بلوچستان تجارت پر حملے: عدم تحفظ کا شکار، گڈز اور بس مالکان کا کوئٹہ کراچی روٹ پر گاڑیاں نہ چلانے کا اعلان

23

آل پاکستان مزدا ٹرک، بس کوچ ایسوسی ایشن اور بلوچستان گڈز ٹرک اونر ایسوسی ایشن رہنماؤں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت آج بھی قومی شاہراوں پر ٹرانسپورٹرز کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے۔

ایسوسیشن رہنمائی رحیم کاکڑ نے کہا ہے کہ آج سے مزدہ ٹرک و بس مالکان یے اعلان کرتے ہیں کہ کوئٹہ کراچی روٹ پر کوئی بھی گاڑی نہیں چلائی جائیگی۔

خیال رہے اس سے قبل معدنیات لیجانے والی ٹرانسپورٹرز نے بلوچستان میں لوڈنگ غیر معینہ مدت کیلئے بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

بلوچستان گڈز ٹرک اونرز ایسوسی ایشن اور آل بلوچستان منی مزدا گڈز ٹرک اونرز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں اور ٹرک مالکان کا کہنا تھا کہ حالیہ حملوں میں درجنوں ٹرکوں کو نقصان پہنچایا گیا، جس کے باعث معدنیات کی ترسیل میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

واضح رہے اہم شاہراہ  کوئٹہ تفتان روٹ پر گذشتہ مہینوں سے معدنیات لیجانے والی گاڑیوں سمیت دیگر گاڑیوں پر حملوں کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں۔

مذکورہ واقعات کی ذمہ داری بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچ وسائل کی لوٹ مار میں ملوث گاڑیوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔

ترجمان جیئند بلوچ نے کہا کہ کوئٹہ–تفتان مرکزی شاہراہ پر بی ایل اے اب مکمل کنٹرول حاصل کرچکی ہے اور یہ پوری شاہراہ اب بی ایل اے کے زیرِ کنٹرول خطے کا حصہ ہے۔

بی ایل اے بیان کے مطابق ہم اب کسی بھی صورت بلوچ وسائل اور معدنیات کو لوٹ کر لے جانے والے گاڑیوں کے ٹرکوں، ٹریلرز یا کسی بھی قسم کے قافلوں کو یہاں سے گزرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔