نیم مُردہ قوتِ سماعت کے اُس پار – سنگت ھانُلی

10

نیم مُردہ قوتِ سماعت کے اُس پار

تحریر: سنگت ھانُلی

دی بلوچستان پوسٹ

حالیہ دِنوں میں ایک اور ساتھی ، جبری گمشدگی اور عقوبت خانوں کے مہینوں پر محیط عذاب سے واپس لوٹا تو اُس کی آنکھوں میں ایک ایسی ویرانی آباد تھی جسے محض تشدد کا نتیجہ نہیں کہا جا سکتا۔ وہ میرے سامنے بیٹھا تھا؛ نحیف، زرد، اور اپنے ہی وجود سے بیگانہ۔ اُس کے جسم پر اذیت کے بےشمار نقوش ثبت تھے مگر سب سے گہرا زخم اُس کی سماعت میں تھا۔

طویل خاموشی کے بعد اُس نے مجھ سے پوچھا: “سنگت، جب ہم پڑھا کرتے تھے تو ہمیں بتایا جاتا تھا کہ روشنی کی رفتار آواز کی رفتار سے کہیں زیادہ تیز ہوتی ہے… مگر ایسا کیوں ہے کہ وہاں مجھے آوازیں روشنی سے پہلے پہنچتی رہیں؟ کیوں مہینوں تک مجھے کوئی روشنی دکھائی نہ دی؟ مگر آوازیں برابر سنائی دیتی رہیں؟”

اُس کا سوال وہ دراصل غلام قوموں کی پوری نفسیاتی تاریخ تھا۔ غلام قوموں کی زندگی ہمیشہ آواز سے شروع ہوتی ہے۔ ولادت کے فوراً بعد ایک نومولود کے رونے کی آواز، ماں کی جنگی لوریوں کی آواز ، فاقوں سے لرزتے برتنوں کی آواز، گھر کے مردوں کو گسیٹھتے ہوئے لے جانے کی آواز، فوجی گاڑیوں کی اچانک گاؤں میں اترنے کی آواز، کھیل کے میدان میں بمباری کی آواز، اپنے دوست کی آخری سسکیوں کی آواز، یہ سب اُس کی ابتدائی سماعتیں ہوتی ہیں۔ مگر رفتہ رفتہ وہ جاننے لگتا ہے کہ اُس کے گرد کی دنیا عام دنیا نہیں۔ وہ چیک پوسٹوں پر رکتی گاڑیوں کی کرخت آوازیں سنتا ہے، بندوقوں کے سیفٹی لاک کھلنے کی آوازیں، تحکمانہ لہجوں میں پوچھے گئے ناموں کی آوازیں، اور اُن سپاہیوں کے گالی دینے کے بعد قہقہوں کی آواز، جو انسان کو اُس کی اپنی سرزمین پر اجنبی ثابت کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب وہ سمجھنے لگتا ہے کہ غلامی کی زنجیریں اب تک کافی چھوٹی تھیں آگے اور بے حس ہوتی جائیں گی۔۔

اور پھر ایک رات آتی ہے؛ ایسی رات جس میں نیند اچانک بوٹوں کی آواز سے ٹوٹتی ہے۔ دروازوں کے توڑے جانے کی آواز، ماں بہنوں کی چیخوں کی آواز، بچوں کے سہمے ہوئے رونے کی آواز، گھر کے سامان کو اتھل پتل کرنے اور پھینکنے کی آواز، نیم تاریکی میں کالر اور بالوں سے پکڑ کر گھسیٹے جانے کی آواز۔۔۔

اُس لمحے انسان پہلی بار جانتا ہے کہ خوف کی بھی ایک مخصوص آواز ہوتی ہے۔

پھر گاڑیوں کے دروازے بند ہونے کی آوازیں، آنکھوں پر بندھی پٹی کے پیچھے مسلسل گونجتے انجان لہجے، اور ایک ایسے سفر کی ابتدا جس میں راستے دکھائی نہیں دیتے۔۔ وہاں سے سماعت ایک عذاب میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ٹارچر سیلوں میں وقت کا کوئی تصور باقی نہیں رہتا؛ وہاں صرف آوازیں زندہ رہتی ہیں۔ اور ایک ایسے جرم کو قبول کروانے کی آواز، جو آپ نے کیا ہی نہیں۔۔ اور پھر سے ماں بہن کی گالیوں کی آواز، سگریٹ سے گوشت کو جلانے کی آواز، کیلوں کو ہاتھوں میں پیوست کیے جانے کی آواز، ڈنڈوں کے ہڈیوں پر پڑنے کی آواز، جنگلی کُتے کو سیل میں چھوڑنے کے لیے اُسکی رسی کھولنے کی آواز، پھر اُسکی بدبو دار سانسوں کی آپ کے نیم مردہ جان پر پڑنے کی آواز، اور پھر بجلی کے جھٹکوں کے بعد ابھرتی ہوئی چیخوں کی آواز، ساتھ والے ٹارچر سیل میں کسی نوجوان کے خدا کو آخری بار پکارنے کی آواز، پھر یکے بعد دیگر گولیوں کی آواز، اُن سپاہیوں کے قہقہوں کی آواز جو انسان کو توڑنے کو اپنے فرائض میں شمار کرتے ہیں۔ بعض اوقات کئی کئی دن کوئی آواز نہیں آتی، اور پھر اچانک کسی لاش کے فرش پر گرائے جانے کی آواز پورے وجود کو چیر کر رکھ دیتی ہے۔

شاید وہ نیم مردہ شخص مر چکا ہوتا۔۔۔ اگر ریاستی تشدد ہمیشہ مکمل موت پر یقین رکھتا۔ مگر بعض اوقات وہ انسان کو زندہ چھوڑ دیتے ہیں تاکہ وہ اپنی شکست کی چلتی پھرتی شہادت بن سکے۔ پھر ایک شب، اُسی بے حسی کے ساتھ ، جس بے حسی سے اُسے اٹھایا گیا تھا، اُسے گاڑی میں پھینکا جاتا ہے۔ ویران شاہراہوں پر سفر کی آواز، گاڑی کے اچانک رکنے کی آواز، پھر سے جسم کو گھسیٹ کر پتھریلی زمین پر پھینکے جانے کی آواز، اور پھر دور جاتی ہوئی گاڑیوں کے انجن کی آواز۔ وہ کئی ساعتوں تک نیم مردہ حالت میں پڑا رہتا ہے، چیونٹیوں کو اپنے جسم پر چلتا ہوا دیکھتا ہے مگر کچھ کر کیوں نہیں پاتا؟ یہاں تک کہ کسی چرواہے، کو اُس کی ٹوٹی ہوئی سانسوں کی خبر ہو جاتی ہے۔ پھر اُسے ہسپتال پہنچائے جانے کی آوازیں آتی ہیں؛ اسٹریچر کے پہیوں کی چرچراہٹ، ڈاکٹروں کی عجلت زدہ سرگوشیاں، اور سب سے اذیت ناک۔۔۔۔

اُس کی ماں کے رونے کی آواز ۔۔۔

مہینوں کے اس عذاب کے بعد اور طویل جسمانی بحالی کے مرحلے سے گزرنے کے باوجود، جسم اگرچہ کسی حد تک فعال ہو جاتا ہے مگر ذہن اپنی اصل حالت میں واپس نہیں آتا۔

گھر واپسی کے بعد سب کچھ وہی ہونے کے باوجود مختلف محسوس ہوتا ہے۔ لوگ وہی ہوتے ہیں مگر اُن کی آوازیں اب براہِ راست ذہن تک نہیں پہنچتیں۔ رفتہ رفتہ اس کی قوتِ سماعت ایک اندرونی انقطاع کا شکار ہو جاتی ہے۔ وہ سننے کے باوجود سننے کے عمل سے محروم ہوتا چلا جاتا ہے۔۔۔ وہ خود کو سمیٹ لیتا ہے۔ رفتہ رفتہ اس کی قوتِ سماعت مکمل طور پر ماند پڑ جاتی ہے اور سماجی آوازیں اس تک پہنچنا بند ہو جاتی ہیں۔

اس کے بعد باری قوتِ بصارت کی آتی ہے۔

وہ آئینے کے سامنے کھڑا ہوکر ایک دن بالوں میں کنگی پھیرنے کے دوران اچانک اپنے چہرے کو دیکھتا ہے۔ ظاہری طور پر چہرہ وہی ہوتا ہے مگر اس کی شناخت تبدیل ہو چکی ہوتی ہے۔ وہ طویل وقت تک خود کو دیکھتا رہتا ہے، جیسے اپنی ہی موجودگی کو دوبارہ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔

اس کے بعد اس کی بصارت ایک مختلف نوعیت کی حقیقت کو دریافت کرنے لگتی ہے۔ وہ موبائل کھولتا ہے تو دھرنے میں اپنی والدہ کے ساتھ ہزاروں بلوچ ماؤں کی بےبسی، اپنی بہنوں کے ساتھ ہزاروں بلوچ بہنوں کی اجتماعی محرومی، اور سڑکوں پر بلند کی جانے والی اپنی تصویر کے ساتھ ہزاروں بلوچ جوانوں کی تصویروں کی صورت میں منجمد شدہ انسانی المیہ دکھائی دیتا ہے۔ پھر وہ اپنے وطن کے وسائل کو ٹرکوں کے ذریعے باہر منتقل ہوتے دیکھتا ہے، اور پھر وہ ایک غیرملکی افسر کو دیکھتا ہے جو مقامی کارندوں اور عسکری و انتظامی نمائندوں کے ہمراہ اس کے ہی خطے کو ایک بیرونی نقشے کی طرح دکھایا جا رہا ہوتا ہے، جیسے زمین کسی قوم کی نہیں بلکہ کسی منصوبے کی شے ہو۔ کچھ ہی عرصے بعد وہ مناظر بھی اس کی بصارت میں ثبت ہوتے ہیں جب بڑی گاڑیاں، بھاری مشینری اور مسلح نفری اس کے محلے اور اس کے گاؤں کی طرف بڑھتی ہے، اور پھر پورا خطہ زمین بوس کر دیا جاتا ہے۔

اس کے بعد اس کی بصارت مسلسل گمشدگیوں کے مناظر محفوظ کرنے لگتی ہے؛ وہ لوگ جو ایک دن موجود ہوتے ہیں اور دوسرے دن ریاستی بیانیے میں معدوم ہو جاتے ہیں۔ پھر اُن ہی لوگوں کی مسخ شدہ لاشیں واپس لوٹتی ہیں، شناخت سے محروم، کیڑوں سے بھرے اجسام، انسانی وقار کے آخری آثار سے بھی عاری۔

ان مشاہدات کے بعد ایک رات وہ نیند سے بیدار ہوتا ہے، مکمل خاموشی میں بیٹھتا ہے، اور ایک فیصلہ کرتا ہے ۔۔یہ وہ فیصلہ ہوتا ہے جو ایک ایسا انسان کبھی نہیں کرپاتا جس کی زندگی صرف سماعت کے دائرے میں محدود رہتی ہے، یہ فیصلہ وہاں سے جنم لیتا ہے جس کی سماعت منقطع ہو چکی ہو اور جس کی بصارت حقیقت کو اپنی پوری شدت اور بےرحمی کے ساتھ دیکھنے پر مجبور ہو چکی ہو۔

پھر وہ اٹھتا ہے، اپنے دھول سے اٹے ہوئے جیکٹ کو جھاڑتا ہے اور نیند کے بوجھ سے تھکے ہوئے جسم پر اسے درست انداز میں ڈال لیتا ہے۔ کندھے پر رائفل رکھتا ہے۔ اور آخری بار اپنی سوئی ہوئی ماں کے چہرے کو چومتا ہے، جس پہ غلامی کی واضح لکیریں ہوتی ہیں۔۔ پھر وہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی طرف دیکھتا ہے، ان چہروں کی طرف جن کے مستقبل میں وہ وہی عقوبت خانوں کا خوف نہیں دیکھ سکتا جو اس کی اپنی زندگی کا حصہ رہا ہے۔

پھر وہ گھر سے نکلتا ہے اور چل پڑتا ہے۔ وہ چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے پاؤں سوجھ جاتے ہیں، مگر رکنے کا تصور ختم ہو چکا ہوتا ہے۔۔

آخرکار وہ پہاڑی خطے تک پہنچتا ہے۔ وہاں پہلے سے موجود افراد سے اس کی ملاقات ہوتی ہے۔۔ وہ لوگ جو اسی نوعیت کے تجربات، اسی تشدد اور اسی جبری حالات سے گزر کر وہاں پہنچے ہوتے ہیں، مگر جن کا مقصد اس تسلسل منقطع کرنا ہوتا ہے۔ ابتدائی ملاقات میں اسے ایک گہری قربت کا احساس ہوتا ہے، جیسے وہ اپنے ہی بکھرے ہوئے وجود کے مختلف حصوں سے دوبارہ متعارف ہو رہا ہو۔

یہاں سے اس کی زندگی کا نیا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔۔ دن اور رات کا فرق اپنی روایتی حیثیت کھو دیتا ہے۔ کبھی وہ خود کو مٹی اور سخت زمین پر عسکری نوعیت کی مشقوں میں مصروف پاتا ہے، کبھی خود کو ایک غار نما مقام میں بیٹھ کر ڈائری میں کچھ تحریر کرتے ہوئے دیکھتا ہے، کبھی دو روز پرانی سخت روٹی کو کڑوے سیاہ چاہ کے ساتھ نگلتے ہوئے خود کو دیکھتا ہے۔۔

ان سالوں کے دوران یہ زندگی صرف چند بنیادی عناصر تک محدود نہیں رہتی۔ اس میں مسلسل نقل و حرکت، پہاڑی راستوں کی صعوبتیں، موسم کی شدت، محدود خوراک، تنظیمی ہم آہنگی، حفاظتی احتیاط، اور مسلسل ذہنی دباؤ جیسے عوامل بھی شامل رہتے ہیں۔

پھر وہ خود کو مورچوں میں موجود دیکھتا ہے۔ محدود افراد، کم وسائل، اور نہایت مختصر اسلحہ۔ اور اس کے مقابل ایک ایسی قوت کھڑی ہے جو عسکری، تکنیکی اور عددی اعتبار سے غیر معمولی برتری رکھتی ہے۔ جدید ہتھیار، مسلسل گولہ باری، فضائی نگرانی اور منظم پیش قدمی۔۔۔ مگر اس سب کے باوجود وہ دیکھتا ہے کہ سامنے دشمن مکمل طور پر فیصلہ کن برتری قائم نہیں کر پا رہا۔ جنگ ایک سیدھی لکیر کے بجائے ایک مسلسل ٹوٹتے ہوئے توازن میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

اسی دوران وہ اپنے قریب ترین ساتھیوں کو کھوتا ہے۔ اپنے دوست، اپنے بازو، اپنے ساتھ کھڑے لوگ۔ وہ انہیں اپنی آنکھوں کے سامنے گرتے ہوئے دیکھتا ہے۔ ایک لمحے میں ضرب، دوسرے لمحے میں زمین پر گرا ہوا جسم، اور پھر وہی ناقابلِ واپسی حقیقت۔

وہ اپنے ایک ساتھی کی لاش کو کندھوں پر اٹھا کر کیمپ تک لاتا ہے، اپنے ہاتھوں سے اسے سپردِ خاک کرتا ہے۔ بعد کے دنوں میں وہی قبریں بارشوں کے نیچے کھلنے لگتی ہیں، مٹی نرم پڑتی ہے، اور وہ زمین جہاں وہ دفن ہیں وہاں گواڑخ اگنے لگتے ہیں۔

وقت گزرتا ہے اور اس کے اندر ایک اور داخلی تبدیلی جنم لیتی ہے۔ وہ خود کو ایک نئے اور زیادہ سخت فیصلے کی طرف بڑھتا ہوا پاتا ہے۔ تربیت مزید منظم، مزید شدید ہو جاتی ہے۔ پھر ایک دن وہ خود کو جھاڑیوں، میں چھپا ہوا پاتا ہے، گھڑی پہ وقت دیکھتے ہوئے۔

اسی لمحے ایک گاڑی تیزی سے آ کر کیمپ کی دیوار سے ٹکرا جاتی ہے اور بارود کی خوشبو کے ساتھ اسکا ایک اور ساتھی فنا ہوجاتا ہے۔ اسی ماحول میں وہ خود کو آگ اور شعلوں کے درمیان راستہ بناتے ہوئے اندرونی کمپاؤنڈ کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھتا ہے۔۔

وہاں شدید اور مسلسل لڑائی کا منظر ہے۔ محدود وقت، محدود وسائل، اور غیر معمولی دباؤ کے باوجود ہر حرکت ایک فیصلہ بن جاتی ہے۔ اس دوران وہ بار بار اپنے ساتھیوں کو رخصت ہوتے ہوئے دیکھتا ہے

آخرکار ایک لمحہ آتا ہے جب اُس کے پاس صرف ایک گولی باقی رہ جاتی ہے۔ اوپر ہیلی کاپٹروں کی آواز، چاروں طرف محاصرہ، اور گرفتاری کا امکان وہی ٹارچر سیلز۔۔۔

وہ اس آخری گولی کو بندوق میں ڈالتا ہے اور بندوق کی نال اپنے ٹوڑی سے کُچھ نیچے گلے کی رگ پہ رک دیتا ہے ایک لمحہ رکتا ہے۔ وہ اردگرد دیکھتا ہے۔ اپنے وطن کو آخری بار۔ آسمان کو۔ اپنے گرے ہوئے ساتھیوں کو۔ ان کے چہروں پر جمی ہوئی آخری مسکراہٹوں کو۔ پھر وہ دیوار کے ساتھ ٹیک لگا لیتا ہے۔

آنکھیں بند ہوتی ہیں تو یادیں ابھرنے لگتی ہیں۔۔ اس کی ماں کا چہرہ، بچپن کے دن، بہن بھائی، دوست، ساتھی، اور وہ تمام لوگ جن سے اس کی زندگی جڑی تھی۔ ان سب کے درمیان وہ ساتھی بھی جسے اس نے کندھوں پہ اٹھا کر سپرد خاک کیا تھا۔۔

پھر وہ مسکراتا ہے۔۔۔ ایک ایسی مسکراہٹ جو شکست اور ادراک کے درمیان کہیں کھڑی ہے۔

اور پھر وہ ٹرگر دبا دیتا ہے۔

فائر

اور خون ۔۔ اُسکی بوسیدہ جیکٹ کو بگوتے ہوئے زمین میں جذب ہونے لگتا ہے

اور ایک روح ۔۔ فنا سے بقا کی طرف
روانہ ہوجاتی ہے۔۔۔
اے میرے عظیم سرمچار ! آزادی مبارک ہو تُمہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔