گریٹا تھونبرگ نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی عمر قید کی سزا کو “انصاف کا قتل” قرار دے دیا

48

عالمی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھونبرگ نے کہا ہے کہ پاکستانی عدالت نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی (BYC) کے دیگر رہنماؤں کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے ۔

انہوں نے کہا ہے کہ ایک حیران کن اور ظالمانہ اقدام میں، بلوچستان کی ایک انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے تین دیگر رہنماؤں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ ٹرائل، جو کوئٹہ جیل کی دیواروں کے پیچھے انتہائی رازداری میں چلایا گیا، انصاف کا مذاق اور بلوچ عوام کی جائز آوازوں کو خاموش کرنے کی ایک کھلی کوشش ہے۔

انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کون ہیں؟ وہ کوئی مجرم نہیں ہیں؛ وہ ایک میڈیکل ڈاکٹر اور انسانی حقوق کی ایک انتہائی سرگرم محافظ ہیں۔ جب ان کے اپنے والد جبری گمشدگی اور ماورائے عدالت قتل کا شکار ہوئے، تو انہوں نے اپنے اس گہرے دکھ کو ایک طاقتور تحریک میں بدل دیا، اور ہزاروں صدمہ زدہ، بے زبان بلوچ خاندانوں کی ایک دلیرانہ آواز بن گئیں۔

مزید کہاکہ ان کا واحد “جرم” بنیادی انسانی حقوق کا مطالبہ کرنا تھا۔ ڈاکٹر ماہ رنگ نے کبھی ہتھیار نہیں اٹھایا۔ ان کے ہتھیار پرامن احتجاج، لانگ مارچ اور وہ سچائی تھی جس سے انکار ممکن نہیں۔ انہوں نے لاپتہ افراد کے خاندانوں کو منظم کیا تاکہ جوابدہی، آئینی حقوق، اور ریاستی اداروں کی جانب سے بلوچ نوجوانوں کے منظم اغوا کے خاتمے کا مطالبہ کیا جا سکے۔

انہوں نے کہاکہ یہ سزا پاکستانی ریاست کے ایک خوفناک طرزِ عمل کو بے نقاب کرتی ہے: اختلافِ رائے کو جرم قرار دینا۔ جب گولیاں، دھمکیاں اور جبری گمشدگیاں انسانی حقوق کے محافظوں کے عزم کو توڑنے میں ناکام ہو جاتی ہیں، تو ریاست “عدالتی دہشت گردی” کا سہارا لیتی ہے۔ وہ پرامن کارکنوں کو ریاست کے دشمن قرار دے کر سلاخوں کے پیچھے ڈالنے کے لیے انسدادِ دہشت گردی کے ظالمانہ قوانین کا استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ یہ ٹرائل بذاتِ خود بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی تھا۔ جیل کے بند دروازوں کے پیچھے ہونے والے ان “پوشیدہ مقدمات” (faceless trials) نے ہر طرح کی شفافیت کو ختم کر دیا۔ ملزمان کو منصفانہ اور کھلے دفاع کے بنیادی حق سے محروم رکھا گیا۔ یہ پہلے سے طے شدہ ایک منصوبہ تھا، جس کا مقصد انصاف فراہم کرنا نہیں بلکہ سیاسی انتقام لینا تھا۔

اپنے بیان میں کہا ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ کے ساتھ بالاچ قادر، ابوبکر کلانچی اور صبغت اللہ شاہ جی جیسے رہنماؤں کو سزا سنا کر، مقتدرہ (اسٹیبلشمنٹ) پوری بلوچ نوجوان قیادت کا خاتمہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی ہے تاکہ خوف و ہراس پھیلا کر اس نسل کو مفلوج کر دیا جائے جس نے دہائیوں کے استحصال اور بربریت کے خلاف آواز اٹھانے کی جرات کی ہے

آخر میں کہاکہ اس جبر کی انسانی قیمت انتہائی تباہ کن ہے۔ ایک ذہین نوجوان ڈاکٹر، جس نے اپنی زندگی علاج معالجے اور انصاف کی جدوجہد کے لیے وقف کر دی، اب اسے ایک تاریک کوٹھڑی میں گلنے سڑنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ یہ ظالمانہ سزا صرف چار افراد پر حملہ نہیں ہے؛ بلکہ یہ خود بلوچستان کی روح اور وقار کی جدوجہد پر حملہ ہے، بین الاقوامی برادری اب مزید نظریں چرانے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ہمیں انصاف کے اس کھلے قتل عام کے خلاف اپنی آواز اٹھانی ہوگی۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے ساتھ کھڑے ہوں۔ بی وائی سی (BYC) کے ساتھ کھڑے ہوں۔ خفیہ ٹرائلز کے خاتمے، من گھڑت الزامات کی منسوخی، اور انسانی حقوق کے ان بہادر محافظوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کریں۔ خاموشی بھی اس جرم میں شراکت داری ہے۔