ڈاکٹر دین محمد کی جبری گمشدگی کے 17 سال: بی این ایم کا ‘آجوئی ءِ بندیگ’ کا خطاب اور پروگرامز کا اعلان

10

بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ 28 جون کو ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی جبری گمشدگی کے سترہ سال مکمل ہونے پر تنظیم کے تمام چیپٹرز اور زونز، بلوچستان سمیت دنیا بھر میں پروگرامز کا انعقاد کریں گے۔ ان سرگرمیوں میں عوامی آگاہی مہمات، پمفلٹس کی تقسیم، احتجاجی مظاہرے، سیمینارز اور اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں کو مراسلے ارسال کرنا شامل ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پارٹی کے مرکزی رہنما، معروف معالج اور قوم دوست شخصیت ڈاکٹر دین محمد بلوچ کو 28 جون 2009 کو فورسز نے ان کے ہسپتال کے رہائشی کوارٹر سے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔ ان کی جبری گمشدگی کے سترہ سال مکمل ہونے پر پارٹی انھیں ’آجوئی ءِ بندیگ‘ ( اسیر آزادی) کا خطاب دیتی ہے۔ اس موقع پر ان کے فکری و سیاسی کردار کو اجاگر کرنے کے لیے عالمی سطح پر خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا۔

ترجمان کے مطابق، ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی جبری گمشدگی بلوچ نیشنل موومنٹ کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی ایک واضح علامت ہے۔ ان کا کیس ان ہزاروں بلوچ فرزندوں کی نمائندگی کرتا ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے جبری گمشدگیوں کا شکار ہیں اور ان کے لواحقین تاحال انصاف کے منتظر ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ان پروگرامز کا مقصد ڈاکٹر دین محمد بلوچ سمیت تمام جبری لاپتہ بلوچ افراد کے مقدمات کو عالمی فورمز پر اجاگر کرنا اور عالمی برادری کی توجہ بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کی جانب مبذول کرانا ہے۔