بلوچ قوم پرست رہنما جاوید مینگل نے سماجی رابطے کی ماہیکرو بلاگنگ ساہٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مستونگ میں اسکول کے معصوم بچوں پر بزدلانہ حملہ اور بے گناہ، معصوم بچوں کی شہادتیں ریاستی اداروں کی بربریت کی انتہا ہیں۔ بلوچ قومی تحریک، خصوصاً سیاسی مزاحمت کو کچلنے کے لیے بے گناہ بچوں کا خون بہایا گیا۔ پاکستانی فوج اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے ایسے ہولناک اقدامات کرتی ہے، جنہیں اس کے گماشتے انجام دیتے ہیں۔میر جاوید مینگل نے کہا کہ ایک ہی دن میں مستونگ میں 7 معصوم افراد کو شہید کر دیا گیا جبکہ راولپنڈی سے 10 بلوچ طلباء کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ دونوں واقعات ریاستی جبر، بلوچ نسل کشی اور ظلم کی پالیسیوں کا حصہ ہیں۔
تازہ ترین
فلپائن کے جنوبی جزیرے منڈاناؤ کے قریب آنے والے 7.8 شدت کے زلزلے میں...
فلپائن کے حکام کے مطابق جنوبی جزیرے منڈاناؤ کے ساحل کے قریب آنے والے 7.8 شدت کے خطرناک زلزلے کے نتیجے میں کم از...
پنجگور: مزید دو نوجوان جبری گمشدگی کا شکار
بلوچستان کے ضلع پنجگور سے دو مزید نوجوانوں کی جبری گمشدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن کے بارے میں اہلِ خانہ...
ڈیرہ بگٹی: مسلح افراد اور ایف سی کے درمیان فائرنگ، دو اہلکار زخمی
ضلع ڈیرہ بگٹی میں سوئی رنگ روڈ پر مندر کالونی کے قریب نامعلوم مسلح افراد اور فرنٹیئر کور (ایف سی) اہلکاروں کے...
سترہ سال پہلے آج کے دن، ذاکر مجید کو جبری طور پر لاپتہ کیا...
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی رہنما سمی دین بلوچ نے کہا ہے کہ آج بلوچستان میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اس...
بلوچستان: ایک شخص جبری لاپتہ، دو بازیاب
کوئٹہ کے علاقے کلی الماس ایئرپورٹ روڈ سے 15 سالہ قدرت اللہ بلوچ ولد سفر خان بلوچ کے جبری گمشدگی کا کیس...



















































