بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے گزشتہ دس روز کے دوران مقبوضہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تئیس کامیاب کارروائیوں کو سرانجام دیا۔ ان حملوں میں قابض فورسز اور استحصالی کمپنیوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ مرکزی شاہراہوں پر معاشی ناکہ بندی کے تحت استحصالی گاڑیوں پر کارروائیاں کی گئیں۔ ان مجموعی حملوں میں قابض فوج کے سولہ اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے، جبکہ مختلف مقامات پر ہونے والی شدید جھڑپوں کے دوران بی ایل اے کے چار جانباز سرمچار دھرتی کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔
ترجمان نے کہاکہ 21 جون: سوراب میں مرکزی شاہراہ پر سرمچاروں نے ناکہ بندی کرکے گھنٹوں تک گاڑیوں کی تلاشی کا عمل جاری رکھا۔ اسی روز کوہلو کے علاقے نساؤ میں قابض پاکستانی فوج اور ریاستی آلہ کاروں (ڈیتھ اسکواڈ) نے علاقے میں پیش قدمی کرنے کی کوشش کی، جس پر سرمچاروں نے مختلف مقامات پر انہیں حملوں کا نشانہ بنایا۔ ان جھڑپوں میں دشمن فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہاکہ 23 جون: سرمچاروں نے خاران کے تین اہم مقامات، ساراوان، نوروز قلات اور زاروزئی پر مکمل کنٹرول حاصل کرکے اپنے حفاظتی ناکے قائم کیئے، اور یہ کنٹرول دو روز تک کامیابی سے برقرار رہا۔ اس دوران ساراوان میں دو اور زاروزئی میں ایک پل کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا گیا۔ اسی دوران نوروز قلات میں بی ایل اے کے سنائپرز نے قابض فوج کے تین اہلکاروں کو ہلاک کیا، جبکہ ساراوان میں دو روز تک قابض فورسز کے ساتھ جاری رہنے والی جھڑپوں میں دشمن کے مزید چار اہلکار موقع پر ہلاک ہوئے اور انہیں شدید جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ اسی روز بسیمہ میں ‘جُر’ کے مقام پر سرمچاروں نے قابض فوج پر اس وقت راکٹوں اور دیگر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا جب وہ فوجی جارحیت کی غرض سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اسی دن مستونگ کے علاقے ڈغاری کراس کے مقام پر سرمچاروں نے قابض فوج کے لیئے راشن لے جانے والی ایک گاڑی کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ مزید برآں، تربت کے علاقے خیر آباد میں قابض فوج کی ایک عسکری چوکی کو سرمچاروں نے حملے میں نشانہ بنا کر شدید نقصان پہنچایا، جبکہ چوکی پر نصب تمام جاسوسی کیمرے بھی تباہ کر دیئے۔
انہوں نے کہاکہ 25 جون: سرمچاروں نے مستونگ کے مقام شیخ واصل، اور نوشکی کے مقامات مل اور احمد وال پھاٹک پر مرکزی شاہراہوں پر معاشی ناکہ بندی کی۔ اس کارروائی کے دوران استحصالی کمپنیوں کی سات بڑی مال بردار گاڑیوں کو ضبط کر لیا گیا، جبکہ 10 گاڑیوں کو نذرِ آتش کرکے مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔
بیان میں کہاکہ 26 جون: خضدار کے علاقے زہری میں ‘بلبل’ کے مقام پر سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کو اس وقت مختلف حملوں کا نشانہ بنایا جب وہ علاقے میں فوجی جارحیت میں مصروف تھی۔ ان خونریز جھڑپوں میں قابض فوج کے چھ اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ اس وطن دفاعی معرکے میں بی ایل اے کے دو سرمچار سنگت ڈاکٹر عزیز اور سنگت ماما مرجان بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ اسی روز خضدار کے علاقے کرخ میں سرمچاروں نے اے ٹی ایف کی گاڑی پر مسلح حملہ کیا، جس کے نتیجے میں تھانہ انچارج (ایس ایچ او) سمیت دو اہلکار شدید زخمی ہوگئے۔ مزید برآں، خاران شہر کے قریب ‘بابِ خاران’ کے مقام پر سرمچاروں نے خاران تا کوئٹہ شاہراہ پر گھنٹوں ناکہ بندی برقرار رکھی، جبکہ جمعہ کی شب بسیمہ میں ‘چاکر سول’ کے مقام پر ریاستی آلہ کاروں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر کارروائی کرکے انہیں بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا۔
ترجمان نے کہاکہ 27 جون: کوئٹہ کے علاقے میاں غنڈی میں سرمچاروں نے پولیس کی ایک گاڑی کو ریموٹ کنٹرول نصب شدہ بارودی مواد (آئی ای ڈی) کے ذریعے نشانہ بنایا، جس میں چار پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ اسی روز دالبندین میں ‘یکمچ’ کے مقام پر معاشی ناکہ بندی کے تحت تین بڑے مال بردار ٹرالروں کے ٹائروں پر فائرنگ کر کے انہیں ناکارہ بنا دیا گیا۔
28 جون: مستونگ کے مقام ‘کمبیلا’ میں علاقے کے اندر پیش قدمی کرنے والی قابض پاکستانی فوج پر سرمچاروں نے حملہ کیا۔ ان جھڑپوں میں قابض فوج کے دو اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے، جبکہ بی ایل اے کے دو جری سرمچار سنگت جہانزیب اور سنگت کوہ زاد دھرتی کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔ اسی روز کیچ کے علاقے ہیرونک میں ‘نکیر’ کے مقام پر سرمچاروں نے قابض فوج کے پیدل گشتی دستے کو بارودی مواد کے دھماکے سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار موقع پر ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔ مزید برآں، خاران میں بابِ خاران کے قریب ایک استحصالی تعمیراتی کمپنی کے کیمپ کا کنٹرول سنبھال کر وہاں موجود تمام بھاری مشینری اور گاڑیوں کو نذرِ آتش کردیا گیا۔
مزید کہاکہ 30 جون: سرمچاروں نے معاشی ناکہ بندی کے تسلسل میں نوشکی کے مقام احمد وال پھاٹک اور مستونگ میں کانک کے مقام ‘ببری’ پر پانچ استحصالی گاڑیوں کو نذرِ آتش کر کے تباہ کر دیا۔ اسی روز کوئٹہ سے متصل ڈغاری کے علاقے میں سرمچاروں نے ‘زرغون گیس فیلڈ’ میں کام کرنے والی استحصالی کمپنی کے لیئے راشن لے جانے والی ایک گاڑی کو اپنی تحویل میں لے لیا، جبکہ گاڑی کا ڈرائیور بھی تنظیم کی حراست میں ہے جس سے تنظیمی ضوابط کے تحت تفتیش جاری ہے۔
آخر میں کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ مقبوضہ بلوچستان کی سرزمین سے غاصب پاکستانی فورسز کے مکمل اخراج اور قومی آزادی کے حصول تک مربوط عسکری کارروائیوں اور معاشی ناکہ بندی کا یہ سلسلہ مزید شدت کے ساتھ جاری رہے گا۔ دشمن ریاست کی معاشی اور عسکری شہہ رگوں پر کاری ضرب لگانا ہماری حکمتِ عملی کا بنیادی حصہ ہے، اور ان حالیہ کامیاب کارروائیوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ قابض ریاست اب اپنے نوآبادیاتی مفادات کا تحفظ کرنے اور اپنے گرتے ہوئے مالیاتی ڈھانچے کو سنبھالنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے۔ دھرتی کے وسائل کی لوٹ مار کو روکنا اور دشمن کو معاشی طور پر مفلوج کرنا ہمارا قومی فریضہ ہے، جس کی راہ میں سنگت ڈاکٹر عزیز، سنگت ماما مرجان، سنگت جہانزیب اور سنگت کوہ زاد جیسے جانباز سرمچاروں کی لازوال قربانیاں ہمارے انقلابی حوصلوں کو مزید جلا بخشتی ہیں۔ ہم ایک بار پھر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بلوچ مٹی پر غاصبانہ قبضے کو طول دینے والے فوجی ادارے ہوں، ان کے مقامی آلہ کار ہوں، یا دھرتی کے وسائل کو لوٹنے والے استحصالی شراکت دار، سب بی ایل اے کے نشانے پر رہیں گے، اور ہماری یہ حق و انصاف کی جنگ آزاد اور خودمختار بلوچ مملکت کے قیام تک بلا تعطل جاری رہے گی۔


















































