بلوچ سٹوڈنٹ کونسل پنجاب یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام براہوئی زبان کے نامور ادیب اور شاعر پروفیسر غمخوار حیات کی یاد میں ایک تعزیتی پروگرام کا اہتمام کیا گیا، جہاں طلبہ نے براہوئی ادب اور زبان کے حوالے سے ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے قتل کو بلوچ دانش پر حملہ قرار دیا۔
مقررین نے کہا کہ پروفیسر غمخوار حیات نے براہوئی زبان اور ادب کے لیے دن رات محنت کرکے کئی کتابیں لکھیں اور تراجم کیے، اور زبان کی خدمات کے صلے میں انہیں قتل کیا گیا۔
واضح رہے کہ پروفیسر غمخوار حیات کو کل نوشکی کے علاقے کلی مینگل میں
حکومتی حمایت یافتہ مسلح گروہ “ڈیتھ اسکواڈز” کے فائرنگ کے نتیجے میں قتل کیا گیا۔
پروفیسر غمخوار حیات براہوئی زبان کے معروف شاعر، ادیب، مترجم، افسانہ نگار اور انشائیہ نگار تھے۔ انہوں نے مختلف اصنافِ ادب میں گراں قدر خدمات انجام دیں اور تقریباً بیس کتابوں کے مصنف تھے۔ وہ راسکوہ ادبی دیوان اور اوتان کلچر اکیڈمی کے بانیوں میں بھی شامل تھے۔
ان کے قتل پر سیاسی، سماجی، ادبی اور علمی حلقوں سمیت ان کے قارئین نے شدید غم و افسوس کا اظہار کیا ہے۔
مختلف حلقوں کا کہنا ہے کہ غمخوار حیات کی شہادت سے نہ صرف براہوئی ادب بلکہ علم و دانش کی دنیا کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔



















































