تحریک تحفظ آئین پاکستان ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو آج آن لائن جیل ٹرائل کے ذریعے سزا سنائے جانے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔
ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ فیصلہ انصاف کے قتل، آئین کی روح سے انحراف اور شہری آزادیوں پر ایک اور سنگین حملہ ہے۔ خفیہ اور محدود رسائی والے جیل ٹرائلز انصاف نہیں بلکہ ریاستی جبر کو قانونی لبادہ پہنانے کی ایک افسوسناک مثال بن چکے ہیں۔
بیان میں کہا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں اختلافِ رائے کو دشمنی، تنقید کو بغاوت اور سیاسی مزاحمت کو جرم بنا دیا گیا ہے۔ یہی طرزِ عمل پاکستان تحریک انصاف کی قیادت، کارکنان، منتخب نمائندوں، خواتین، وکلاء اور صحافیوں کے خلاف گزشتہ کئی برسوں سے اختیار کیا جا رہا ہے، جہاں جھوٹے مقدمات، غیر قانونی گرفتاریاں، ماورائے عدالت اغوا، غیر شفاف ٹرائلز اور بنیادی آئینی حقوق کی مسلسل پامالی معمول بن چکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ اسی خطرناک سلسلے کی ایک نئی کڑی ہے۔ اگر نوجوانوں کی آواز کو طاقت کے ذریعے کچلا جائے گا، سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کو ماورائے عدالت اغوا کیا جائے گا، اختلافِ رائے رکھنے والوں کو جیلوں میں بند کیا جائے گا، اور قائدِ حزبِ اختلاف کے خلاف صرف ایک تقریر پر چمن میں مقدمات قائم کیے جائیں گے، تو سوال یہ ہے کہ آخر پاکستان کو کس اندھیرے کی طرف دھکیلا جا رہا ہے؟ کیا آئین اب صرف کمزوروں کے لیے رہ گیا ہے جبکہ طاقتور ادارے خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگے ہیں؟
مزید کہاکہ ریاست کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ خوف، جبر، سیاسی انتقام اور عدالتی عمل کے غلط استعمال سے نہ عوام کی آواز دبائی جا سکتی ہے اور نہ ہی آزادی اور انصاف کی جدوجہد کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے زور پر قائم ہونے والا ہر غیر آئینی نظام بالآخر عوامی مزاحمت اور قانون کی بالادستی کے سامنے شکست کھاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ تحریک تحفظ آئین پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے خلاف دیا گیا فیصلہ فوری طور پر کالعدم قرار دیا جائے، تمام سیاسی قیدیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور ضمیر کے قیدیوں کو فوری رہا کیا جائے، ماورائے عدالت اغوا، سیاسی انتقام اور غیر شفاف جیل ٹرائلز کا سلسلہ بند کیا جائے، اور آئین پاکستان کو ریاست کے ہر ادارے پر حقیقی معنوں میں بالادست بنایا جائے۔
آخر میں کہاکہ ہم واضح کرتے ہیں کہ اگر ریاست نے آئین، قانون اور بنیادی انسانی حقوق کی مسلسل پامالی کا یہی راستہ اختیار کیے رکھا تو اس کے نتائج صرف افراد یا جماعتوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا ملک سیاسی عدم استحکام، ادارہ جاتی بحران اور عوام کے بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کی دلدل میں مزید دھنس جائے گا۔ پاکستان کو طاقت، انتقام اور خاموشی کے ذریعے نہیں بلکہ آئین، قانون، انصاف اور عوامی حاکمیت کے ذریعے ہی بچایا جا سکتا ہے۔















































