بلوچستان کے علاقے نوشکی، مَل میں مسلح افراد کی کوئٹہ – تفتان مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی جاری، اس دوران پاکستانی فورسز نے گاڑیوں میں پیش قدمی کی کوشش کی جس کو مسلح افراد نے حملے میں نشانہ بنایا۔
علاقائی ذرائع کے مطابق مسلح حملے میں فورسز اہلکاروں کو جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
قبل ازیں دوران ناکہ بندی مسلح افراد نے ایک بس سے چار افراد کو حراست میں لیا جو سیندک پروجیکٹ سے منسلک افراد بتائے جاتے ہیں تاہم ان کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی ہے۔
آج صبح مستونگ کے علاقے کانک میں مسلح افراد نے مرکزی شاہراہ کو کنٹرول میں لینے کے بعد کرومائیٹ لیجانے والی پانچ گاڑیوں کو نذرآتش کردیا تھا۔
دریں اثناء اسی مرکزی شاہراہ پر مستونگ، جدید آباد کے مقام پر مرکزی پُل کو نامعلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد نصب کرکے تباہ کردیا جس کے باعث ٹریفک معطل ہوگئی۔
یہ واقعات ایسے موقع پر سامنے آئے ہیں جب بلوچ لبریشن آرمی نے کوئٹہ – تفتان آر سی ڈی شاہراہ پر شیخ واصل، کردگاپ، نوشکی اور دالبندین میں پانچ کاروائیوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
مذکورہ حملوں میں شیخ واصل کے مقام پر معدنیات لیجانے والی بیس گاڑیوں کے قافلے پر حملے سمیت نوشکی میں دو اور دالبندین میں ایک مقام پر ناکہ بندیاں شامل ہیں جبکہ دالبندین سے سیاہ دک پروجیکٹ کے تین اہلکاروں کو بھی حراست میں لیا گیا اور ریکوڈک پروجیکٹ کی ایک گاڑی کو بھی تحویل میں لیا گیا۔
کانک اور نوشکی میں کاروائیوں کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے۔


















































