بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری ایک تفصیلی بیان میں کہا ہے کہ خضدار شہر میں ۸ جولائی کو ریاستی آلہ کار اور بلوچ قومی غدار شفیق مینگل عرف شفیق لغور (بھگوڑا) کے گھر اور مرکزی عسکری کمپاؤنڈ پر ہونے والے فدائی حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ یہ آپریشن بی ایل اے کے فدائی ونگ ”مجید بریگیڈ” نے اس وقت سرانجام دیا جب مذکورہ ہدف اپنے ڈیتھ اسکواڈ کے کلیدی ارکان اور بیرونی دہشتگرد نیٹ ورکس کے ساتھ ایک اجلاس میں مصروف تھا۔
ترجمان نے کہاکہ بی ایل اے کے انٹیلی جنس ونگ ”زراب” کی حاصل کردہ مستند معلومات کے مطابق، شفیق لغور کے اس کمپاؤنڈ کو ایک طویل عرصے سے بلوچ قومی تحریک کے خلاف ایک فیسیلیٹیشن سینٹر کے طور پر استعمال کیا جارہا تھا۔ حملے کے وقت وہاں قابض ریاست پاکستان کے خفیہ اداروں کے افسران، بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم داعش، لشکرِ طیبہ اور سابق افغان فوجیوں کا ایک مشترکہ اجلاس جاری تھا، جس کا مقصد مقبوضہ بلوچستان میں مذہبی شدت پسندی کو بلوچ قومی تحریک کے خلاف منظم کرنا اور بلوچ سیاسی کارکنوں کے خلاف نئے مسلح نیٹ ورکس کو متحرک کرنا تھا۔ اس اجلاس میں شکیل درانی اور ثنااللہ زہری کا بیٹا امیر حمزہ بھی شریک ہونے والے تھے۔ زراب ونگ نے اس پورے نیٹ ورک کی سرگرمیوں پر کئی ہفتوں تک کڑی نگرانی رکھی اور ہدف کے حصول کی تصدیق ہوتے ہی مجید بریگیڈ کو آپریشن کی منظوری دی گئی۔
انہوں نے کہاکہ بی ایل اے کے اس آپریشن میں ہلاک ہونے والے خفیہ اداروں کے افسران، داعش کے کارندوں اور سابق افغان فوجی کارندوں کے جانی نقصان کو جان بوجھ کر چھپایا جا رہا ہے تاکہ زمینی سطح پر قائم اس مجرمانہ گٹھ جوڑ پر پردہ ڈالا جاسکے۔
آپریشن مرگ غداران کے پہلے مرحلے کو مجید بریگیڈ کے ۱۰ فدائین نے سرانجام دیا۔ اس آپریشن کا آغاز ایک فدائی سنگت نے بارود سے لدی گاڑی کو شفیق لغورکے گھر کے مرکزی دروازے سے ٹکرا کرکیا، جس کے نتیجے میں بیرونی حفاظتی حصار اور چوکیاں سیکنڈوں میں ملبے کا ڈھیر بن گئیں اور وہاں درجن کے قریب تعینات مسلح پہرے دار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جن کی تعداد کم وبیش بیس کے برابر تھی۔ اس پہلے دھماکے کے فوراً بعد، ایک اور فدائی سنگت جانفشانی سے مقابلہ کرتے ہوئے کمپاؤنڈ کی اندرونی عمارت میں داخل ہوکر اپنے جسم پر بندھی خودکش جیکٹ کو اڑا دیا، جس نے اندرونی حفاظتی لائن کو مکمل طور پر توڑ کر دشمن کی کمانڈ کو مفلوج کردیا۔ ان دو دھماکوں کے بعد، باقی ماندہ ۸ فدائین نے کمپاؤنڈ کے اندر کامیابی سے پوزیشنز سنبھال لیں اور وہاں موجود مسلح کارندوں پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کردی، جس سے روبرو جھڑپوں کا باقاعدہ آغاز ہوا۔
انہوں نے کہاکہ یہ شدید معرکہ چار گھنٹوں سے زائد وقت تک مسلسل جاری رہا، جس کے دوران فدائین نے کمپاؤنڈ کے مختلف حصوں کی کلیئرنس کرتے ہوئے شفیق لغور کے ڈیتھ اسکواڈ کے ۳۴ مسلح کارندوں کو ہلاک کیا۔ ہلاک ہونے والے ان عناصر میں اکثریت ان افراد کی تھی جو براہِ راست بلوچ سیاسی کارکنان، طالب علموں اور عام بلوچ شہریوں کے قتل، اغوا، بہیمانہ تشدد، جبری گمشدگیوں اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے۔ اس آپریشن کے دوران وہاں موجود متعدد پولیس اور لیویز کے اہلکار بھی فدائین کے ہاتھوں ہلاک ہوئے۔ بی ایل اے واضح کرتی ہے کہ یہ ہلاک ہونے والے افراد برائے نام سرکاری ملازم تھے، جنہیں قابض فوج نے قانونی تحفظ دینے کے لیئے پولیس کی نوکریاں اور وردیاں فراہم کر رکھی تھیں، لیکن درحقیقت یہ سب شفیق کے نجی ڈیتھ اسکواڈ کے باقاعدہ جرائم پیشہ پٹھو تھے اور سرکاری ڈیوٹی کے بجائے شفیق لغور کے ذاتی ملازم اور مسلح محافظ کے طور پر اس کے جرائم میں برابر کے شریک تھے۔
ترجمان نے کہاکہ حملے کے وقت شفیق لغور خود اس گھر کے اندر موجود تھا۔ فدائین کی اندرونی پیش قدمی کے ساتھ ہی، ریاستی بیساکھیوں پر اچھلنے والے اس غدار کا اعصابی اور نفسیاتی ڈھانچہ زمین بوس ہوگیا۔ کمپاؤنڈ کے اندر سے شفیق لغور اور اس کے کارندوں کی دہشت سے رونے اور مدد کے لیئے پکارنے کی آوازیں فدائین کو صاف سنائی دے رہی تھیں۔ وہ شدید بوکھلاہٹ کے عالم میں اپنے ہی گھر کے سب سے پچھلے حصے میں جاکر چھپ گیا اور وہاں سے اپنے مسلح کارندوں کو نازیبا کلمات اور گالیاں دیتے ہوئے چلا رہا تھا کہ باہر نکل کر فدائین کا مقابلہ کریں، اور ساتھ ہی انتہائی گھبراہٹ میں اپنے کسی “کرنل صاحب” کو فون پر فوری کمک بھیجنے کے لیئے درخواستیں لگا رہا تھا۔ دوسری طرف، اس کے تنخواہ دار کارندے اپنے آقا کے احکامات ماننے کے بجائے جان بچانے کے لیئے کمپاؤنڈ کے اندرونی کمروں میں دبک رہے تھے یا پچھلی گلیوں کی طرف ننگے پاؤں دوڑیں لگا رہے تھے۔ ان بھاگتے ہوئے کارندوں کی حالت یہ تھی کہ وہ اپنے ہتھیار پھینک کر فرار ہونے کی کوشش میں فدائین کے ہاتھوں پیٹھ پر گولیاں کھا کر مررہے تھے۔
انہوں نے کہاکہ شفیق لغوراپنے کمپاؤنڈ کے اندر بنے ایک خفیہ زیرِ زمین راستے کا استعمال کرتے ہوئے، اپنے زخمی اور مرتے ہوئے ساتھیوں کو اسی حالت میں تڑپتا چھوڑ کر، اپنی بلٹ پروف گاڑی میں سوار ہوکر فرار ہوگیا۔ فدائین نے بھاگتے ہوئے شفیق لغور کی گاڑی پر فائرنگ کی اور اس کا پیچھا بھی کیا، لیکن وہ بزدلی کی تاریخ دہراتے ہوئے دم دبا کر اپنے ہی مرکز کا دفاع کرنے کے بجائے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔ یہ بزدلانہ فرار اس کے بھائی غدار عطا الرحمن کی ہلاکت کے واقعے کی ہو بہو عکاسی کرتا ہے، جسے ماضی میں جب بی ایل اے نے ہدف بنایا تھا تو اس کے کارندے اسے اسی طرح مرنے کے لیئے چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔ شفیق لغور کے فرار کے بعد فدائین نے کمپاؤنڈ کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا اور وہاں موجود بچے کھچے تمام عناصر کا مکمل صفایا کردیا۔
مزید کہاکہ اس طویل آپریشن کے دوران، مجید بریگیڈ کے ۳ جانباز فدائین دشمن کے شدید محاصرے کے باوجود شفیق لغور کے رہائشی بلاک کے بالکل اندر تک داخل ہوچکے تھے۔ انہوں نے چار گھنٹوں تک دشمن کی بھاری نفری کا اکیلے مقابلہ کیا اور جب ان کا گولہ بارود ختم ہونے کے قریب پہنچا، تو انہوں نے قابض فوج یا ڈیتھ اسکواڈ کی گولی سے مرنے یا گرفتار ہونے کے بجائے، بی ایل اے کے تاریخی ‘آخری گولی کے فلسفے’ پر عمل کرتے ہوئے اپنی آخری گولیوں سے خود اپنی شہادت قبول کی اور وطن کی آزادی پر قربان ہوگئے۔ دوسری جانب، جب کمپاؤنڈ کے اندر صفائی کا عمل مکمل ہوگیا اور ہدف حاصل کرلیا گیا، تو بی ایل اے کی ہائی کمانڈ نے باقی ماندہ فدائین کو آپریشن ختم کر کے بحفاظت نکلنے کی ہدایت جاری کی۔ باقی ۵ جانباز فدائین (جن میں سے ایک فدائی زخمی تھا) خضدار شہر کے اندر اور کمپاؤنڈ کے چاروں طرف قائم فوج، فرنٹیر کور، اے ٹی ایف، پولیس اور مفرور ڈیتھ اسکواڈ کے سخت ترین محاصرے اور ناکہ بندیوں کے بیچ سے انتہائی مہارت کے ساتھ راستہ بناتے ہوئے، اپنی مرضی سے انتہائی بآسانی نکلنے میں کامیاب ہوگئے اور بحفاظت اپنے محفوظ ٹھکانوں تک پہنچ گئے۔ تمام شہید فدائین کے نام، ان کے تنظیمی خاکے اور ان کی زندگی کی تفصیلی معلومات بعد ازاں ایک الگ بیان میں میڈیا کو جاری کی جائیں گی۔
ترجمان نے کہاکہ شفیق لغور کا پورا وجود اور اس کا خاندان ‘غدار ابنِ غدار ابنِ غدار’ کا ایک تسلسل ہے۔ اس کے دادا نیک محمد نے نوآبادیاتی دور میں انگریز سامراج کی دلالی کی اور انگریز فوج کا ساتھ دے کر عظیم بلوچ سرمچار اور سرفروش علی محمد مینگل کو شہید کرنے کی مجرمانہ سازش میں بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ اسی غداری کے صلے میں انگریزوں نے اس خاندان کو جاگیریں اورمراعات دیں۔ اس کے بعد اس کے باپ نصیر نے پاکستان کی قابض فوج کی چوکھٹ پر بیٹھ کر پوری زندگی ان کے جوتے اٹھانے اور بلوچ قومی تحریک کے خلاف مخبری کرنے میں گزاری۔ شفیق لغور نے اپنے آباؤ اجداد کی اسی سیاہ تاریخ کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنی پوری زندگی دہشت گردی، فرقہ واریت اور نہتے بلوچ سیاسی کارکنان کے خون سے رنگ دی ہے۔ وہ مختلف اوقات میں لشکرِ جھنگوی، لشکرِ طیبہ اور داعش جیسے خونخوار دہشت گرد گروہوں کا براہِ راست حصہ رہا ہے اور مقبوضہ بلوچستان میں ان تنظیموں کو لانچ کرنے کا ذمہ دار ہے۔ کوئٹہ میں معصوم ہزارہ برادری کے قتلِ عام اور سیہون شریف، سندھ میں لال شہباز قلندر کے مزار پر عقیدت مندوں پر ہونے والے بہیمانہ خودکش حملے میں وہ نہ صرف براہِ راست سہولت کار تھا بلکہ ان کارروائیوں کا ماسٹر مائنڈ بھی تھا۔ قابض پاکستانی فوج کی طرف سے مکمل چھوٹ اور آشیرباد حاصل ہونے کے بعد اس نے خضدار اور گردونواح میں توتک کے مقام پر نجی ٹارچر سیل قائم کررکھے تھے، جہاں نہتے بلوچ سیاسی کارکنان کو اغوا کرکےلایا جاتا تھا اور وحشیانہ تشدد کے بعد انہیں زندہ درگور کردیا جاتا تھا۔ توتک کے مقام سے ملنے والی وہ بدنامِ زمانہ اجتماعی قبریں، جن سے ۱۶۱ بلوچ فرزندوں کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئی تھیں، وہ دراصل اسی شفیق لغور اور اس کے ڈیتھ اسکواڈ کے انسانیت سوز جرائم کا ثبوت ہیں۔
انہوں نے کہاکہ شفیق لغور! تمہاری نام نہاد بہادری اور مسلح جتھوں کی بھڑک بازیوں کی حقیقت صرف نہتے، کم سن طالب علموں، سیاسی کارکنوں اور بے بس غریب عوام پر ظلم ڈھانے تک محدود ہے۔ جب تمہارا سامنا بی ایل اے کے جنباز سرمچاروں سے ہوا، تو تمہاری خوف سے نکلتی ہوئی چیخیں اور دم دبا کر بھاگنے کی بزدلی دنیا نے دیکھ لی۔ پنجابی فوج کے پیروں میں گر کر، ان کے بوٹ چاٹ کر اور ان کے اسلحے کے سائے میں نہتے لوگوں کو دھمکانا بہت آسان ہے، اگر تمہارے اندر ذرہ برابر بھی جرات باقی ہے تو ان ریاستی بیساکھیوں اور سیکیورٹی حصاروں سے باہر نکل کر بلوچ سرمچاروں کے سامنے میدانِ جنگ میں آکر مقابلہ کرو۔ ہم تمہاری اور تمہارے سرپرستوں کی اصل اوقات سے اچھی طرح واقف ہیں، تم صرف بھڑک باز ہو، جب سرمچار بہادری کے ساتھ، تمہارے حفاظتی حصار کے اندر تمہارے گھر کے اندر گھس کر تمہیں چیلنج کیا اور تم مقابلہ کرنے کے بجائے دم دبا کر بھاگ گئے۔
آخر میں کہاکہ یہ فدائی آپریشن، بلوچ لبریشن آرمی کے ایک نئے وسیع تر عسکری آپریشن ”آپریشن مرگِ غداران” کا پہلا مرحلہ تھا۔ بی ایل اے اس وقت تنظیمی طور پر ایک انتہائی طاقتور، جدید اور خفیہ عسکری یونٹ ترتیب دے چکی ہے جو براہِ راست اس پورے آپریشن کی نگرانی اور عملدرآمد کا ذمہ دار ہے۔ اس خصوصی یونٹ کا بنیادی اور واحد کام شفیق لغور سمیت دھرتی پر موجود تمام بڑے بلوچ قومی غداروں کا کھوج لگانا اور ان کا مکمل و بے رحم صفایا کرنا ہے۔ یہ اس آپریشن کا صرف پہلا مرحلہ تھا، جس نے دشمن اور اس کے آلہ کاروں کے اعصاب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ شفیق لغور اور اس جیسے دیگر تمام غداروں کے لیئے بی ایل اے کی پالیسی میں کسی قسم کی معافی، مصلحت یا نرمی کا کوئی وجود نہیں ہے۔ ہماری بندوقوں کے دہانے اب تمہاری طرف مڑ چکے ہیں، ایک بڑے غیض و غضب اور ہمارے اگلے مہلک حملے کے لیئے تیار رہو۔

















































