کوئٹہ پریس کلب کے سامنے جبری گمشدگیوں کے خلاف وی بی ایم پی کے زیرِ اہتمام قائم احتجاجی کیمپ آج 6215ویں روز بھی جاری رہا۔
اس موقع پر مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ شرکاء نے بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں اور لاپتہ افراد کے ماورائے عدالت قتل کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کرکے انہیں قانون کے مطابق عدالتوں میں پیش کیا جائے۔ مقررین نے کہا کہ جبری گمشدگیاں انسانی حقوق اور آئین کی خلاف ورزی ہیں، جن کا خاتمہ ناگزیر ہے۔
علاوہ ازیں، وی بی ایم پی نے اپنے جاری کردہ بیان میں جبری لاپتہ رمضان بلوچ کے بھائی اور گوادر میں معمارِ نو اکیڈمی کے پرنسپل عبد الحق بلوچ کے قتل پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں دورانِ حراست قتل کیا گیا، جو نہایت سنگین اور قابلِ مذمت واقعہ ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ اقدام بنیادی انسانی حقوق، آئین اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں کے منافی ہے۔
وی بی ایم پی نے کہا کہ اہلِ خانہ کے مطابق عبد الحق بلوچ کو رواں سال فروری میں گوادر سے فورسز نے حراست میں لیا تھا، جس کے بعد وہ لاپتہ تھے۔ اب ان کی لاش دیگر افراد کی لاشوں کے ساتھ ضلع گوادر کے علاقے جیوانی کے پنوان سے برآمد ہوئی ہے۔
اہلِ خانہ کے مطابق لاش پر تشدد کے نشانات موجود تھے۔ ان الزامات اور حالات کے پیشِ نظر ضروری ہے کہ واقعے کی فوری، آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق سامنے آسکیں اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔
بیان میں کہا گیا کہ اگر کسی شخص پر کسی قسم کا الزام ہو تو آئین اور قانون کے مطابق اسے عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے تاکہ اسے منصفانہ ٹرائل اور اپنے دفاع کا حق حاصل ہو۔ کسی بھی فرد کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنانا یا ماورائے عدالت قتل کرنا قانون کی حکمرانی اور انصاف کے بنیادی اصولوں کی نفی ہے۔

















































