بلوچستان کے ضلع مستونگ میں جامعہ بلوچستان سب کیمپس کے طلباء نے وزیر اعظم یوتھ لیپ ٹاپ اسکیم میں مبینہ تاخیر اور علاقے میں مسلسل انٹرنیٹ بندش کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا۔
طلباء کی بڑی تعداد نے ڈگری کالج مستونگ کے سامنے جمع ہوکر دھرنا دیا جس کے باعث شاہراہ پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
احتجاجی مظاہرے میں شریک طلباء کا کہنا تھا کہ یوتھ لیپ ٹاپ اسکیم کے تحت انہیں تاحال لیپ ٹاپ فراہم نہیں کیے گئے، حالانکہ کئی ماہ قبل ان کے کوائف مکمل کیے جاچکے ہیں۔ طلباء نے الزام عائد کیا کہ متعلقہ حکام کی جانب سے مسلسل تاخیری حربے استعمال کیے جارہے ہیں جس سے ان کی تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہورہی ہیں۔
مظاہرین نے کہا کہ مستونگ اور گردونواح میں طویل عرصے سے انٹرنیٹ سروس معطل ہے، جس کے باعث آن لائن کلاسز، ریسرچ ورک، اسائنمنٹس اور دیگر تعلیمی امور بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ طلباء کے مطابق موجودہ دور میں انٹرنیٹ تعلیم کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے، لیکن حکام اس اہم مسئلے کو حل کرنے میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتے۔
احتجاج کے دوران طلباء نے حکومت اور متعلقہ اداروں کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ فوری طور پر لیپ ٹاپ اسکیم کے تحت طلباء میں لیپ ٹاپ تقسیم کیے جائیں جبکہ مستونگ میں انٹرنیٹ سروس بحال کرکے طلباء کو درپیش مشکلات کا خاتمہ کیا جائے۔
مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات جلد تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ دوسری جانب قومی شاہراہ کی بندش کے باعث ٹریفک کی روانی کئی گھنٹوں تک متاثر رہی جبکہ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار موقع پر پہنچ کر مظاہرین سے مذاکرات کرتے رہے۔













































