قلات اور گومازی میں ناکہ بندیوں اور جھڑپ میں 7 فوجی اہلکار ہلاک، متعدد زخمی: میجر گہرام بلوچ

14

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 23 جولائی 2026 کو قلات کے علاقے منگچر میں مین ہائی وے پر دو گھنٹے سے زائد وقت تک ناکہ بندی کر کے اسنیپ چیکنگ کی اور اس دوران سرمچاروں نے شاہراہ پر نقل و حرکت کرنے والی تمام گاڑیوں کی تلاشی لی۔ ناکہ بندی ختم ہونے کے بعد قابض فوج نے علاقے میں پیش قدمی کرنے کی کوشش کی۔ تاہم پہلے سے مستعد سرمچاروں نے ان پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے موثر حملہ کیا۔ اس جوابی کارروائی کے نتیجے میں قابض فوج کے دو اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جانی و مالی نقصان کے بعد پاکستان فوج کے باقی اہلکار پسپا ہو کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔

ترجمان نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں، 22 جولائی 2026 کو ہمارے سرمچار تمپ کے علاقے گومازی میں معمول کے تنظیمی امور کی انجام دہی اور علاقے کی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے گشت پر تھے۔ اسی اثنا میں قابض پاکستانی فوج نے سرمچاروں کی پیش قدمی روکنے اور انہیں محاصرے میں لینے کی غرض سے ان کے راستے پر پیشگی ناکہ بندی کر رکھی تھی۔ سرمچاروں نے پیش قدمی کے دوران قابض فوج پر حملہ کیا اور دونوں اطراف سے شدید جھڑپ کا آغاز ہوا جو ایک گھنٹے سے زائد وقت تک مسلسل جاری رہا۔ سرمچاروں کی موثر جوابی کارروائی کے نتیجے میں قابض پاکستانی فوج کے 5 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ 22 جولائی 2026 کے روز ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے قلات کے علاقے رودینجُو کے مقام پر مین شاہراہ پر ناکہ بندی کر کے گاڑیوں کی تلاشی لی۔ ناکہ بندی کے دوران قابض فوج نے آگے بڑھنے کی کوشش کی اور سرمچاروں کی مورچوں پر مارٹر کے متعدد گولے داغے، سرمچاروں کے حفاظتی دستوں نے بروقت جوابی کارروائی کرتے ہوئے ان پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ اس کارروائی کے دوران آر پی جی کا گولہ لگنے سے دشمن کی ایک فوجی گاڑی کو شدید نقصان پہنچا اور فوج کو جانی نقصان اٹھانا پڑا، جس کے بعد قابض اہلکار پسپا ہو کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ قلات اور گومازی میں ناکہ بندیوں اور جھڑپوں میں قابض پاکستانی فوج کے 7 اہلکاروں کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔