میجر نورا حقیقی رہنماء – حمل بلوچ

194

میجر نورا حقیقی رہنماء

تحریر: حمل بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

آج میں ایک ایسے شخص کے بارے میں لکھنے جا رہا ہوں کہ وه میرے الفاظ کا محتاج نہیں ہے کیونکہ وه ایک اعلیٰ کردار ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔ دنیا میں ہم نے بہت سے رہنما دیکھے ہونگے شاید یہ پہلی بار ہے کہ اتنی کم عمر میں ہمارے سامنے ایک ایسا رہنما آیا جس نے سب کی دلوں کو جیتا۔

رہنما وه ہوتے ہیں جو ہر مشکل وقت میں اپنے ساتھیوں کو سنبھالیں اور ہر مشکل وقت میں ایسا فیصلہ لیں جو ان کے مقصد کیلئے فائدہ مند ہو، شہید میجر نورا (پیرک) ان میں سے ایک تھا جس نے اپنی ذات کو پسِ پشت ڈالا اور اپنا سب کچھ سرزمین پر قربان کردیا۔

میجر نورا اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان تھا، اگر وه چاہتا تو وه آرام کی زندگی گزار سکتا تھا لیکن اسے اپنی قوم کی مظلومیت کا احساس تھا وه اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شعور یافتہ، نظریاتی، ایماندار، مستقل مزاج، محنتی اور ایک ہمدرد انسان تھا جو سب کچھ جانتا تھا وه جانتا تھا کہ ظلم کی خلاف آواز اٹھانا ہر انسان پر فرض ہے وہ ظلم کے خلاف مزاحمت پر یقین رکھتا تھا، ظلم کو مزاحمت ہی ختم کر سکتا ہے اسی وجہ سے اس نے ذاتی زندگی کو ترجیح دینے کے بجائے اپنی زندگی کو سرزمین کیلئے قربان کردیا اور بلوچ نوجوانوں کو راہِ حق پر قربان ہونے کی درس دیا۔

ایک حقیقی رہنما کا صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کرنا ہی اس کے رہنمائی کو ظاہر کرتا ہے میجر نورا نے ہمیشہ مشکل حالات میں صحیح فیصلہ کیا، جس کی وجہ سے وہ ایک حقیقی و مخلص رہنما تھے جو مسلح جدوجہد سے پہلے بلوچ سیاسی طلبہ تنظیم بی ایس او آزاد سے وابستہ تھے اور وه بی ایس او آزاد لاہور زون کے صدر بھی رہے، اس کے علاوہ اس نے بلوچستان کی مختلف علاقوں میں سیاسی کارنامے سر انجام دیئے، وه نہایت ہی نرم مزاج اور دوست سے بڑھ کر بھائی کی طرح تھے۔ یہ اس کی قابلیت تھی کہ آج وه ہر اک دل میں زندہ ہے۔

ایک رہنما کی سب صلاحیتیں میجر نورا میں تھے، اسی وجہ سے وه اتنے کم عمر میں اس مقام پر پہنچا ان سب سے بڑھ کر وه ایک اہم جنگی کمانڈر تھے، جو دس سال سے زائد بلوچستان کے آزادی کیلئے مسلح جدوجہد کا حصہ تھے یہ حقیقت ہے کہ “جس بندوق کو کتاب کے رہنمائی حاصل ہو تو اس بندوق کی بیرل سے نکلی ہوئی ہر ایک گولی کی اپنی الگ داستان ہوتی ہے” اور یہ کتاب ہی تھا جس نے میجر نورا کو بندوق اٹھانے کا درس دیا جس کی بہترین حکمت عملیوں نے ہر محاذ پر دشمن کو شدید نقصان سے دوچار کیا، میجر نورا نے جب اور جہاں بھی دشمن پر حملہ کیا تو وہاں دشمن کو لاشوں کے علاوہ کچھ نہیں ملا ۔ میجر نورا کی ان جنگی حکمت عملیوں نے دشت، آوران، گچک، بلیده، پنجگور، کلبر، کولواه اور بلوچستان کئی علاقوں میں دشمن کا جینا حرام کر رکھ دیا۔

دشمن یہ اچھی طرح جان لے کہ میجر نورا کی شہادت کے بعد بھی اس کو ہزاروں نورا کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ میجر نورا ایک فرد نہیں بلکہ ایک کردار کا نام ہے، اس مقدس سرزمین نے ہمیشہ بہادر نورا جنم دیئے ہیں، شہید میجر نورا پیرک بلوچ نوجوانوں کے لئے ایک مثال ہے جس نے وه سب کچھ کر دکھایا جو ایک حقیقی جہدکار کو کرنا چاہیئے۔

مجھے آج بھی یاد ہے جب 2014 کو پورے پروم پاکستانی فوج کے گھیرے میں تھا اور گھر گھر آپریشن جاری تھا تو میں اور دو ساتھی چپنے کے لئے پہاڑوں کی جانب نکل پڑے، ہمارے پاس کھانا بہت کم تھا اور ہمیں رات وہیں گزارنا تھا جب رات ہونے والا تھا تو ہم نے اپنی جگہ بدلنے کی فیصلہ کیا جب ہم تھوڑا آگے بڑھے تو ہماری ملاقات میجر نورا پیرک اور ان کے ساتھیوں سے ہوئی انہوں نے ہمیں کو کچھ کھانا دیا اور ہم سے کہا کہ دو تین دن تک علاقے میں آپریشن ہے لہٰذا آپ علاقے میں جانے سے گریز کریں۔

میجر نورا نے مجھ سے پوچھا کہ پڑھائی کیسے چل رہا ہے جب میں نے جواب دیا تو پھر میجر نے کہا کہ “ابھی پڑهائی پر دهیان دو آگے منزل خود صاف واضح انداز میں نظر آئے گا” اس دن کے بعد دوبارہ میجر نورا جان سے ملاقات نہیں ہوئی لیکن مجھے آج تک نورا جان کی وه باتیں یاد ہیں کہ اس کی نصیحت کی وجہ سے آج مجھے اپنا منزل واضح نظر آتا ہے۔

چھبیس اپریل وه دن تھا جب میں ہر روز کی طرح صبح اٹھا آنکھ اب ٹھیک طرح سے کھلا بھی نہیں تھا کہ اچانک ایک دوست باہر سے آیا اور کہنے لگا کہ پیرک اور اس کے ساتھی پروم کلگ کور یار محمد بازار میں پاکستانی فوج و ڈیتھ اسکواڈ کے گھیرے میں ہیں، کاش مجھے یہ خبر نہ ملتا لیکن اس سرزمین کو میجر نورا اتنا عزیز تھا کہ سرزمین نے اسے ہمیشہ کے لئے اپنی گود میں سلایا۔ شہید میجر نورا پیرک اور اس سرزمین کے تین اور جانباز فرزندوں شہید لیفٹیننٹ نواز، شہید مومن اور شہید عبدالمالک نے شام تین بجے سے لیکر دن کے باره بجے تک پاکستانی فوج اور اُس کے قائم کردہ ڈیتھ اسکواڈز کے ساتھ بہادری سے لڑائی جاری رکھا اور آخر کار شہادت کو اپنے حق میں قبول کرکے ہمیشہ کے لئے امر ہوگئے۔

لڑائی کے دوران شہادت سے پہلے میجر نورا پیرک نے بلوچ قوم و نوجوانوں کو ایک آخری پیغام دیا جس میں وه کہتے ہیں ” بلوچ قوم اور بلوچ نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ بلوچستان کی جنگ آزادی میں اپنا حصہ شامل کریں اور اس جنگ کو اپنا سمجھیں، اب یہ جنگ تمھارے کندهوں پر ہے، شاید اب ہم ساتھ نہ رہیں اکٹھے نہ رہیں لیکن ہم سب ساتھ ہیں یہاں نہیں تو اُس دنیا میں اکھٹے ہیں، میری ماں، بہن اور چھوٹے اس بات پر غمگین نہ ہوں کہ ہم مارے جا رہے ہیں آج آپ لوگوں کو فخر ہونا چاہیئے کہ ہم غیرت اور وطن کے لئے مارے جا رہے ہیں، میں اپنے سینئر ساتھیوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اپنے تنظیموں کو مضبوط کریں، یہ جنگ ہے اس میں لوگ شہید ہوتے ہیں، سر کٹتے ہیں، ہمارے لیڈر شہید ہوئے ہیں، انشااللہ یہ جنگ اپنی منزل کو پہنچے گا “ہم کامیاب ہونگے “۔

میجر نورا کی آخری پیغام اپنی بلوچ قوم کے لئے یہ تھا کہ اس جنگ کو ہر حال میں جاری رکھنا ہے، کیونکہ یہ جنگ بلوچ قوم کی بقاء کی جنگ ہے اس جنگ کے علاوہ بلوچ قوم کی بقاء کیلئے دوسرا کوئی راستہ نہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔