جیونی واقعے کے بعد محمد عبد الحق سمیت متعدد جبری لاپتہ افراد کی لاشیں برآمد۔ بی وائی سی

64

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے بعد ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ جاری ہے، جہاں حالیہ دنوں میں جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

کمیٹی کے مطابق گوادر کے علاقے جیونی میں ہونے والے بم دھماکے کے بعد پاکستانی فورسز نے پانچ جبری طور پر لاپتہ افراد کو قتل کر کے ان کی لاشیں پھینک دیں، جن میں اسکول پرنسپل اور استاد محمد عبد الحق ولد محمد مراد بھی شامل تھے۔

محمد عبد الحق، جو گوادر کے علاقے منڈی کے رہائشی تھے، کو 24 جنوری 2026 کو پاکستانی فورسز نے ان کے گھر پر چھاپے کے دوران حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔ ان کے اہلِ خانہ کئی ماہ تک ان کی بازیابی کے لیے کوششیں کرتے رہے، جبکہ بی وائی سی کے مطابق حکام کی جانب سے انہیں رہائی کی یقین دہانیاں بھی کرائی جاتی رہیں، تاہم وہ واپس نہ آ سکے۔

بی وائی سی کا کہنا ہے کہ محمد عبد الحق کو طویل حراست کے بعد تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا اور بعد ازاں ان کی لاش دیگر افراد کے ہمراہ پھینک دی گئی۔ کمیٹی نے کہا کہ بلوچستان میں یہ ایک بار بار دہرایا جانے والا طرزِ عمل بن چکا ہے، جہاں جبری طور پر لاپتہ افراد کو بعد میں قتل کر کے انہیں عسکریت پسند قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔

مزید کہا ہے کہ اسی دوران تربت کے علاقے جوسک میں 24 سالہ پیٹرول پمپ مالک علی نیاز احمد کی لاش بھی برآمد ہوئی۔ بی وائی سی کے مطابق علی نیاز احمد کو 30 جون 2026 کو شام کے وقت ان کے پیٹرول پمپ سے
ایم آئی اور ڈیتھ اسکواڈ کے اہلکاروں نے دو سرف گاڑیوں میں زبردستی اپنے ساتھ لے جا کر لاپتہ کیا تھا۔

کمیٹی کے مطابق سات روز بعد 6 جولائی کو علی نیاز احمد کی لاش سی پیک روڈ کے قریب سے ملی، جس پر گولیوں کے نشانات اور تشدد کے آثار موجود تھے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ علی کے اہلِ خانہ کو ان کی گرفتاری یا حراست کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج کیا گیا۔

بی وائی سی نے کہا کہ جبری طور پر لاپتہ افراد کو قتل کرنے کے بعد انہیں دہشت گرد قرار دینا نہ انصاف ہے اور نہ ہی اس مسئلے کا حل، بلکہ اس سے متاثرہ خاندانوں کی تکالیف میں اضافہ ہوتا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ بلوچستان کا دورہ کریں، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات کی آزادانہ تحقیقات کریں اور ذمہ داروں کے احتساب کے لیے کردار ادا کریں۔