بلوچستان کے لوگ روزانہ بڑی تعداد میں پہاڑوں کا رخ کر رہے ہیں۔ سردار عمر گورگیج

14

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما، سینیٹر سردار عمر گورگیج نے سینیٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب سے ہوش سنبھالا ہے، بلوچستان میں فوجی آپریشن جاری ہے۔ لوگ تنگ آ چکے ہیں، جبکہ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے بغاوت کی راہ اختیار کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت بلوچستان کے پہاڑوں میں ایک لاکھ سے زائد افراد موجود ہیں، جبکہ روزانہ بڑی تعداد میں لوگ پہاڑوں کا رخ کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ آج بھی پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں، ریاست کو چاہیے کہ انہیں سنبھالے اور پہاڑوں کا رخ کرنے سے روکے۔ بلوچ اور پشتون عزت چاہتے ہیں، بندوق کے ذریعے کبھی کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا۔ بلوچستان سے نکلنے والی گیس پنجاب کو فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ ہمارے پندرہ اضلاع آج بھی گیس کی سہولت سے محروم ہیں۔ پھر کہا جاتا ہے کہ بلوچ خراب ہیں، حالانکہ بلوچوں کی بات سننے کی ضرورت ہے۔

سردار عمر گورگیج نے کہا کہ بلوچستان کے حالات اس قدر خراب ہیں کہ ہم اپنے ہی حلقوں میں نہیں جا سکتے۔ ایک خاتون کو جیل میں رکھنا کوئی بڑا کارنامہ نہیں، اس مسئلے کو بھی بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اگر اسی طرح لوگ مسلسل پہاڑوں کا رخ کرتے رہے تو آگے چل کر ملک کا کیا بنے گا؟ ایک طرف فوج ہے اور دوسری طرف بلوچ مارے جا رہے ہیں۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ جو لوگ آج بھی پاکستان کی بات کر رہے ہیں، انہیں پہاڑوں کی طرف دھکیلنے کے بجائے ان سے بات کی جائے، ان کے مسائل سنے جائیں اور ان کے مزاج کو سمجھا جائے۔