ایچ آر سی پی کا نوشکی میں پروفیسر غمخوار حیات کے قتل اور بلوچستان و خیبر پختونخوا کی بگڑتی سیکیورٹی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار

6

ایچ آر سی پی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تنظیم بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی کی صورتحال میں تیزی سے بگڑتی ہوئی حالت پر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے، جہاں شہری مسلسل جبری گمشدگیوں، ٹارگٹ کلنگ اور شدت پسند حملوں کے درمیان پس رہے ہیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) نے کہا ہے کہ بلوچستان میں گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر اور دو دیگر ملازمین کے مستونگ میں مبینہ اغوا نے، جب وہ گوادر سے کوئٹہ سفر کر رہے تھے، ریاست کی جانب سے اہم شاہراہوں کو محفوظ بنانے اور شہریوں کے تحفظ کی صلاحیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایچ آر سی پی نے آج نوشکی میں پروفیسر غمخوار حیات کے قتل پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت کو یاد دلایا ہے کہ جب اساتذہ اور ماہرینِ تعلیم کو اغوا کیا جائے یا گولیاں مار کر قتل کیا جائے تو اس کے اثرات صرف انفرادی سانحات تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے کو متاثر کرتے ہیں۔

مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں بنوں، باجوڑ اور لکی مروت میں ہونے والے مہلک حملے، جن میں سرائے نورنگ کی ایک مصروف مارکیٹ میں بم دھماکہ بھی شامل ہے، شدت پسند تشدد کے ایک خطرناک اور بگڑتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں، جو بلا امتیاز شہریوں، پولیس اہلکاروں اور سیکیورٹی فورسز کی جانیں لے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ریاست سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ محض مذمتی بیانات سے آگے بڑھے اور عملی طور پر یہ ثابت کرے کہ انسانی جانوں اور عوامی مقامات کا تحفظ اب بھی ممکن ہے۔ لاپتہ یونیورسٹی حکام کی فوری بازیابی، ان تمام حملوں کی شفاف اور قابلِ اعتماد تحقیقات، اور ذمہ دار عناصر کا احتساب فوری اور ناگزیر اقدامات ہیں۔