خضدار میں جبری لاپتہ افراد کے خاندانوں کی جانب سے عید کے پہلے روز اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے ایک ریلی نکالی گئی۔ اس ریلی میں جبری لاپتہ افراد کے خاندانوں کے ساتھ ساتھ شہریوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی، جبکہ شرکاء نے تمام جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین نے کہا کہ آج عیدالاضحیٰ کا دن ہے، جو ایک نہایت مقدس اور بابرکت دن ہے۔ یہ دن صرف قربانی کا نہیں بلکہ انسانیت، انصاف، ایثار اور بھائی چارے کا درس بھی دیتا ہے۔ دنیا بھر میں مسلمان اس دن کو خوشی، محبت اور یکجہتی کے ساتھ منا رہے ہیں، لیکن اسی خوشیوں بھرے موقع پر نام نہاد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بلوچ اپنے پیاروں کے لیے سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔
سعدیہ بلوچ نے کہا کہ یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا واقعی یہ ایک اسلامی ملک ہے، اور کیا یہاں اسلامی تعلیمات پر عمل کیا جا رہا ہے؟ اسلام تو انصاف، رحم اور انسانیت کا پیغام دیتا ہے، لیکن بلوچ اس نام نہاد اسلامی ریاست میں ظلم، جبر اور ناانصافی کا مسلسل شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میرا اپنا بھائی 2022 سے جبری طور پر لاپتہ ہے، اور ہم آج تک اس کی کوئی خبر حاصل نہیں کر سکے۔ اسی طرح ہزاروں بلوچ نوجوان عقوبت خانوں میں اذیتیں سہہ رہے ہیں، جبکہ ان کے خاندان اجتماعی سزا بھگتنے پر مجبور ہیں۔ ماؤں کی گودیں اجڑ چکی ہیں، بہنیں اپنے بھائیوں کی راہ دیکھتے دیکھتے تھک چکی ہیں، اور بچے اپنے والد کی واپسی کے منتظر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج ریاستی حکمران عید کے موقع پر اپنے پیغامات میں بھائی چارے، قربانی اور انسانیت کی بات کرتے ہیں، مگر عملی طور پر ان کا رویہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہ منافقت کب تک جاری رہے گی؟ بلوچ نوجوانوں کو اذیت دے کر اور ان کے خاندانوں کو تڑپا کر آخر وہ کس طرح اپنے گھروں میں اپنے بچوں کے ساتھ خوشیاں منا سکتے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ اگر یہ واقعی ایک اسلامی ریاست ہے، تو پھر یہاں انصاف کہاں ہے؟ انسانیت کہاں ہے؟ اور مظلوموں کی داد رسی کب ہوگی؟
سائرہ بلوچ نے کہا کہ جب وہ آٹھویں جماعت میں پڑھ رہی تھیں تو 2018 میں ان کے بھائیوں کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا۔ کم عمری میں ہی انہیں اپنا گھر چھوڑ کر سڑکوں پر احتجاج کا راستہ اپنانا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ تمام آئینی اور قانونی راستے اختیار کرنے کے باوجود بھی ان کے بھائیوں کی بازیابی ممکن نہیں ہو سکی۔

















































