خاموشی کی موت نہیں مرنا
تحریر: کاکا انور بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
بلوچ معاشرے میں ایک بڑا المیہ لاپتہ افراد کا مسئلہ ہے۔ والدین اپنے بچوں کو بڑی محنت اور قربانیوں سے پالتے ہیں، ان کی تعلیم و تربیت کرتے ہیں اور ان کے روشن مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں۔ لیکن جب کوئی نوجوان اچانک غائب ہو جائے، برسوں تک اس کے بارے میں کوئی خبر نہ ملے، یا خاندان مسلسل بے یقینی میں مبتلا رہے، تو یہ اذیت صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتی بلکہ پورے خاندان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ ایک ماں کی بے قراری، ایک باپ کی خاموش تکلیف، بہن بھائیوں کی انتظار بھری زندگی اور بچوں کی محرومی ایک ایسا درد ہے جسے الفاظ میں مکمل طور پر بیان کرنا ممکن نہیں۔
ایسے حالات پیدا ہو چکے ہیں کہ بلوچ معاشرہ شدید اضطراب، بے یقینی اور اذیت کے دور سے گزر رہا ہے۔ جب ظلم، جبر، خوف اور بے بسی روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائیں تو انسان کے سامنے یہ بنیادی سوال کھڑا ہو جاتا ہے کہ آخر وہ کب تک خاموشی سے سب کچھ برداشت کرتا رہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں عزت، وقار اور خاندانی احترام بنیادی اقدار سمجھی جاتی ہیں، وہاں اس قسم کے رویے اجتماعی اذیت کا سبب بنتے ہیں اور اس اذیت کے خلاف لوگوں کے پاس صرف ایک فیصلہ باقی رہے جاتا ہے کہ خاموشی سے مرو یا قبضہ گیریت کے خلاف مزاحمت کرو۔
بلوچستان میں برسوں سے قابض پاکستان کی جبر سے ہر فرد اور ہر گھر متاثر ہے۔ گھروں پر چھاپے، خواتین اور بزرگوں کی تذلیل، نوجوانوں کی گرفتاریاں، سڑکوں پر تشدد اور عوام کے ساتھ ناروا سلوک ایسے مناظر ہیں جنہوں نے لوگوں کے دلوں میں ایک ایسی نفرت پیدا کر دی ہے، جو پاکستانی قبضہ گیریت کے لیے موت ہے۔
بلوچستان میں پاکستانی قبضہ گیریت کی ایک اور درد ناک شکل مقامی لوگوں کو دلال اور ایجنٹ بنانا ہے۔ یہ مقامی دلال اور مخبر صرف معمولی رقم کے عوض اپنے گھروں کی چادر و چاردیواری کی پامالی کرکے اپنی ہی آباؤاجداد کی روایات پاؤں تلے روند دیتے ہیں۔جب یہ ڈیتھ اسکواڈ والے گھروں میں داخل ہو کر خواتین پر تشدد کرتے ہیں، بزرگوں کی بے حرمتی کریں یا خاندانوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کرتے ہیں تو یہ لوگ اپنے آباؤ اجداد کی قبر کی مٹی کی بھی بے حرمتی کررہے ہوتے ہیں کیونکہ ان کے آباؤ اجداد کو معلوم نہیں تھا کہ ان کے آنے والے نسلیں 5 ہزار کے لیے دلال اور مخبر بن جائے گے۔
بلوچستان میں ہزاروں لوگ اپنی روزی روٹی کے لیے بارڈر میں سخت ترین حالات میں کام کرتے ہیں تاکہ اپنے بچوں اور بزرگ والدین کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام کر سکیں۔ جب یہی ڈیتھ اسکواڈ کے لوگ اپنے پنجابی آقا کے ساتھ ملکر انہی محنت کشوں کو تشدد، لوٹ مار اور ان کی بے عزتی کرتے ہیں تو یہ لوگ خاموش نہیں رہے سکتے ہیں کیونکہ یہ غریب ضرور ہیں، مزدور ضرور ہیں لیکن بے غیرت نہیں اس لیے ان کے لئے ہر روز آپ کے ہاتھوں بے عزت ہونے سے ہزار درجہ بہتر ہے کہ وہ آپ بندوق لیکر آپ کے خلاف جنگ کریں۔
جب کوئی شخص اپنے حقوق، انصاف یا بہتر زندگی کی بات کرتا ہے اور اس کے جواب میں اسے تشدد، بے عزتی، تکلیف اور اس کی عزت و نفس مجروح کیا جائے تو لوگ مستقل خاموش نہیں رہ سکتے ہیں۔ لوگ یہ سوچنے لگتے ہیں کہ اگر آج کسی اور کے ساتھ یہ سب ہو رہا ہے تو کل ان کی باری بھی آ سکتی ہے۔ اس لیے ان کے پاس ایک ہی راستہ باقی رہے جاتا ہے کہ وہ بندوق اٹھائے اور دشمن کے خلاف جنگ کریں۔
تاریخ گواہ ہے کہ ظلم اور ناانصافی کبھی بھی مستقل حل ثابت نہیں ہوئے۔ طاقت کے ذریعے خاموشی تو مسلط کی جا سکتی ہے، لیکن دلوں کے اندر موجود سوالات، احساسات اور مطالبات کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ہر وہ معاشرہ جو عزت، انصاف اور انسانی وقار سے محروم ہو، بالآخر اپنے اندر شدید بے چینی پیدا کرتا ہے۔
بلوچستان کے عوام بھی بنیادی طور پر عزت، انصاف، تحفظ اور باوقار زندگی کے خواہاں ہیں۔ اگر پاکستان کے ہاتھوں نہ عزت محفوظ ہے اور نہ ہی وقار محفوظ ہے تو عام لوگوں کے پاس آخری راستہ کیا ہے؟ آج بلوچ معاشرے کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا ہمیں اپنے وجود، اپنی عزت اور اپنے مستقبل کے لیے مسلسل خوف میں جینا پڑے گا؟ یہی وہ سوال ہے جو ہر گھر، ہر خاندان اور ہر دل میں موجود ہے، اور اسی سوال کا منصفانہ جواب یہی ہے کا اس نظام کے خلاف، اس پاکستانی جبر کے خلاف صرف ایک ہی راستہ بندوق اٹھاکر جنگ کیا جائے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔












































