بلوچستان اور دیگر علاقوں کے معدنی وسائل پر قبضہ کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔مولانا حیدری

1

جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ پنجاب میں جے یو آئی کے جلسوں سے حکومت اور ریاست کی چیخیں نکل رہی ہیں، جلسے کرنا ہمارا جمہوری اور آئینی حق ہے، جتنی چیخ و پکار اور پروپیگنڈا کیا جائے، ہم حق بیان کرتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں جن لوگوں پر جمعیت علماء اسلام نے احسانات کیے، آج وہی احسان فراموشی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ہماری تحریک کے دباؤ کے نتیجے میں عمران خان کو اقتدار سے ہٹنا پڑا، تاہم ہماری جدوجہد کا فائدہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اٹھایا۔ ہم نے اتحادی ہونے کے ناطے ہر فیصلے پر عمل کیا اور بہت سے معاملات میں قومی مفاد کو ترجیح دی۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ وزیراعظم ہماری وجہ سے عبوری وزیراعظم بنے اور مشکلات سے نکلے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر فوج کی زمین پر قبضے کا الزام ہے تو اس کے شواہد سامنے لائے جائیں، تیس سال سے توہین اور پروپیگنڈے کا سلسلہ جاری ہے، لیکن ایسی بھونڈی حرکتوں سے ہم نہ اپنا بیانیہ چھوڑیں گے اور نہ مرعوب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اب بے اختیار اور چھڑی کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں، حکومت کے اقدامات غیر آئینی ہیں اور ہم گورنر راج یا ایمرجنسی کو مسترد کرتے ہیں۔ بلوچستان اور دیگر علاقوں کے معدنی وسائل پر قبضہ کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام کی مرکزی مجلس شوریٰ نے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کی مکمل توثیق کی ہے۔ چھوٹے چھوٹے سیاسی بونوں کے بیانات سے مولانا فضل الرحمن کے قد و قامت میں کمی نہیں ہوگی، ان کی شخصیت آسمان کو چھونے لگی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری شوریٰ نے یہ رائے قائم کی ہے کہ تحریک انصاف اور جے یو آئی پارلیمنٹ میں مشترکہ نکات پر ایک دوسرے کا ساتھ دے سکتی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت ہو یا کارکن، انہیں چاہیے کہ الزام تراشی کے بجائے سیاسی اصولوں کی بنیاد پر بات کریں۔

دوسری جانب جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے مرکزی مجلس شوریٰ کے فیصلوں کی مکمل حمایت اور تائید کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کے خلاف منفی پروپیگنڈے اور کردار کشی کی منظم مہم کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ بلوچستان کی صوبائی جماعت اپنے قائد، جماعت اور اصولی مؤقف کے ساتھ کھڑی ہے اور مرکزی فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے کارکنوں اور عوام کو متحرک کیا جائے گا۔

مولانا عبدالواسع نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام اصولی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور حق کو حق، غلط کو غلط کہنا ہی سیاست کا اصل تقاضا ہے۔ ہم نے 2018ء سے پی ٹی آئی کی سیاست اور طرز حکمرانی کی مخالفت کی، تاہم جہاں اصولی مؤقف اختیار کرنے کی ضرورت پیش آئی، وہاں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر اپنا کردار ادا کیا۔ ان کے بقول حالیہ انتخابات ملکی تاریخ کے متنازع انتخابات میں شمار ہوتے ہیں، جن کے بعد ملک دہشت گردی، معاشی بدحالی، خارجہ پالیسی کی ناکامی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ کشیدہ تعلقات جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔

انہوں نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور بعض علاقوں میں ایمرجنسی کے اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل یہاں کے عوام کی ملکیت ہیں اور ان کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کی جائے گی۔ دہشت گردی اور بدامنی کو جواز بنا کر مقامی وسائل کے استحصال کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ جمعیت علماء اسلام آئین کی بالادستی، پارلیمان کی خودمختاری اور عوام کے حق حکمرانی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

صوبائی امیر نے کہا کہ اگر حکمران واقعی موجودہ نظام کو درست کرنا چاہتے ہیں تو ملک بھر میں فوری طور پر آزادانہ، منصفانہ اور شفاف عام انتخابات کرائے جائیں تاکہ عوام اپنے حقیقی نمائندے منتخب کر سکیں۔ جمعیت علماء اسلام ایوان اور میدان دونوں محاذوں پر جدوجہد جاری رکھے گی اور قائد جمعیت کی ہدایت پر حکمرانوں کی غلط پالیسیوں اور غیر جمہوری اقدامات کے خلاف بھرپور کردار ادا کرے گی۔

مولانا عبدالواسع نے بلوچستان کی معاشی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرحدی بندشوں نے لاکھوں افراد کے روزگار کو متاثر کیا ہے۔ ایران کے ساتھ سرحدی تجارت کی بندش، افغانستان کے ساتھ تجارتی مشکلات اور چمن، تفتان سمیت دیگر سرحدی راستوں پر پابندیوں سے مقامی آبادی شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ کوئلے اور دیگر معدنیات سے وابستہ مزدوروں، ٹھیکیداروں اور کاروباری افراد کے روزگار کے مواقع محدود ہو رہے ہیں، جبکہ زراعت، تجارت اور کاروباری سرگرمیاں بھی بدامنی اور حکومتی پالیسیوں کے باعث متاثر ہیں۔