بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا احتجاجی کیمپ 6170ویں روز میں داخل ہوگیا۔
آج احتجاجی کیمپ میں خضدار سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے عبدالغفار مینگل کے بھائی جبار مینگل سمیت دیگر لواحقین نے شرکت کی۔
لواحقین کے مطابق عبدالغفار مینگل کو 20 دسمبر 2009 کو خضدار سے ملکی اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کردیا تھا۔ لاپتہ افراد سے متعلق قائم کمیشن میں عبدالغفار مینگل کی جبری گمشدگی ثابت ہوچکی ہے، جبکہ کمیشن نے سات سال قبل ان کے حوالے سے پروڈکشن آرڈر بھی جاری کیا تھا۔ تاہم، اس کے باوجود نہ انہیں کسی عدالت میں پیش کیا گیا اور نہ ہی خاندان کو ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی جارہی ہیں۔
اس موقع پر وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کے کمیشن کو مجسٹریٹ کے اختیارات حاصل ہیں، اور 2018 میں سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت جبری گمشدگیوں کے تمام مقدمات کمیشن کے حوالے کرکے اس کے آئینی اختیارات کو مزید مضبوط بنایا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ آج تک کمیشن نے جبری لاپتہ افراد کے کیسز میں اپنے آئینی اختیارات مؤثر انداز میں استعمال نہیں کیے۔ تقریباً آٹھ سو کیسز میں کمیشن کی جانب سے پروڈکشن آرڈرز جاری کیے گئے، جبکہ متعدد کیسز میں ان احکامات کو جاری ہوئے سات سے آٹھ سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، مگر نہ ان پر عملدرآمد ہوا اور نہ ہی ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی۔
نصراللہ بلوچ نے کہا کہ کمیشن کی ان کمزوریوں کے حوالے سے وی بی ایم پی مسلسل سپریم کورٹ کی جانب سے کمیشن کے کام کا جائزہ لینے کے لیے بھیجے گئے وفد کے سامنے اپنے تحفظات پیش کرتی آرہی ہے، لیکن تاحال ان پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
انہوں نے سپریم کورٹ سے اپیل کی کہ وہ کمیشن کی کارکردگی اور کمزوریوں کا نوٹس لے، اور عبدالغفار مینگل سمیت تمام جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کے ساتھ جبری گمشدگیوں کے مکمل سدباب کو یقینی بنانے کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرے


















































