری کا شکار بنتے ہیں۔ بلوچستان میں انگریز دور سے لے کر آج تک جن علاقوں میں خواتین جنسی تشدد کا نشانہ بنیں، وہاں یا تو رابطے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا، یا لوگ خاموشی سے سب سہ کر سو جاتے تھے۔

یہ تو بلوچستان ہے۔ یہاں شازیہ، زرینہ مری اور دیگر خواتین عصمت دری کا شکار ہوتی رہیں۔ 2013 کے بعد یہ سلسلہ مزید تیز ہو گیا۔ 2018 میں آواران کے علاقے جاہو سے چار خواتین کو فوجی کیمپوں میں منتقل کیا گیا۔ 2019 میں آواران کی ایک زیرِ تعلیم بچی فوجی کیمپ میں جنسی درندگی کا شکار ہوئی۔ اسی سال آواران کے علاقے تیرتیج سے چار خواتین کو اٹھا کر فوجی کیمپوں میں لے جایا گیا اور ان پر دہشت گردی کا الزام لگایا گیا۔ اگست 2022 میں ڈنڈار میں ایک صوبیدار نے دو لڑکیوں کو مسلسل جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا۔ مئی 2021 میں تین خواتین پر جنسی تشدد کے واقعات پیش آئے۔ آج بھی حبیبہ، ماجبین اور بلوچستان کی دیگر لاپتہ خواتین اسی خاموشی کا نتیجہ ہیں۔ یہ خاموشی اپنی جڑیں مزید مضبوط کر چکی ہے۔

اس بحران میں امید کی ایک کرن نظر آتی ہے جسے ہم “یکجہتی” کہتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی و سماجی شخصیات، پارٹیوں کے سربراہ اور کارکن مل کر اپنی خاموشی توڑیں، تاکہ اس کے اثرات مزید خواتین کو اپنی لپیٹ میں نہ لے سکیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔