بلوچ قوم پرست رہنما جاوید مینگل نے سماجی رابطے کی ماہیکرو بلاگنگ ساہٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مستونگ میں اسکول کے معصوم بچوں پر بزدلانہ حملہ اور بے گناہ، معصوم بچوں کی شہادتیں ریاستی اداروں کی بربریت کی انتہا ہیں۔ بلوچ قومی تحریک، خصوصاً سیاسی مزاحمت کو کچلنے کے لیے بے گناہ بچوں کا خون بہایا گیا۔ پاکستانی فوج اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے ایسے ہولناک اقدامات کرتی ہے، جنہیں اس کے گماشتے انجام دیتے ہیں۔میر جاوید مینگل نے کہا کہ ایک ہی دن میں مستونگ میں 7 معصوم افراد کو شہید کر دیا گیا جبکہ راولپنڈی سے 10 بلوچ طلباء کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ دونوں واقعات ریاستی جبر، بلوچ نسل کشی اور ظلم کی پالیسیوں کا حصہ ہیں۔
تازہ ترین
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج جاری
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے...
بلوچستان میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں دو بلوچ نوجوانوں کے قتل، بلوچ یکجہتی کمیٹی...
بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) نے بلوچستان میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، جبر...
پنجگور کے ایڈیشنل سیشن جج بازیاب ہوگئے
پنجگور کے ایڈیشنل سیشن جج اسداللہ رئیسانی کو بازیاب کرالیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انہیں ہفتے کی دوپہر گدر کے قریب...
دالبندین: مسلح افراد نے کسٹمز اہلکار سمیت پانچ مسافروں کو اغوا کر لیا
کوئٹہ سے دالبندین جانے والی مسافر بس چارسَر کے مقام پر خراب ہونے کے بعد نامعلوم مسلح افراد نے کسٹمز اہلکار محمد...
بارکھان کے علاقے سراتی سے 10 افراد کی لاشیں برآمد
بلوچستان کے علاقے بارکھان میں سراتی کے مقام سے 10 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جنہیں بی ایچ او راڑہ شم...


















































