بلوچ خواتین کو عمر قید کی سزائیں انصاف کا جنازہ اور مایوسی کا بڑھتا ہوا سایہ – ایچ ایم

18

بلوچ خواتین کو عمر قید کی سزائیں انصاف کا جنازہ اور مایوسی کا بڑھتا ہوا سایہ

تحریر: ایچ ایم

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچستان کی تاریخ محرومیوں، آنسوؤں اور ناانصافیوں سے بھری پڑی ہے، لیکن حال ہی میں بلوچ خواتین کو دی جانے والی عمر قید کی سزاؤں نے اس تلخی کو ایک نئے اور بھیانک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ اس عمل کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے، کیونکہ یہ صرف چند افراد کو سزا نہیں بلکہ پورے بلوچ معاشرے کی عزتِ نفس اور روایات پر کاری ضرب ہے۔ بلوچ ثقافت اور تاریخ میں خواتین کا رتبہ ہمیشہ سے انتہائی محترم رہا ہے۔ ایسے معاشرے میں جہاں چادر اور چار دیواری کا تقدس سب سے مقدم ہو، وہاں خواتین کو عدالتوں اور سلاخوں کے پیچھے دھکیلنا جلتی پر تیل کا کام کر رہا ہے۔

ان فیصلوں کے بعد اب بھی اگر کوئی یہ خوش فہمی پالے ہوئے ہے کہ پاکستانی عدالتوں سے بلوچوں کو کبھی کوئی انصاف ملے گا، تو شاید وہ زمینی حقائق سے مکر رہا ہے یا پھر اس کا ذہنی توازن درست نہیں ہے۔ جب نظامِ عدل ریاست کے طاقتور اداروں کے سامنے بے بس ہو جائے اور قانون صرف کمزوروں کو کچلنے کا ذریعہ بن جائے تو وہاں انصاف کی امید رکھنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ ایک طرف ملک کے بڑے سیاستدانوں اور بااثر شخصیات کے لیے عدالتیں رات کو بھی کھلتی ہیں اور ریلیف فراہم کرتی ہیں، جبکہ دوسری طرف بلوچوں کے لیے صرف سنگین سزائیں اور جبری گمشدگیاں ہی مقدر بنا دی گئی ہیں۔ ان سزاؤں نے عدالتی نظام پر بچا کچا اعتماد بھی مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ یہ فیصلے انصاف پر مبنی نہیں بلکہ سیاسی دباؤ اور خوف کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش معلوم ہوتے ہیں۔

ریاست کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت، سزاؤں اور جبر کے ذریعے دل اور دماغ نہیں جیتے جا سکتے۔ بلوچ خواتین کو نشانہ بنانا مظلومیت کی آگ کو مزید ہوا دے گا، جس سے دوریاں اتنی بڑھ جائیں گی جنہیں مٹانا پھر کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔ اگر اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے گئے تو تاریخ گواہ ہے کہ ناانصافی پر قائم نظام کبھی دیرپا ثابت نہیں ہوسکتا۔ دوسری جانب آج کل سوشل میڈیا پر ایک عجیب اور افسوسناک رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے، جہاں بعض لوگ ایک بلوچ خاتون کی عمر قید کی سزا پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں اور تضحیک آمیز کمنٹس کر رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کو شاید اندازہ نہیں ہے کہ وقت کبھی ایک جیسا نہیں رہتا۔

بلوچی روایات اور تاریخ گواہ ہے کہ بلوچ معاشرے میں خواتین کی عزت، تکریم اور تحفظ کو ایک مقدس فریضے کا درجہ حاصل ہے۔ یہ ایک ایسا پختہ اصول ہے جس پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہر بلوچ پر فرض ہے چادر اور چار دیواری کا تحفظ۔ ہر اس شخص پر فرض ہے جو خود کو بلوچ کہتا ہے، خواہ اس کا سماجی مرتبہ کچھ بھی ہو۔ روایات کے مطابق اگر کوئی شخص چرواہا بھی ہے، جو معاشرے کا ایک عام اور محنتی طبقہ مانا جاتا ہے، اس پر بھی یہ لازم ہے کہ وہ کسی بھی خاتون کی عزت و ناموس کے لیے ڈھال بن جائے۔ عورت کی مجبوری یا سزا پر جشن منانا اور اخلاقی حدود کو پار کرنا کسی بھی غیرت مند معاشرے، بالخصوص بلوچ روایات کا حصہ کبھی نہیں رہتا۔

سوشل میڈیا پر بیٹھ کر دوسروں کی تکلیف پر خوش ہونے والوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ زندگیاں اور حالات بدلتے دیر نہیں لگتی۔ جو لوگ آج دوسروں کی ماؤں بہنوں کی تذلیل پر تالیاں بجا رہے ہیں، کل تاریخ ان کے ساتھ بھی وہی کھیل کھیل سکتی ہے۔ بلوچ روایات ہمیں سکھاتی ہیں کہ دشمنی میں بھی ایک وقار ہونا چاہیے۔ عورتوں کی تذلیل کرنا، ان کی سزا پر بغلیں بجانا مردانگی نہیں بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن کی نشانی ہے۔ ہمیں سوشل میڈیا کو نفرت پھیلانے کے بجائے انصاف، روایات کے احترام اور انسانی ہمدردی کا ذریعہ بنانا چاہیے۔ مگر بلوچستان کی حالیہ سیاسی اور سماجی صورتحال میں بعض ریاستی و حکومتی شخصیات کے بیانات اور رویے نہ صرف سیاسی حلقوں بلکہ عوامی سطح پر بھی شدید بحث اور تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ خاص طور پر بلوچ خواتین کو عمر قید جیسی سنگین سزائیں ملنے پر اقتدار کے ایوانوں میں جس قسم کے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے، اسے ایک باشعور معاشرہ کبھی بھی تحسین کی نظر سے نہیں دیکھ سکتا۔

بلوچ معاشرے کی تاریخ، ثقافت اور قبائلی روایات میں خواتین کو ہمیشہ ایک انتہائی محترم اور محفوظ مقام حاصل رہا ہے۔ جنگوں اور قبائلی تنازعات کے دوران بھی خواتین پر ہاتھ اٹھانا یا انہیں نشانہ بنانا عیب سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں جب سیاسی مصلحتوں یا قانونی کارروائیوں کی آڑ میں خواتین کو طویل سزائیں دلوا کر فتح کے شادیانے بجائے جاتے ہیں تو یہ عمل کسی بھی طور بہادری کے زمرے میں نہیں آتا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق خواتین پر اس طرح کی سخت کارروائیاں اور پھر ان پر عوامی سطح پر فخر کا اظہار کرنا حقیقت میں کسی طاقت کا نہیں بلکہ ایک گہرے خوف اور نفسیاتی شکست کا عکاس ہوتا ہے۔ جب ایک نظام یا اس کے نمائندے کسی پرامن یا نظریاتی تحریک کے سامنے بے بس نظر آنے لگیں تو وہ ایسے اقدامات اٹھاتے ہیں جن سے دنیا بھر میں ان کی جگ ہنسائی ہوتی ہے۔

آج کے دور میں جب دنیا انسانی حقوق، خواتین کے حقوق اور آزادیِ اظہارِ رائے کو کسی بھی ریاست کی پختگی کا معیار مانتی ہے، وہاں بلوچستان کے حوالے سے سامنے آنے والے یہ فیصلے اور بیانات بین الاقوامی سطح پر ملک کے امیج کو ظاہر کرچکے ہیں۔ بیرونی دنیا اس منظرنامے کو دیکھ کر یہ سوال اٹھانے پر مجبور ہے کہ کیا اقتدار کے دعویدار اتنے کمزور ہو چکے ہیں کہ انہیں خواتین سے بھی خطرہ محسوس ہونے لگا ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ سزائیں، گرفتاریاں اور جبر کبھی بھی نظریات کو دبا نہیں سکتے۔ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر سیاسی، اقتصادی اور سماجی ہو جسے صرف اور صرف خلوصِ نیت، مذاکرات اور وہاں کے عوام کو ان کے حقوق دے کر ہی حل کیا جا سکتا تھا۔ مگر خواتین کو جیلوں میں ڈال کر یا انہیں سخت سزائیں دلوا کر جو لوگ خود کو فاتح سمجھ رہے ہیں، انہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ مختلف ہوتا ہے۔

حقیقی بہادری کمزوروں پر طاقت آزمائی میں نہیں بلکہ انصاف کی فراہمی اور اپنے عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے میں ہے۔ اقتدار کے نشے میں دیے گئے ایسے بیانات عارضی تو ہو سکتے ہیں، لیکن یہ تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ ایک تاریک باب کے طور پر درج رہیں گے۔ بلوچستان کی تاریخ، ثقافت اور سماجی تانے بانے میں خواتین کا مقام ہمیشہ سے انتہائی معتبر اور مقدس رہا ہے۔ قبائلی روایات اور بلوچ کوڈ آف آنر (بلوچ میار) کے مطابق جنگ و جدل اور سخت ترین تنازعات کے دوران بھی خواتین پر ہاتھ اٹھانا یا انہیں نشانہ بنانا سخت ممنوع سمجھا جاتا ہے۔ روایات تو یہ ہیں کہ اگر کوئی عورت کسی بڑے سے بڑے تنازعے کے درمیان چادر رکھ دے تو تلواریں میان میں چلی جاتی ہیں اور دشمنی دوستی میں بدل جاتی ہے۔ لیکن موجودہ سیاسی منظرنامے میں وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی کا کردار ان ہی عظیم روایات کے متصادم نظر آیا ہے۔ ایک طرف تو وہ خود کو بلوچ روایات کا امین اور پاسبان بنا کر پیش کرتے ہیں، لیکن دوسری طرف ان کے دورِ اقتدار میں بلوچ خواتین کو عمر قید جیسی سخت سزائیں سنائی جا رہی ہیں۔

سیاسی اختلافات یا ریاستی معاملات اپنی جگہ، لیکن اس نوعیت کے اقدامات براہِ راست اس قبائلی غیرت اور روایت پر ضرب ہیں جس کا راگ سرفراز بگٹی اکثر الاپتے نظر آتے ہیں۔ یہ تضاد واضح کرتا ہے کہ جب مفادات کی بات ہو تو روایات کا سہارا لیا جاتا ہے، لیکن جب اقتدار اور کرسی کو برقرار رکھنے کی باری آئے تو انہی روایات کو پامال کرنے میں دیر نہیں کی جاتی۔ ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو عدالتوں اور جیلوں کی نذر کرنا کسی بھی طور بلوچ قومیت اور قبائلی اقدار کے علمبردار کو زیب نہیں دیتا۔ ایسے فیصلوں سے مقتدر حلقوں کے خلاف بلوچستان کے عوام اور بالخصوص نوجوانوں میں احساسِ محرومی اور غصہ مزید شدت اختیار کر چکا ہے۔

اگر سرفراز بگٹی واقعی خود کو بلوچ روایات کا وارث سمجھتے ہیں تو انہیں یہ بات یاد رکھنی ہوگی کہ تاریخ کبھی تضادات کو معاف نہیں کرتی۔ خواتین کے ساتھ اس طرح کا سلوک نہ صرف موجودہ حکومت کی اخلاقی گرواٹ کا ثبوت ہے بلکہ یہ بلوچ تاریخ کے اس روشن باب پر بھی ایک سیاہ دھبہ ہے جہاں خواتین کی عزت اور تحفظ کو ہر چیز پر مقدم رکھا جاتا تھا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنے قول و فعل کے اس تضاد کو ختم کریں ورنہ روایات کی بات کرنا محض ایک سیاسی ڈھونگ ہی کہلائے گا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔