کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج جاری

22

کوئٹہ پریس کلب کے سامنے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام جبری گمشدگیوں کے خلاف قائم احتجاجی کیمپ چیئرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں 6218ویں روز بھی جاری رہا۔ اس موقع پر وی بی ایم پی کے سیکرٹری جنرل حوران بلوچ بھی موجود تھے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے لائنز فورم کے ڈپٹی آرگنائزر ایڈوکیٹ صدام بلوچ اور ایڈوکیٹ احسان بلوچ نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کرکے یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور تمام لاپتہ افراد کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔

احتجاج میں محمد خان نیچاری نے شرکت کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے بیٹے ذیشان 2 جنوری 2013 سے لاپتہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گمشدگی کے بعد کیچی بیگ پولیس تھانے میں رپورٹ درج کرائی گئی اور متعدد بار اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا گیا، تاہم آج تک ان کے بیٹے کی بازیابی عمل میں نہیں آسکی۔ انہوں نے کہا کہ آج ان کے بیٹے کے کیس کی کمیشن میں پیشی تھی اور انہوں نے حکام سے اپیل کی کہ ذیشان کی بازیابی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ جبری گمشدگیاں انسانیت کے خلاف جرم ہیں۔ ایک فرد کی جبری گمشدگی پورے خاندان کو کرب، اذیت اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیتی ہے۔ انہوں نے ذیشان سمیت تمام لاپتہ افراد کی باحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا۔