بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ نے آج، بروز پیر، 6,300 دن مکمل کر لیے۔ یہ کیمپ گزشتہ سترہ برس سے زائد عرصے سے جبری لاپتہ افراد کی بازیابی، ماورائے قانون اقدامات کے خاتمے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی کے مطالبے کے لیے مسلسل جاری ہے۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین، نصراللہ بلوچ، نے کہا کہ جبری گمشدگیاں آئینِ پاکستان، ملکی قوانین اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ تنظیم نے حکومتِ پاکستان، عدلیہ، پارلیمان اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ لاپتہ افراد کے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے، تمام جبری لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا جائے اور متاثرہ خاندانوں کی دہائیوں پر محیط اذیت کا خاتمہ کیا جائے۔
وی بی ایم پی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جب تک تمام جبری لاپتہ افراد بازیاب نہیں ہو جاتے اور انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے جاتے، احتجاجی جدوجہد پرامن اور آئینی دائرے میں جاری رہے گی۔



















































