صدر ٹرمپ نے ایران پر حملہ مؤخر کر دیا، ممکنہ جوہری معاہدے کا اشارہ

3

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ایران پر ایک طے شدہ حملہ اس وقت مؤخر کر دیا جب تہران نے واشنگٹن کو امن کا ایک نیا منصوبہ بھیجا اور اب ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے حوالے سے معاہدہ طے پانے کا ’بہت اچھا امکان‘ موجود ہے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کی جانب سے نیا امن منصوبہ بھیجے جانے کے بعد انہوں نے امریکی فوج کو ہدایت دی کہ’ہم منگل کو ایران پر طے شدہ حملہ نہیں کریں گے تاہم انہیں یہ بھی حکم دیا ہے کہ وہ مکمل اور بڑے پیمانے پر فوری کارروائی کے لیے ہر وقت تیار رہیں، اگر قابلِ قبول معاہدہ نہ ہو سکا۔‘

ایسے کسی حملے کا اعلان پہلے سے نہیں کیا گیا تھا اور برطانوی خبر رساں ادارہ روئٹرز اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ آیا ایسے حملوں کی کوئی عملی تیاریاں کی گئی تھیں یا نہیں جو فروری کے آخر میں ٹرمپ کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کی شدت کو ظاہر کرتیں۔

اس معاہدے تک پہنچنے کے دباؤ کے تحت، جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے، ٹرمپ پہلے بھی امید ظاہر کر چکے ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ قریب ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ایران کو خبردار بھی کیا تھا کہ اگر تہران معاہدہ نہ کر سکا تو اس پر شدید حملے کیے جا سکتے ہیں۔

اپنی پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں نے ان سے درخواست کی تھی کہ وہ حملہ مؤخر کر دیں کیونکہ ’ایک معاہدہ ہو جائے گا جو امریکہ کے لیے بھی اور مشرقِ وسطیٰ کے تمام ممالک سمیت دیگر ممالک کے لیے بھی بہت قابلِ قبول ہوگا۔ انہوں نے زیرِ بحث معاہدے کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

رپورٹرز سے بعد میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ کر لے جو تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے تو امریکہ اس سے مطمئن ہوگا۔

’ایسا لگتا ہے کہ معاہدہ طے پانے کا بہت اچھا امکان ہے۔ اگر ہم یہ کام ان پر زبردست بمباری کیے بغیر کر سکیں تو میں بہت خوش ہوں گا۔‘

ایران اپنے موقف پر برقرار

ایران نے امریکی صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد سرکاری میڈیا پر سخت اور چیلنجنگ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو خبردار کرتا ہے کہ وہ ایران پر حملے کی صورت میں مزید’سٹریٹیجک غلطیوں یا غلط اندازوں‘ سے گریز کریں جبکہ اس نے یہ مؤقف بھی دہرایا کہ ایرانی مسلح افواج ’ماضی کی نسبت زیادہ تیار اور مضبوط‘ ہیں۔

واشنگٹن کی مبینہ لچک 

ایک سینیئر ایرانی ذریعے کے مطابق امریکہ نے مبینہ طور پر بیرونِ ملک بینکوں میں منجمد ایران کے اثاثوں کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ رقم مبینہ طور پر اربوں ڈالر بنتی ہے۔

ایران کا مطالبہ ہے کہ اسے صرف جزوی نہیں بلکہ تمام منجمد اثاثوں تک مکمل رسائی دی جائے۔

ایرانی ذریعے کے مطابق واشنگٹن نے مبینہ طور پر اس بات پر زیادہ لچک دکھائی ہے کہ ایران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں کچھ پرامن جوہری سرگرمیاں جاری رکھ سکے۔

تاہم امریکہ کی جانب سے اس دعوے کی کوئی تصدیق نہیں کی گئی اور نہ ہی اس نے مذاکرات میں کسی معاہدے یا شرط پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے ایک نامعلوم ذریعے کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکہ نے مذاکرات کے دوران ایران پر عائد تیل کی پابندیاں عارضی طور پر ہٹانے (یا نرم کرنے) پر اتفاق کیا ہے۔