بلوچستان کے ضلع چاغی اور کوئٹہ سمیت کراچی کے علاقے ماڑی پور سے 7 افراد کے جبری طور پر لاپتہ کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ کوئٹہ سے جبری گمشدگی کا شکار 3 افراد بازیاب ہو کر اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق 4 اگست 2026 کو چاغی کے علاقے کلی سید قادر سے دو نوجوانوں سید نظام شاہ ولد سید غیاث اور اظہر الحق ولد عبدالحکیم کو فرنٹیئر کور (ایف سی) اہلکاروں نے رات 3 بجے گھروں سے اٹھا کر لاپتہ کر دیا۔ 22 سالہ سید نظام شاہ زراعت سے وابستہ ہیں، جبکہ 18 سالہ اظہر الحق دکاندار ہیں۔
دوسری جانب کراچی کے علاقے ماڑی پور، ٹکری ولیج سے 16 اگست کو پانچ افراد کو CTD، پولیس اور رینجرز نے گھروں سے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا۔
لاپتہ افراد میں 30 سالہ امیر ولد احمد، 25 سالہ دوست محمد ولد قاسم، 20 سالہ محمد خالد ولد محمد شفیع، 20 سالہ شہباز احمد ولد نیاز احمد اور 25 سالہ سخی ولد کریم داد شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امیر اور سخی کو رات تقریباً 2 بجے، جبکہ دوست محمد، محمد خالد اور شہباز احمد کو شام 7:30 بجے ان کے گھروں سے اٹھایا گیا۔
ان افراد میں امیر اور سخی ماہی گیری سے وابستہ ہیں، دوست محمد مزدور، محمد خالد ماہی گیر جبکہ شہباز احمد طالب علم ہیں۔
دریں اثنا کوئٹہ سے جبری گمشدگی کا شکار سفی اللہ بلوچ، مدثر بلوچ اور آصف علی بازیاب ہو گئے ہیں۔
سفی اللہ بلوچ ولد مہراللہ بلوچ اور مدثر بلوچ ولد شیر دل بلوچ کو 24 جولائی 2026 کو سریاب روڈ کوئٹہ سے لاپتہ کیا گیا تھا۔ دونوں کو 13 اگست 2026 کو کوئٹہ کے ٹیکسی اسٹینڈ سے بازیاب کیا گیا۔
اسی طرح آصف علی ولد احمد رضا کو یکم اگست 2026 کو کلی شہید حاجی رمضان، جبلِ نور بائی پاس کوئٹہ سے لاپتہ کیا گیا تھا، جو 17 اگست 2026 کو کوئٹہ سے بازیاب ہو گئے۔















































