بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے بیان کے مطابق حالیہ مسلح جھڑپوں میں جاں بحق ہونے والوں میں انور بلسم عرف ڈاکٹر عزیز، حاجی خلیل شاہوانی عرف ماما مرجان، اسرار بلوچ عرف کوہ زاد اور رازق بلوچ عرف جہانزیب شامل ہیں۔
بی ایل اے کے مطابق، انور بلسم ولد حبیب اللہ زہری، جو تنظیم میں ڈاکٹر عزیز کے نام سے جانے جاتے تھے اور بنیادی طور پر باغبانہ، زہری، ضلع خضدار کے رہائشی تھے۔ تنظیم کے بیان کے مطابق انہوں نے 2016 میں شہری محاذ سے بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی، جبکہ 2022 میں پہاڑی محاذ پر منتقل ہوئے۔ وہ قلات اور خضدار کے محاذوں پر بطور گشتی کمانڈ ذمہ داریاں انجام دیتے رہے۔ بی ایل اے کا کہنا ہے کہ وہ 26 جون 2026 کو بلبل، زہری میں ایک مسلح جھڑپ کے دوران جان بحق ہوئے۔
تنظیم کے مطابق ڈاکٹر عزیر کے نام سے ساتھیوں کے درمیان انقلابی شناخت و پہچان رکھنے والے انور بلسم بنیادی طور پر باغبانہ، زہری، خضدار سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ بی ایل اے کے ان آزمائشی ساتھیوں میں شامل تھے جنہوں نے تنظیم سے اپنی 10 سالہ وابستگی کے دوران ہر طرح کی سختیوں اور مشکلات کا سامنا کیا، مگر فکری مضبوطی کے باعث تنظیم کے وقت کے ساتھ بدلتے ہوئے کلچر اور حالات میں مسلسل خود کو ڈھالتے رہے۔ انہوں نے اپنے اندر اس انقلابی کلچر کو آخر تک قائم رکھا اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک نئے اور مضبوط کردار کی صورت میں ابھرتے رہے۔ وہ قلات و زہری ریجن میں سرمچار ساتھیوں کے لیے ایک مہربان، جانباز، بہادر اور محنتی سرمچار کے طور پر یاد رکھے جاتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے ایک دہائی قبل بلوچ ریاست کی آزاد حیثیت اور خودمختاری کی بحالی کی جدوجہد میں بی ایل اے کے پلیٹ فارم سے جدوجہد کا آغاز کیا۔ تنظیمی کمانڈ کے احکامات کی روشنی میں انہوں نے چھ سال تک بطور شہری گوریلا کام کیا اور شہروں میں دشمن پر مائن کاری اور گھات لگا کر حملوں میں بھرپور انداز میں حصہ لیا۔ انہوں نے قلات و زہری کے محاذوں پر بطور گشتی کمانڈر انتہائی منظم حکمتِ عملی کے تحت فوجی آپریشنوں کی کامیاب قیادت کی۔ ان کی کمانڈ اور حکمت عملی کے نتیجے میں دشمن کو کئی مرتبہ سنگین نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ متعلقہ ریجن میں تنظیم کی وسعت اور طاقت کو مستحکم کرنے میں دیگر ساتھیوں کے ساتھ ان کا نہایت اہم کردار رہا۔ انہوں نے دشمن کے خلاف کئی اہم اور تاریخی معرکوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ انور بلسم صرف بندوق کے محاذ تک محدود نہیں تھے بلکہ شاعری کے میدان میں بھی ایک مزاحمت کار کے طور پر ساتھیوں کے درمیان جانے جاتے تھے۔ وہ مزاحمتی شاعری کے ذریعے قلم کے محاذ پر بھی سرخرو رہے۔ شہادت اور آزادی کے فلسفے پر یقین رکھنے والے انور بلسم 26 جون کو بلبل، زہری میں دشمن کی پیش قدمی کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر ڈٹے رہے اور کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی گمسان جنگ کے بعد دشمن کے ساتھ دوبدو لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ انہوں نے آخر تک بطور گشتی کمانڈ اور بہادر جنگجو علاقے میں تنظیمی برتری قائم رکھی اور دشمن کو ناکام بنایا۔
بی ایل اے کے مطابق، حاجی خلیل شاہوانی ولد حاجی قادر بخش شاہوانی، جو تنظیم میں ماما مرجان کے نام سے جانے جاتے تھے، کلی شاہنواز، سریاب مل، کوئٹہ کے رہائشی تھے۔ وہ بی اے کی سند حاصل کرچکے تھے۔ تنظیم کے بیان کے مطابق انہوں نے 2025 میں بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی اور قلات و زہری کے محاذ پر ذمہ داریاں انجام دیں۔ بی ایل اے کے مطابق وہ 26 جون 2026 کو ضلع خضدار کے علاقے بلبل، زہری میں ایک مسلح جھڑپ کے دوران جان بحق ہوئے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ حاجی خلیل شاہوانی عرف ماما مرجان بلوچ لبریشن آرمی کے ایک تعلیم یافتہ اور باشعور سرمچار تھے۔ انہوں نے بی اے تک تعلیم حاصل کی تھی، مگر انفرادی زندگی کو اہمیت دینے کے بجائے قومی اور اجتماعی مفادات کو ترجیح دی اور بلوچستان پر پاکستان کے غیر قانونی قبضے کے خاتمے کے لیے مسلح مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ ان کا یہ فیصلہ محض بندوق اٹھانے اور جنگ کرنے تک محدود نہیں تھا، بلکہ وہ اس اجتماعی فکر سے وابستہ تھے کہ ایک آزاد ریاست کے بغیر ہماری جغرافیائی سرزمین، قومی شناخت اور تاریخ کبھی بھی محفوظ نہیں رہ سکتی۔ اسی فکری بنیاد پر انہوں نے مسلح مزاحمت کو ایک سیاسی پروگرام کے طور پر سمجھتے ہوئے بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنی بنیادی ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد کمانڈ کے فیصلے کے تحت تنظیم کے فرنٹ لائن دفاعی محاذوں پر ذمہ داریاں سنبھالیں، جہاں انہوں نے دشمن کی پیش قدمیوں کے سامنے کئی مرتبہ ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اسے شکست سے دوچار کیا۔ آخر تک وہ ان دفاعی لائنوں کے دفاع میں ثابت قدم رہے اور وطن کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔ انہوں نے اپنے عمل، کردار اور ثابت قدمی سے واضح کر دیا کہ بلوچ مسلح قوت اب اس حد تک مضبوط ہو چکی ہے کہ وہ دشمن کی مصنوعی طاقت کا مقابلہ کر سکتی ہے اور اپنی جارحانہ و دفاعی حکمت عملیوں کو منطقی انجام تک پہنچا سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہید مرجان نے جنگ میں شمولیت کے وقت جو شعوری اور نظریاتی فیصلہ کیا تھا، وہ آخر دم تک اس پر ثابت قدم رہے اور اپنے عمل سے پوری قوم کے نام یہ پیغام چھوڑ گئے کہ ہمیں اس دشمن کا بھرپور مقابلہ کرنا چاہیے اور اسے بلوچستان سے بے دخل کرنا چاہیے۔ ان کی قربانیاں ایک آزاد اور خودمختار بلوچستان کی تاریخ کا ہمیشہ کے لیے حصہ رہیں گی۔
بی ایل اے کے مطابق، اسرار بلوچ ولد حاجی امان اللہ عیسیٰ زائی، جو تنظیم میں کوہ زاد کے نام سے جانے جاتے تھے، زیک بسیمہ کے رہائشی تھے۔ تنظیم کے بیان کے مطابق انہوں نے 2024 میں بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی اور بولان و کوئٹہ کے محاذ پر سرگرم رہے۔ بی ایل اے کے مطابق وہ 28 جون 2026 کو ضلع مستونگ کے علاقے کمبیلا میں ایک مسلح جھڑپ کے دوران جاں بحق ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ وطن کے دفاع کا عزم لیے بلوچ لبریشن آرمی میں 2024 میں شمولیت اختیار کرنے والے سنگت اسرار بلوچ نظریاتی اور فکری بنیادوں کے ساتھ ساتھ عملی میدان میں بھی ایک بہادر، دلیر اور موثر نتائج دینے والے ساتھیوں میں شمار ہوتا تھا۔ وہ ان ساتھی سرمچاروں میں شمار ہوتا تھا جو ہمیشہ قابض فوج کے اہلکاروں کے تعاقب میں رہتا تھا۔ انہوں نے اپنی دو سالہ قومی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران انتہائی بہادری، شجاعت اور غیر معمولی جرات کے مظاہرے کے ساتھ تنظیمی کمانڈ کے احکامات کے مطابق اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔
تنظیم کے مطابق انہوں نے کوئٹہ اور دشت کے محاذ پر اپنی خدمات دینے سے پہلے بولان کے محاذ پر کافی عرصہ تک سرگرم رہے اور علاقے میں دشمن پر بھاری اور جان لیوا حملوں میں حصہ لیا۔ بعد ازاں تنظیمی احکامات کی روشنی میں انہوں نے کوئٹہ اور دشت کے علاقوں میں دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر دشمن کے خلاف اہم کارروائیوں میں حصہ لیا اور علاقے میں فوج کی سپلائی روٹس کی ناکہ بندیوں اور فوج کی پیش قدمی کو مسلسل شکست سے دوچار کرتے رہے۔ انہوں نے آخری لمحے تک اپنی پیشہ ورانہ اور انقلابی ذمہ داریاں پوری کیں اور ساتھی سرمچاروں کے ساتھ مل کر دشمن کے لیے کوئٹہ کے ملحقہ علاقوں کو نوگو ایریاز میں تبدیل کر دیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے آخری لڑائی میں بھی دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچایا اور دوران جنگ شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوئے۔ شہید اسرار نے اجتماعی مقصد کے لیے جو قربانیاں دی ہیں وہ بلوچ تاریخ کے اوراق میں نقش رہیں گی اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال کے طور پر قائم رہیں گی کہ بلوچ قوم نے دشمن کے خلاف کس بہادری اور شجاعت سے لڑا ہے۔
بی ایل اے کے مطابق، رازق بلوچ ولد غلام محی الدین کرد، جو تنظیم میں جہانزیب کے نام سے جانے جاتے تھے، بہرام شئی، مستونگ کے رہائشی تھے۔ تنظیم کے بیان کے مطابق انہوں نے جون 2025 میں بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی اور ناگاہو، مستونگ کے محاذ پر سرگرم رہے۔ بی ایل اے کے مطابق وہ 28 جون 2026 کو ضلع مستونگ کے علاقے کمبیلا میں ایک مسلح جھڑپ کے دوران جان بحق ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ رازق عرف جہانزیب نے قومی غلامی، قبضہ گیر کے ہاتھوں اپنے لوگوں کی غیر انسانی تذلیل اور بلوچ ریاست کی ضرورت کو اجتماعی زندگی کا بنیادی جز سمجھ کر گزشتہ سال بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت اختیار کی تھی اور دشمن کے خلاف مسلح مزاحمت کا آغاز کیا۔ انہوں نے اس نہایت کم عرصے میں تنظیم کے نظم و ضبط اور کمانڈ اینڈ چین کو مکمل طور پر قبول کیا اور متعلقہ علاقوں میں تنظیمی طاقت کی برتری کو قائم رکھنے میں اپنا بھرپور انفرادی کردار ادا کیا۔ وہ ایک خوش مزاج، سنجیدہ اور تنظیمی ذمہ داریوں کو لے کر محنت کرنے والے ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال تنظیم میں شمولیت کے بعد تنظیمی احکامات کے تحت انہیں مستونگ کے فرنٹ پر تعینات کیا گیا جہاں انہوں نے انتہائی پیشہ ورانہ اور خلوص نیت سے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ انہی صلاحیتوں اور بہادری کی وجہ سے وہ فرنٹ لائن کے ایک جنگجو بن گئے اور تنظیم کے کنٹرول والے علاقوں میں جب بھی دشمن نے پیش قدمی کی کوشش کی، انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر دفاعی لائن کو مضبوطی سے برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنی مہارتوں سے واضح کیا کہ اب بلوچ فرزند اپنے وطن کا دفاع بہتر طریقے سے جانتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے صرف دفاعی نہیں بلکہ آپریشن ہیروف جیسے جارحانہ فوجی آپریشنز میں بھی اپنا بھرپور انفرادی کردار ادا کیا ہے۔ شہید رازق کا آخری دن تک اپنے وطن کے ساتھ مخلص رہنا اور قربانی کی انتہا تک قبول کرنا اس بات کی واضح علامت ہے کہ بلوچ فرزند اپنے ریاست کے دفاع و بحالی کے لیے کسی بھی طرح کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ ان کی قربانیاں تاریخ میں ہمیشہ نقش رہیں گی۔

















































