کیا اربابِ اختیار کو اس بات کا اندازہ ہے کہ بلوچستان کے حوالے سے حکومتی بیانیہ نہایت غیر مقبول ہے؟ طاہر بزنجو

1

نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما سابق سینیٹر میر طاہر بزنجو نے کہا ہے کہ آئین کے پارلیمانی تشخص کو ختم کر کے اسے صدارتی نظام میں بدلنا، 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو ملنے والے اختیارات واپس لینا، این ایف سی فارمولے میں تبدیلی، نئے صوبوں کا قیام اور ملک کے طول و عرض میں مخصوص علاقوں کو وفاق کے زیر انتظام لانا اسٹیبلشمنٹ کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ آئینی ترامیم کے بغیر یہ اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ جب 26ویں ترمیم لائی گئی تو حکومتی دانشوروں نے انکشاف کیا کہ 27ویں ترمیم بھی آ رہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ جب 27ویں ترمیم لائی گئی تو پھر کہنے لگے کہ 28ویں ترمیم بھی آ رہی ہے۔ سچ یہ ہے کہ 28ویں ترمیم کے بعد بھی ترامیم کا سلسلہ نہیں رکے گا اور یہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ان اہداف کو حاصل نہ کر لیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ مضبوط جمہوریت، قومی برابری، ڈھیلی ڈھالی فیڈریشن اور مضبوط صوبے ہی مضبوط پاکستان جنم دے سکتے ہیں۔ سخت مرکزیت کا انجام تباہ کن ثابت ہو گا۔ میر غوث بخش بزنجو کہا کرتے تھے کہ جب نسخے پرانے ہوں تو نتیجہ بھی پرانا ہی نکلتا ہے۔

دریں اثنا میر طاہر بزنجو نے کہا کہ تعلیمی اداروں سے وابستہ قابل اور لائق بلوچ اساتذہ کے قتل اور اغوا کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ کیا اربابِ اختیار کو اس بات کا اندازہ ہے کہ بلوچستان کے حوالے سے حکومتی بیانیہ نہایت غیر مقبول ہے؟ اور یہ کہ عام بلوچ ان افسوسناک واقعات کا ذمہ دار حکومتِ وقت کو قرار دیتا ہے۔