ہنہ اوڑک میں ریاستی دہشتگردی، عوام ہوش کے ناخن لیں – جعفر قمبرانی

143

ہنہ اوڑک میں ریاستی دہشتگردی، عوام ہوش کے ناخن لیں

تحریر: جعفر قمبرانی

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچستان کی مزاحمتی تاریخ میں آپریشن ھیروف کا بہت بڑا اور تاریخی کردار ہے جو صدیوں تک یاد رکھا جائے گا کہ جب گولیوں کی گونج سے کوئٹہ کینٹ سمیت تمام کیمپوں سے پاکستانی جرنیلوں نے اپنے نجی جیٹ اور طیاروں میں اسلام آباد کا رخ کیا تو دنیا دیکھتی رہ گئی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاستی اداروں کو اب بھی اسی نوعیت کے کسی حملے کا خوف ہیں جس کے بنا پر تمام ہی کوئٹہ شہر کو چھاؤنی اور کینٹ میں تبدیل کرنے کا مصمم ارادہ کرچکے ہیں اور یہ عمل ہنہ اوڑک کی تباہی اور قبضے سے جاری ہے جو کہ عین کوئٹہ کینٹ کے عقب میں پہاڑی چوٹیوں کے اس پار موجود ہے۔

یاد رہے ہنہ اوڑک کوئٹہ شہر سے مشرق کی جانب واقع ایک خوبصورت وادی ہے۔ یہ ہنہ اوڑک روڑ کے راستے واقع ہنہ جھیل کے قریب شروع ہوتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ علاقہ کوئٹہ شہر سے تقریباً 20 کلو میٹر کے دوری پر واقع ہے اور کوئٹہ کینٹ کے پچھلے حصے میں مشرق کی جانب چوٹیوں اور پہاڑی نما راستوں سے اس پار موجود ہے۔

چونکہ اوڑک ویلی کوئٹہ کے مشرق میں واقع ہے اور وہاں پہنچنے کے لئے سڑک پہاڑی راستے سے گزرتی ہے اور کینٹ سے اوڑک جاتے ہوئے پہاڑیاں اور بلند و نشیب والے علاقے سے گزرنا پڑتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہنہ اوڑک میں موجود عام شہریوں کا وہاں بیٹھنا، سنسان راستے اور پہاڑی چوٹیاں پاکستان کے جمہوریت پارلیمنٹ سینیٹ اور عدلیہ پر قابض فوج اور کوئٹہ کینٹ کیلئے درد سر بنے ہوئے ہیں۔

بالکل، آپ صحیح سمجھ رہے ہیں کہ ہنہ اوڑک جیسے جغرافیائی اہمیت کے حامل علاقہ فوج کے ہاتھ میں نا ہو تو انہیں آزادی پسندوں کی جانب سے عام شہریوں (جو کہ آزادی پسندوں کی مکمل حمایتی ہے) اور پہاڑی چوٹیوں کو آسانی سے عبور کرکے کچلا جاسکتا ہے اور اسی خطرے کے پیش نظر کوئٹہ کینٹ میں بیٹھے بریگیڈرز کرنل اور جنرل صاحبان ہنہ اوڑک میں آباد ہزاروں لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنانے پہ تلے ہوئے ہیں۔

جبکہ عوام کو مذہبی دہشگردی اور محب وطنی کا جھانسہ دیکر استعمال کیا جارہا ہے اور پنجابی ریاست ایک بار پھر اپنی غیر مہذب تاریخ کو دہرا رہی ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ سے جرنیلوں کی زندگیاں بچانے کیلے عام لوگوں کی زندگیاں داؤں پر لگائی ہے اور ہمیشہ سے مذہب اور محب وطنی کا کارڈ استعمال کرکے معصوم لوگوں کو اپنے درندگی کا نشانہ بناتا رہا ہے۔

بلوچستان اگر کوئی دہشتگرد ہے تو وہ ریاست خود ہے اور کوئی لٹیرہ دروغ گو اور فراڈی ہے تو وہ خود ریاستی ادارے ہیں۔

عوام کو چاہئیے کہ تاریخ کا مطالعہ کرکے اس غیر فطری غیر مہذب پنجابی ریاست کا اصلی چہرہ پہچاننے کی کوشش کریں اور ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں ہونے کے بجائے بلوچ پشتوں روایات کو زندہ کرکے استعماریت اور قبضہ گیریت کے خاتمے تک ریاستی دہشتگردی کے خلاف اٹھ کھڑے ہو۔

ہونا تو یہ چاہئیے کہ ہنہ اوڑک واقع کے پیچھے جہاں بےگناہ پولیس والے، غریب عوام اور عام آبادیوں کو نقصان پہنچایا جارہا ہے سب مل کر ریاستی اداروں کے خلاف مزاحمت کریں اور انہیں ہنہ اوڑک جیسے علاقے میں بیٹھنے نا دیں۔

مزاحمت ہی وہ راستہ ہے جو ان پنجابی کاروباری جرنیلوں کو الٹے پاؤں لوٹنے کا راستہ دکھاتی ہے۔ جی ہاں مزاحمت اس ریاست کے خلاف جو امریکہ و برطانیہ کی ایماں پر بنی ہمارے ترقی میں ایک ڈھال ہے اور افغان بلوچ پرانی دوستی میں ایک خلل۔ مزاحمت اس پنجابی استعمار کے خلاف جس کی اپنی کوئی تاریخ اور روایت نہیں اور نا ہی ہماری روایتوں کا خیال ہے۔ مزاحمت زندگی ہے اور یہ صرف ایک شخص کی نہیں بلکہ پوری قوم کو زندہ رکھنے کی واحد ذریعہ۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔