بلوچ قوم پرست رہنما جاوید مینگل نے سماجی رابطے کی ماہیکرو بلاگنگ ساہٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مستونگ میں اسکول کے معصوم بچوں پر بزدلانہ حملہ اور بے گناہ، معصوم بچوں کی شہادتیں ریاستی اداروں کی بربریت کی انتہا ہیں۔ بلوچ قومی تحریک، خصوصاً سیاسی مزاحمت کو کچلنے کے لیے بے گناہ بچوں کا خون بہایا گیا۔ پاکستانی فوج اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے ایسے ہولناک اقدامات کرتی ہے، جنہیں اس کے گماشتے انجام دیتے ہیں۔میر جاوید مینگل نے کہا کہ ایک ہی دن میں مستونگ میں 7 معصوم افراد کو شہید کر دیا گیا جبکہ راولپنڈی سے 10 بلوچ طلباء کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ دونوں واقعات ریاستی جبر، بلوچ نسل کشی اور ظلم کی پالیسیوں کا حصہ ہیں۔
تازہ ترین
کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف وی بی ایم پی کا احتجاجی کیمپ 6322ویں روز...
جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا احتجاجی کیمپ تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کی...
خواتین سمیت جبری گمشدگی کا شکار پانچ افراد بازیاب
بلوچستان کے مختلف علاقوں سے جبری گمشدگی کا شکار ہونے والے پانچ افراد بازیاب ہو گئے ہیں۔
تفصیلات کے...
ڈھاڈر میں صبری پل کو تباہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ یو...
یونائیٹڈ بلوچ آرمی کے ترجمان مزار بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہاکہ سرمچاروں نے 8 اگست شام 7:30 ڈھاڈر کے...
پاکستان سابق افغان فوجی اہلکاروں کو بلوچ آزادی پسندوں کے خلاف استعمال کررہا ہے-...
ایران کے نیم سرکاری میڈیا ادارہ تسنیم نیوز کے رپورٹ کے مطابق پاکستان کے فوجی اور انٹیلی جینس ادارے بلوچستان میں بلوچ علیحدگی پسندوں...
پنجگور: فوجی آپریشن جاری، مختلف مقامات پر مارٹر گولہ فائر
بلوچستان کے ضلع پنجگور کے علاقے چیدگی میں فوجی آپریشن اور مختلف مقامات پر مارٹر گولے فائر کیے جانے کی اطلاعات بھی...



















































