بلوچستان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر چین کا انتباہ: بلوچستان میں سینڈک منصوبے کی سرگرمیاں معطل ہو سکتی ہیں۔

1

بلوچستان کی موجودہ صورتحال نے چینی سرمایہ کاری، کے لیے ایک بڑا چیلنج پیدا کر دیا ہے۔ جون 2026 میں سینڈک میٹلز لمیٹڈ نے وفاقی وزارتِ توانائی کو ایک خط میں خبردار کیا کہ بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث ضروری سامان کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، اور اگر حالات میں بہتری نہ آئی تو سینڈک کاپر۔گولڈ پراجیکٹ کو ایک ماہ کے اندر اپنی سرگرمیاں معطل کرنا پڑ سکتی ہیں۔

سینڈک میٹلز لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر نے پاکستان کی وزارتِ توانائی کو 29 جون کو لکھے گئے ایک خط میں، جس کا جائزہ فنانشل ٹائمز نے لیا اور جسے اس سے پہلے عوامی طور پر رپورٹ نہیں کیا گیا تھا، کہا “بلوچستان میں موجودہ صورتحال نے منصوبے کے لیے ضروری سامان کی ترسیل کو شدید متاثر کیا ہے۔

انہوں نے مزید خبردار کیا “اگر یہ صورتحال اسی طرح برقرار رہی تو سینڈک کاپر گولڈ پراجیکٹ کی بلا تعطل سرگرمیوں کو جاری رکھنا ممکن نہیں رہے گا، اور ضروری پیداواری مواد اور لاجسٹک سپورٹ کی عدم دستیابی کے باعث آئندہ ایک ماہ کے اندر منصوبے کی سرگرمیاں بند ہونے کا سنگین خدشہ ہے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں بلوچ لبریشن آرمی نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں متعدد شاہراہوں پر عارضی کنٹرول اور ناکہ بندیاں قائم کی ہیں، جنہیں تنظیم نے اپنی جانب سے “معاشی ناکہ بندی” قرار دیا۔ تنظیم کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد معدنی وسائل، تجارتی سرگرمیوں اور ریاستی سپلائی لائنز کو متاثر کرنا ہے۔

شاہراہوں پر حملوں اور سکیورٹی خدشات کے باعث ضروری سامان کی ترسیل کا نظام شدید متاثر ہو رہا ہے۔ بلوچستان کے بعض علاقوں میں ٹرانسپورٹ کمپنیاں بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر اپنی سرگرمیاں محدود کر رہی ہیں یا کام کرنے سے گریز کر رہی ہیں۔

اسی صورتحال کے باعث خام مال اور دیگر ضروری پیداواری اشیاء کی بروقت فراہمی ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ اگر صورتحال میں بہتری نہ آئی اور موجودہ رکاوٹیں برقرار رہیں تو اس کے نتیجے میں منصوبے کی پیداواری سرگرمیاں متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ آپریشنز کے تسلسل پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

چین گزشتہ ایک دہائی سے بلوچستان میں سب سے بڑا غیر ملکی سرمایہ کار ہے۔ سی پیک کے تحت اربوں ڈالر کے منصوبے جاری ہیں جن میں، گوادر بندرگاہ سینڈک کاپر گولڈ پراجیکٹ، ریکوڈک منصوبہ، توانائی اور شاہراہوں کے منصوبے شامل ہیں۔

بلوچستان کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے ان منصوبوں کے لیے خطرات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں متعدد حملوں میں چینی انجینئرز، تکنیکی ماہرین اور ان کے قافلوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان واقعات کے بعد چین نے متعدد مرتبہ پاکستانی حکومت سے اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے مزید مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔