بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی جانب سے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور مرکزی رہنما صبغت اللہ کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کے خلاف اعلان کردہ احتجاج کے دوران شہر میں کشیدہ صورتحال دیکھنے میں آئی۔ عینی شاہدین اور مقامی ذرائع کے مطابق دفعہ 144، سکیورٹی ناکہ بندی، موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ کی بندش کے باوجود خواتین اور بچوں سمیت متعدد افراد نے ریلی نکالنے کی کوشش کی۔
ذرائع کے مطابق شام کے وقت مختلف علاقوں سے آنے والے مظاہرین شہید فدا چوک پہنچنے کی کوشش میں کامیاب ہوئے، تاہم وہاں تعینات ایف سی اور پولیس اہلکاروں نے انہیں احتجاج کی اجازت نہیں دی۔ اس دوران مختلف مقامات پر مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان دھکم پیل، ہاتھاپائی اور شدید نعرہ بازی کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
اطلاعات کے مطابق شہید فدا چوک پر خواتین پولیس اہلکاروں نے بعض خواتین اور بچوں کو حراست میں لینے کی کوشش کی، تاہم مظاہرین کی مزاحمت کے باعث صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ شہر کے مختلف مقامات سے احتجاج میں شریک ایک درجن سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا، تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
دریں اثنا مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ شب بھی ایف سی اور سی ٹی ڈی نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما سید بی بی شریف، گلزار دوست اور تقریباً 15 دیگر افراد کو حراست میں لیا، جن میں سات خواتین بھی شامل ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ ان گرفتاریوں کی بھی سرکاری طور پر تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔
واقعے کے حوالے سے حکام کی جانب سے تاحال کوئی تفصیلی مؤقف جاری نہیں کیا گیا،













































