بلوچستان میں سیکورٹی خدشات کے پیش نظر عید کے موقع پر زیارت اور ہرنائی میں پکنک پوائنٹس پر پابندی اور عید کے پہلے دو روز ٹرین سروس بھی معطل رہے گی۔
تفصیلات کے مطابق حکومتِ بلوچستان نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر بلوچستان میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر سیاحتی مقامات پر پکنک منانے پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ عید کے پہلے دو دن بلوچستان سے ٹرین سروس بھی معطل رہے گی۔
ڈپٹی کمشنر زیارت کے مطابق حکومت بلوچستان کے محکمہ داخلہ و قبائلی امور کے احکامات کی روشنی میں ضلع بھر میں پہلے ہی دفعہ 144 نافذ ہے، جبکہ عیدالاضحیٰ کے دوران اجتماعات اور ہجوم اکٹھا کرنے پر بھی مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔ جاری کردہ اعلامیے کے مطابق زیارت کے مشہور سیاحتی مقامات بشمول زریو پوائنٹ، زریزری اور ڈومیارہ پر پکنک منانے اور غیر مقامی سیاحوں کے داخلے پر سخت پابندی ہوگی۔
انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ضابطہ فوجداری 1898 کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
دوسری جانب، ضلع ہرنائی میں بھی ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق موجودہ امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر 26 مئی سے 30 مئی تک تمام پکنک پوائنٹس پر جانے پر پابندی عائد رہے گی۔ ہرنائی انتظامیہ کے مطابق پری چشمہ، ڈومیارہ، اختری، وام تنگی، اسپین تنگی، ازمری شور، شاہرگ، انجیر، زندہ پیر اور دیگر تمام تفریحی مقامات پر پکنک منانے کی قطعاً اجازت نہیں ہوگی۔
ریلوے حکام نے بھی عید کے شیڈول میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ ریلوے حکام کے مطابق سیکورٹی وجوہات کی بنا پر عید کے پہلے دو روز بلوچستان سے ٹرین سروس معطل رہے گی۔ کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کی 27 اور 28 مئی کو روانگی منسوخ کر دی گئی ہے، جبکہ کوئٹہ آنے والی جعفر ایکسپریس بھی دو دن کے لیے جیکب آباد تک ہی محدود رہے گی۔ کراچی کے لیے بولان میل اور چمن کے لیے چمن ٹرینیں پہلے ہی معطل ہیں۔
خیال رہے کہ یہ اقدامات کل کوئٹہ شہر میں ایک عسکری شٹل ٹرین پر بلوچ لبریشن آرمی کے مجید برگیڈ کے حملے کے بعد کئے گئے ہیں۔
















































