گوادر میں چینی کمپنی ‘ہینگینگ ٹریڈ’ کا آپریشنز بند کرنے اور فیکٹری کی تالا بندی کا اعلان

70

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں فری زون میں کام کرنے والی معروف چینی کمپنی “ہینگینگ ٹریڈ کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ” نے انتہائی افسوس کے ساتھ پاکستان میں اپنے تمام آپریشنز فوری طور پر بند کرنے اور فیکٹری کو تالا لگانے کا اعلان کر دیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ فیصلہ مسلسل درپیش غیر مارکیٹ عوامل اور آپریشنل رکاوٹوں کی وجہ سے کیا گیا ہے جس کے باعث اب کاروبار چلانا ممکن نہیں رہا۔

کمپنی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں درج ذیل اہم نکات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ برآمدات میں رکاوٹیں: کمپنی کی سہولیات چینی کسٹمز اور بین الاقوامی فوڈ سیفٹی (HACCP) کے تمام معیارات پر پوری اترتی ہیں، اس کے باوجود عملی طور پر برآمدات کے لیے ضروری منظوریوں کو مسلسل روکا گیا ہے۔

گزشتہ تین ماہ سے کمپنی تمام متعلقہ حکام کے ساتھ تعاون کر رہی تھی، لیکن اس دوران برآمدات بند ہونے کی وجہ سے کمپنی کو ملازمین کی تنخواہوں، بجلی کے بلوں اور کنٹینر ڈیمریج چارجز کی مد میں شدید مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔

کمپنی کا مؤقف ہے کہ درپیش چیلنجز اب تکنیکی نہیں رہے بلکہ ان کا تعلق انتظامی غیر یقینی صورتحال اور سیسٹیمک رکاوٹوں سے ہے، جنہوں نے کاروبار کی بقا ناممکن بنا دی ہے۔

ہینگینگ گروپ نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے خواہشمند دیگر بین الاقوامی اداروں اور B2B فورم میں شرکت کرنے والی کمپنیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ یہاں سرمایہ کاری سے قبل پالیسیوں کے نفاذ میں پائے جانے والے فرق اور ادارہ جاتی غیر یقینی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیں۔

کمپنی انتظامیہ نے اپنے پاکستانی اور چینی ملازمین سے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں وہ مزید مستحکم روزگار فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ بیان میں کہا گیا، “ہمیں واقعی افسوس ہے، ہم نے اپنی بساط کے مطابق ہر ممکن کوشش کی”۔
کمپنی نے واضح کیا کہ وہ گوادر پورٹ کو فعال کرنے اور سی پیک (CPEC) کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے مکمل تیار تھی، لیکن اس کے لیے جس مستحکم اور واضح پالیسی ماحول کی ضرورت تھی، وہ فراہم نہیں کیا جا سکا۔

خیال رہے کہ یہ کمپنی سی پیک پروجیکٹ کا حصہ ہے، سی پیک کو بلوچ سیاسی و عسکری حلقوں کی جانب سے استحصالی منصوبہ قرار دیا جاچکا ہے جس کے ردعمل میں سیاسی حلقوں کی جانب سے اندرون و بیرون ملک مختلف فورمز پر احتجاج کرنا اور بلوچ مسلح آزادی پسند جماعتوں کی جانب سے سی پیک و دیگر تنصیبات کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

یاد رہے کہ گوادر پورٹ ، سی پیک، سیندک اور دیگر پراجیکٹس کے باعث بلوچستان میں چائنیز انجینئروں و دیگر اہلکاروں پر خودکش حملوں میں شدت دیکھنے میں آئی ہے۔

بلوچ لبریشن آرمی دو ہزار اٹھارہ سے مسلسل چین کے معاشی اور عسکری مفادات کو نشانہ بنا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق کراچی سمیت بلوچستان میں انتہائی حساس مقام پر سخت سیکورٹی حصار میں چین کے انجنئیرز پر بی ایل اے فدائین یونٹ مجید بریگیڈ اور انٹیلجنس ونگ زراب کے کامیاب حملے سے واضح ہوتا ہے کہ تنظیم پورے پاکستان میں کسی بھی مقام پر چین کے مفادات اور منصوبوں پر حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔