بلوچستان سے معدنیات لے جانے والی گاڑیوں پر حملوں کے باعث ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے گاڑیاں روکنے کا اعلان کردیا۔
بلوچستان گڈز ٹرک اونرز ایسوسی ایشن اور آل بلوچستان منی مزدا گڈز ٹرک اونرز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں بلوچستان بھر سے ٹرک مالکان نے شرکت کی۔
اجلاس میں حالیہ دنوں بلوچستان کے مختلف علاقوں، بشمول مستونگ، خاران، نوشکی، چاغی اور دیگر علاقوں میں معدنیات لے جانے والی ٹرکوں پر ہونے والے حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اس موقع پر بلوچستان گڈز ٹرک اونرز ایسوسی ایشن اور آل بلوچستان منی مزدا گڈز ٹرک اونرز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں اور ٹرک مالکان نے کہا کہ حالیہ حملوں میں درجنوں ٹرکوں کو نقصان پہنچایا گیا، جس کے باعث معدنیات کی ترسیل میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات اور واقعات کے پیش نظر دونوں ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنز کے رہنماؤں اور ٹرک مالکان نے ہدایت کی ہے کہ معدنیات لوڈ نہ کی جائیں، مزید اعلانات کل بروز منگل ایک پریس کانفرنس میں کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں گزشتہ دنوں مستونگ، خاران اور نوشکی کے قریب بلوچستان سے کراچی اور پنجاب جانے والی معدنیات بردار ٹرکوں اور ان کی سیکیورٹی پر مامور پاکستانی فورسز کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
گزشتہ ہفتے ضلع نوشکی میں سیندک سے سونا اور دیگر معدنیات لے جانے والی بیس سے زائد ٹرالر گاڑیوں اور ان کی سیکیورٹی پر مسلح افراد کی بڑی تعداد نے راکٹوں اور دیگر ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں آٹھ سے زائد گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔
اس حملے میں پاکستانی فورسز کے چھ سے زائد اہلکار بھی ہلاک ہوئے تھے۔
اس کے علاوہ خاران میں معدنیات لے جانے والی دو جبکہ مستونگ میں تین گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا، جبکہ دالبندین سے معدنیات نکالنے والی کمپنی کے تین غیر مقامی ارکان کو مسلح افراد نے اغوا کرلیا تھا جن کی لاشیں آج برآمد ہوئی ہے۔
مذکورہ واقعات کی ذمہ داری بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچ وسائل کی لوٹ مار میں ملوث گاڑیوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔
ترجمان جیئند بلوچ نے کہا کہ کوئٹہ–تفتان مرکزی شاہراہ پر بی ایل اے اب مکمل کنٹرول حاصل کرچکی ہے اور یہ پوری شاہراہ اب بی ایل اے کے زیرِ کنٹرول خطے کا حصہ ہے۔ ہم اب کسی بھی صورت بلوچ وسائل اور معدنیات کو لوٹ کر لے جانے والے گاڑیوں کے ٹرکوں، ٹریلرز یا کسی بھی قسم کے قافلوں کو یہاں سے گزرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جو بھی کمپنیاں، ٹھیکیدار یا ٹرانسپورٹرز بلوچ وسائل کی اس غاصبانہ لوٹ مار کا حصہ بنیں گے، وہ اپنے ہر قسم کے جانی و مالی نقصان کے خود ذمہ دار ہوں گے۔


















































