گھوڑوں پہ سوار شیطان
تحریر: سنگت ہانلی
دی بلوچستان پوسٹ
غمخوار حیات صاحب کی شہادت پر ایک طرف بلوچ قوم دل گرفتہ، رنجیدہ اور سوگوار ہے کہ آخر ایک نہایت قابل پروفیسر، دانشور اور قلمکار کو یوں بےدردی سے قتل کیوں کر دیا گیا، تو دوسری جانب کچھ ایسے سطحی العقل، فکری افلاس میں مبتلا، شعوری پسماندگی کے شکار اور جہالت کے دبیز پردوں میں محصور عناصر ہیں جو اس موقعے کو بھی اپنی ذہنی غلاظت کے لیے استعمال کرنے سے باز نہیں آ رہے۔ کوئی انہیں ان کے بھائی باہوٹ بلوچ سے جوڑ کر مسلح جدوجہد کا رنگ دینے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ کچھ ایسے بھی ہیں جنہیں نہ خون سے غرض ہوتی ہے نہ مقتول سے، بس ہر قتل کو بی ایل اے کے کھاتے میں ڈال کر ایک ہی تیر سے دو شکار کرنے کی کوششوں میں لگے ہیں۔
مگر خدا کا شکر ہے کہ حقیقت ابھی اتنی بھی یتیم نہیں ہوئی کہ پہچانی نہ جا سکے۔ آخر یہ محض اتفاق کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک روز سرفراز بگٹی پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر پروفیسرز کو دھمکیاں دے، اور چند ہفتوں بعد یا تو کوئی استاد اغوا کر لیا جائے یا کسی دانشور کے جسم میں نو گولیاں اتار دی جائیں۔ اگر یہ سب واقعی محض اتفاقات ہیں تو پھر کم از کم میرا ذہن اس “اتفاق” کے فلسفے کو قبول کرنے سے قاصر ہے۔
ویسے بھی ریاست براہِ راست ہر کام اپنے ہاتھوں سے نہیں کرتی۔ آخر تھوڑی بہت ساکھ، ذرا سی بچی کھچی اخلاقیات، اور نہ ہونے کے برابر ہی سہی مگر کچھ “جمہوری وضع داری” کا ناٹک بھی تو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ سو پھر جی ایچ کیو کے ایوانوں میں بیٹھے حافظ صاحب اور ان کے چیلے سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ اب کیا کیا جائے۔ تب انہیں برسوں کی وہ محنت یاد آتی ہے جسے انہوں نے بلوچستان کی گلیوں میں بڑی شفقت سے پروان چڑھایا تھا۔ تب انہیں اپنے پالتو ڈیتھ اسکواڈز یاد آتے ہیں، اور خوشی سے ان کے چہرے تمتما اٹھتے ہیں کہ چلو، ہماری یہ سرمایہ کاری رائیگاں نہیں گئی۔
پھر کہیں کوئی ہدایت نامہ جاری ہوتا ہے، فون کالز کی جاتی ہیں، پھر ان پالتو کتوں کو ان کی “وفاداری” اور پرانی خدمات پر شاباشی دی جاتی ہے، اور پھر یہ طے کیا جاتا ہے کہ کس انسان کے جسم میں کتنی گولیاں اتارنی ہیں۔ باقی بیانیہ، باقی وضاحتیں، باقی رسمی مذمتیں… وہ ریاست خود سنبھال لیتی ہے۔
سو، ان حضرات کے لیے جن کے حلق میں “ڈیتھ اسکواڈ” کا نام سنتے ہی سانسیں اٹکنے لگتی ہیں، کیوں نہ آج ذرا تفصیل سے انہی ڈیتھ اسکواڈز پر بات کی جائے؛ یہ کیا ہیں، کیسے وجود میں آتی ہیں، کن قوتوں کی آغوش میں پروان چڑھتی ہیں، بلوچستان کے سینے میں کیسے بارود بھرتی ہیں، اور آخرکار کیسے اپنے ہی آقاؤں کے ہاتھوں نگلی بھی جاتی ہیں۔
عربی زبان میں “جنجوید” کا مفہوم گھوڑوں پر سوار مسلح شیطانوں کے طور پر لیا جاتا ہے، تاہم عملی طور پر یہ نام مغربی سوڈان، خصوصاً دارفور، میں سرگرم اُن ملیشیاؤں کے لیے استعمال ہوا جو ریاستی پشت پناہی کے سائے میں پروان چڑھیں۔ سن 2003 میں دارفور تنازع کے آغاز کے بعد، عمر حسن البشیر کے دورِ حکومت میں، جنجوید کو ایک غیر رسمی مگر نہایت مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا، جبکہ موسیٰ ہلال جیسے قبائلی سردار اس نیٹ ورک کی نمایاں شناخت بنے۔ اس عرصے میں ان گروہوں پر دیہات جلانے، شہری آبادیوں کو نشانہ بنانے، اجتماعی قتل، جبری نقل مکانی اور خواتین کے خلاف منظم جنسی تشدد جیسے ہولناک جرائم کے الزامات عائد ہوئے؛ ایسے الزامات جنہیں بعدازاں بین الاقوامی اداروں نے بھی دستاویزی شکل دی۔
جنجوید کی اس تصویر سے بلوچستان کی موجودہ صورتحال تک رسائی ایک سیاسی اینالوجی ہے، اور دونوں کے درمیان چند ایسی بنیادی مماثلتیں موجود ہیں جنہیں نظرانداز کرنا یا تو فکری بددیانتی ہے یا شعوری اندھا پن۔ اگرچہ دونوں خطوں کے تاریخی اور سماجی پس منظر میں فرق موجود ہے، مگر طریقہ واردات حیرت انگیز حد تک مماثل دکھائی دیتا ہے۔ وہاں ریاست نے پراکسی ملیشیاؤں کو غیر عرب آبادیوں پر چھوڑا، یہاں انٹیلیجنس نیٹ ورکس مقامی غداروں کو ہتھیار، اختیار اور تحفظ دے کر انہی کے اپنے لوگوں کے مقابل لا کھڑا کرتے ہیں۔
جنجوید کی طرح یہاں بھی پراکسی گروپس کی ایک پوری کھیپ تیار کی جاتی ہے۔ اپنے ہی لوگوں کو اٹھایا جاتا ہے، انہیں پیسے، گاڑیاں، طاقت، اسلحہ اور بے لگام اختیار کا لالچ دے کر آہستہ آہستہ اپنے ہی معاشرے کے خلاف مسلح کر دیا جاتا ہے۔ پنجابی فوج بخوبی جانتی ہے کہ وہ بلوچستان کو کبھی براہِ راست سمجھ ہی نہیں سکتی، اس لیے وہ ہمیشہ ہمارے درمیان سے ہی ایسے چہرے تلاش کرتی ہے جو چند سکوں، چند مراعات اور چند تصویروں کے عوض اپنی روح تک بیچنے پر آمادہ ہوں۔ یہی وہ حکمتِ عملی ہے جس نے جنجوید کو مؤثر بنایا تھا؛ وہاں مقامی عرب قبائل کو غیر عربوں پر چھوڑا گیا، جبکہ یہاں انہی خطوط پر ڈیتھ اسکواڈز کو ہمارے سروں پر مسلط کیا گیا۔ فرق صرف گھوڑوں اور گاڑیوں کا ہے، باقی کردار، ذہنیت اور خون آلود منطق آج بھی وہی ہے۔
وہاں عرب نومیڈز کو گھوڑے، AK-47s اور RPGs دے کر غیر عرب آبادیوں پر چھوڑا جاتا تھا، یہاں مقامی پراکسیز کو ڈبل کیبنیں، موٹر سائیکلیں، جدید اسلحہ اور خفیہ فہرستیں تھما کر انہی کے اپنے لوگوں کے خون پر لگا دیا جاتا ہے۔ پھر ریاست معصومیت کا چہرہ بنا کر پوچھتی ہے: “آخر بلوچستان میں بدامنی کیوں ہے؟” گویا آگ بھی خود لگاؤ، اور پھر راکھ پر کھڑے ہو کر افسوس بھی خود ہی کرو۔
جنجوید پوری کمیونٹی کی ہڈیاں توڑتے تھے۔۔۔ نوجوان غائب کیے جاتے، عورتوں کے جسموں کو جنگی ہتھیار بنایا جاتا، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ ہمیشہ “امن و امان” کے نام پر ہی ہوتا تھا۔ فاشسٹ ریاستوں کو یہ لفظ شاید بہت پسند ہے۔۔۔ بلوچستان میں بھی یہی اسکرپٹ نئے اداکاروں کے ساتھ چل رہا ہے۔ اسماء جتک سے لے کر نازیہ شفیع اور تشدد زدہ لاش تک، بلوچ خواتین کے جسم اب طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے آلات، خوف کے اشتہار، اور ریاستی سرپرستی میں پلنے والے درندوں کی کھلی چراگاہ بن چکے ہیں۔ پھر چند مذمتی بیانات آتے ہیں، اسمبلی میں تھوڑا شور ہوتا ہے، اور اگلے شکار تک سب خاموش۔
جنجوید دارفور میں زمین، وسائل اور نسلی غلبے کا ریاستی آلہ بنے، جہاں ملیشیاؤں کو اسلحہ، طاقت اور مکمل استثنا دیا گیا، اور یہی پیٹرن بلوچستان میں بھی دہرایا جاتا ہے جہاں سردار، میر اور ٹکری جیسے بااثر کردار مقامی نیٹ ورکس کے ذریعے نگرانی، مخبری اور نوجوانوں کی معلومات ریاستی اداروں تک پہنچانے اور ہر دن کسی جوان کو قتل کرنے کا نظام چلاتے ہیں۔۔۔ وسائل کی لوٹ مار دونوں نظاموں کا مرکزی ستون ہے جہاں زمین اور معدنیات طاقت اور تحفظ کی کرنسی بن جاتے ہیں اور ریاست و مقامی اشرافیہ ایک ہی مفاداتی فریم میں ضم ہو جاتے ہیں، یوں تشدد حکمرانی کا غیر رسمی مگر مستقل اصول بن جاتا ہے؛ بیانیے کی سطح پر یہی گروہ “اندرونی ترجمان” کا کردار ادا کرتے ہیں جو مزاحمت اور سیاسی اختلاف کو دہشت گردی میں بدل کر سوال کو جرم بنا دیتے ہیں، کیونکہ وہ باہر سے نہیں بلکہ اندر سے بولتے ہیں۔
اس پورے نظام کی بنیاد استثنا (impunity) ہے جہاں قانون کمزور کے لیے رہ جاتا ہے، جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت کارروائیاں اور دھمکیاں معمول بن جاتی ہیں، اور جبری نقل مکانی ایک انتظامی ہتھیار کی طرح استعمال ہوتی ہے جس کے ذریعے کمیونٹیز کو ان کی زمینوں سے کاٹ کر خوف کو مستقل حکمرانی میں بدل دیا جاتا ہے۔
درفور کے تنازع میں 2004 کے آس پاس جنجوید ملیشیا پر جنوبی دارفور کے تولو (Tulo) گاؤں میں بڑے پیمانے پر حملوں اور تباہی کے الزامات سامنے آئے، جہاں گھروں کی نذرِ آتشگی، لوٹ مار، جبری نقل مکانی اور شہری آبادی پر شدید تشدد جیسے واقعات رپورٹ ہوئے، اور مختلف انسانی حقوق کی رپورٹس میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور اجتماعی قبروں کا ذکر بھی ملتا ہے۔ اسی طرز پر بلوچستان کے توتک (Tootak) علاقے میں 2010 کے آس پاس جبری گمشدگیوں، تشدد، چوری اور اجتماعی قبروں کے حوالے سے سنگین دعوے اور تحقیقات کے مطالبات سامنے آئے، جہاں مقامی سطح پر وسیع تشدد، گھروں کی تباہی اور اموات، اجتماعی قبریں جن میں کوئک لائم (کیلشیم آکسائیڈ) جو جسم کو جلد ڈی کمپوز کرتا ہے، اس بحث کا حصہ رہے ہیں۔
ان تمام مماثلتوں کے باوجود چند اہم فرق بھی موجود ہیں جو اس پورے منظرنامے کو زیادہ پیچیدہ بھی بناتے ہیں اور کچھ حد تک “سیاسی طور پر اوور سمپلیفائی” ہونے سے بچاتے ہیں۔ بلوچستان میں ڈیتھ اسکواڈز کو بعض اوقات صرف سکیورٹی نہیں بلکہ سیاسی انجینئرنگ کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، جو سوڈان کے ماڈل سے ایک واضح انحراف ہے۔ مثال کے طور پر 2024 میں ماہ رنگ بلوچ کے اسلام آباد میں پُرامن دھرنے کے تناظر میں ایک ایسے عنصر کو سامنے لایا گیا جسے “اینٹی بلوچ کاؤنٹر نیرٹیو” کے طور پر استعمال کیا گیا۔۔۔ یعنی ایک عوامی تحریک کے مقابلے میں مصنوعی توازن پیدا کرنے کی کوشش۔ اسی طرح مقامی سطح پر یہ گروہ کبھی سماجی کارکنوں کو متنازع بنانے، کبھی سیاسی اجتماعات کو تقسیم کرنے، اور کبھی قبائلی و علاقائی دراڑوں کو گہرا کرنے کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں۔
اس کے برعکس، بلوچ جدوجہد کو اس پورے فریم سے الگ کرنے والی چیز اس کی سیاسی اور اخلاقی ڈیفینیشن ہے۔۔۔ ڈیتھ اسکواڈز خود کو محض طاقت کے آلے کے طور پر نہیں بلکہ ایک نظریاتی مزاحمت کے فریم میں دیکھتے ہیں۔ یعنی ایک انسان اندھا تو ہے مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ وہ اندھا ہے۔ یہ بیچارے استعمال تو ہو رہے ہیں مگر اکثر یہ نہیں جانتے کہ استعمال ہو رہے ہیں، وہ خود کو سیاسی سمجھتے ہیں۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں یہ ماڈل صرف “پراکسی وار” نہیں رہتا بلکہ ایک زیادہ پیچیدہ سماجی اور نظریاتی جدوجہد بن جاتا ہے۔
اس تمام بے جا طاقت، تشدد، قتل و غارت کے بعد آخر میں سب سے دلچسپ اور شاید سب سے آئرونک نکتہ پراکسی اِن فائٹنگ ہے۔ سوڈان ہو یا بلوچستان، جب ایسے غیر رسمی مسلح ڈھانچے وقت کے ساتھ مالی مراعات، تحفظ یا سیاسی پشت پناہی سے محروم ہوتے ہیں تو وہ پنجابی ریاست پر بوجھ بن جاتے ہیں۔ اور پھر طاقت کا وہی نظام جو انہیں پیدا کرتا ہے، انہیں کنٹرول کرنے کے بجائے آہستہ آہستہ ان میک کرنے لگتا ہے۔۔۔ کیونکہ کرائے کی طاقت آخرکار کرائے کی ہی رہتی ہے۔
یوں تو برزکوئی کی پیروکار ہونے کی وجہ سے سوشل میڈیا کے بے معنی بحث مباحث پڑھنا بھی میں گناہ سمجھتی ہوں مگر پھر بھی اس پورے پس منظر میں مجھے ایک مکالمہ یاد آتا ہے جو سوشل میڈیا پر خاصا وائرل ہوا، جہاں ایک ہلاک شدہ ڈیتھ اسکواڈ لیڈر کا بیٹا بلوچ کاز کے حوالے سے مسلسل ٹویٹس کر رہا تھا، تو اس کی بحث ایک بلوچ ایکٹوسٹ سے ہو گئی۔ اس بحث کے دوران ایکٹوسٹ نے اسے کہا: “دہشت گردی کی بات تم کرتے ہو، تمہارے اپنے ‘دہشت گرد’ باپ کے پر اتنے بڑے ہو گئے تھے کہ انہیں پروان چڑھانے والوں کو بالآخر خود انہیں کاٹنا پڑا۔”
بلوچیت کے ناطے ان ڈیتھ اسکواڈز کے لیے بس اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ جس طاقت کے لیے تم اپنے ہی لوگوں کے خلاف کھڑے ہو، یہ تعلق ایک ایسے سانپ کی طرح ہے جس سے امید لگانا دراصل اس یقین کے برابر ہے کہ آگ میں ہاتھ ڈال کر بھی آدمی محفوظ رہ سکتا ہے۔۔۔ اور تاریخ، آخرکار، ایسے یقین کو ہمیشہ بہت بے رحمی سے توڑتی ہے۔
آخر میں بس یہی سوال رہ جاتا ہے کہ کیا بلوچ اس پراکسی جنگ کے خودکُش انجام کو بلوچستان کو بھی نگل جانے دیں گے، جہاں ڈیتھ اسکواڈز اپنے ہی آقاؤں کے ہاتھوں ہر روز ختم ہوتے ہیں اور دوبارہ جنم لیتے ہیں؟
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔

















































