پنجگور: ایک سال سے جبری گمشدگی کے شکار شخص کی گولیوں سے چھلنی لاش برآمد

33

ضلع پنجگور کے علاقے گرمکان روڈ سے 14 سالہ شہزاد ولد نذیر کی گولیوں سے چھلنی لاش برآمد ہوئی ہے۔ لاش کو ضروری کارروائی کے لیے سول ہسپتال پنجگور منتقل کر دیا گیا۔

اہلخانہ کے مطابق شہزاد کو 31 مئی 2025 کی شب ضلع پنجگور کے علاقے پروم سے پاکستانی فورسز نے حراست میں لیا تھا، جس کے بعد سے وہ جبری طور پر لاپتہ تھے۔ خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں کسی عدالت میں پیش کیا گیا اور نہ ہی ان کی گرفتاری سے متعلق کسی سرکاری ادارے نے معلومات فراہم کیں۔

ذرائع کے مطابق 31 مئی کی رات تقریباً 12 بجے پروم کے علاقوں رحیم آباد اور نعیم آباد میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کیا گیا، جہاں پاکستانی فورسز نے پورے علاقے کا محاصرہ کر کے متعدد گھروں پر چھاپے مارے۔ اہلخانہ کا دعویٰ ہے کہ اس کارروائی میں پاکستانی فورسز کے ساتھ مقامی مسلح افراد بھی شریک تھے، جنہیں مقامی حلقے “ڈیتھ اسکواڈ” کے نام سے جانتے ہیں۔

خاندانی ذرائع کے مطابق رحیم آباد میں چھاپے کے دوران شہزاد کو ان کے گھر سے حراست میں لے جایا گیا، جس کے بعد ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ کئی ماہ تک ان کی بازیابی کے لیے اہلخانہ مختلف حکام سے رجوع کرتے رہے، تاہم انہیں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

اب ایک سال بعد گرمکان روڈ سے شہزاد کی گولیوں سے چھلنی لاش ہوئی ہے۔