بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6219ویں روز بھی جاری رہا۔
احتجاجی کیمپ میں آج مورو مری نے شرکت کرکے اپنے جبری لاپتہ پیاروں کی طویل جبری گمشدگی کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔
اس موقع پر مورو مری نے کہا کہ 2013 میں کوئٹہ کے علاقے پرانا بس اڈے سے صالح محمد مری ولد در محمد مری اور داد محمد مری ولد حاجی عرف باقر مری کو ملکی اداروں کے اہلکاروں نے جبری لاپتہ کردیا، لیکن آج تک انہیں انصاف نہیں مل سکا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر ان کے لاپتہ پیاروں پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے اور اگر وہ اس دنیا میں نہیں ہیں تو ان کے اہلِ خانہ کو حقیقت سے آگاہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگیوں کا تسلسل متاثرہ خاندانوں کے لیے مسلسل ذہنی اذیت اور بے چینی کا سبب بن رہا ہے۔ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون اور آئین کے مطابق شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں اور لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کو انصاف فراہم کریں۔
دریں اثناء وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ جبری گمشدگیوں کا مسئلہ بلوچستان کا سب سے سنگین انسانی حقوق کا مسئلہ بن چکا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صالح محمد مری، داد محمد مری اور دیگر تمام جبری لاپتہ افراد کی باحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جن افراد پر کوئی الزام ہے انہیں قانون کے مطابق عدالتوں میں پیش کیا جائے، جبکہ بے گناہ افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
نصراللہ بلوچ نے مزید کہا کہ وی بی ایم پی گزشتہ سترہ برس سے پرامن اور جمہوری انداز میں جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز بلند کر رہی ہے اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے حکومت، عدلیہ، پارلیمان اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کریں اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کریں۔
















































