بلوچ لبریشن آرمی کے آفیشل میڈیا چینل ہکل نے اگست اور ستمبر 2026 کے دوران پروم، چاغی اور زیارت کے محاذوں پر جانبحق ہونے والے اپنے چھ سرمچاروں کی تفصیلات شائع کر دیں۔
ہکل کے مطابق، سہیل عرف حاجی ابصار ولد حاجی بلوچ خان، سکنہ جائین، پروم، پنجگور، نے 2026 میں تنظیم میں شمولیت اختیار کی اور 19 ستمبر 2026 کو پروم کے محاذ پر جانبحق ہوئے۔
ہکل کے مطابق، سنگت سہیل عرف حاجی ابصار نے رواں سال دشمن کے قبضے، جبر، لوٹ مار، غلامی، تذلیل اور غیر انسانی اقدامات کے خلاف مزاحمت کا فیصلہ کرتے ہوئے قومی آزادی، وطن کے دفاع اور خودمختاری کی بحالی کے لیے بلوچ لبریشن آرمی کے پلیٹ فارم سے جنگ میں شمولیت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ تنظیمی طریقۂ کار کے مطابق، بنیادی تربیتی مراحل سے گزارنے کے لیے انہیں تربیتی کیمپ منتقل کیا گیا، جہاں انہوں نے بہادری، مخلصی اور ایمانداری کے ساتھ اپنے کورسز مکمل کیے اور انتہائی دلچسپی کے ساتھ مختلف تنظیمی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ انہی دلچسپی اور محنت کی وجہ سے وہ جلد ہی تنظیم کے ایک قابل، بااعتماد اور دشمن پر قہر ثابت ہونے والے سنگت کے طور پر متعارف ہوئے۔
ہکل کے مطابق، سنگت سہیل بلوچ جنگ اور قومی آزادی کے ساتھ انتہائی مخلص تھے۔ وہ جنگ کے میدان میں کسی بھی حالت میں خود پر قابو رکھنے اور دشمن کو نقصان پہنچانے کی مہارت رکھتے تھے۔ اسی مہارت کے ساتھ انہوں نے دشمن کا بہادری سے مقابلہ کیا اور شہادت تک اسی فکر و شعور اور تنظیمی بیداری کے تحت سرگرم رہے اور دشمن کو عملی طور پر دھچکا پہنچاتے رہے۔ 19 ستمبر کو اپنے چند دیگر ساتھیوں کے ہمراہ انہوں نے دشمن کا مقابلہ کیا اور اسے شدید نقصانات سے دوچار کرنے کے بعد وطن کی آزادی و دفاع اور قوم کے روشن مستقبل کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اور تاریخ کے اوراق میں ان عظیم ہستیوں میں شامل ہو گئے، جو ہماری بقا، شناخت اور آزادی کے تحفظ کی ضامن ہیں۔
ہکل کے مطابق، اختیار بلوچ عرف فرید ولد غلام نبی، سکنہ سندھ، نے 2026 میں تنظیم میں شمولیت اختیار کی اور 19 ستمبر 2026 کو پروم کے محاذ پر جانبحق ہوئے۔
تنظیم کے مطابق، بلوچ قومی وقار، عزت اور قومی آزادی کے عظیم کارواں کی حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے سندھ سے تعلق رکھنے والے سنگت اختیار نے بلا خوف و جھجھک قومی آزادی کی راہ میں بلوچ لبریشن آرمی کے پلیٹ فارم سے پنجابی قبضہ گیر کے خلاف مزاحمت کا فیصلہ کیا اور رواں سال پنجگور کے محاذ سے آزادی کے سفر کا آغاز کیا۔ معمول کے مطابق، انہیں بھی مختلف تربیتی مراحل سے گزارا گیا اور بہترین جنگی جذبے اور ولولے کے ساتھ انہوں نے خود کو جسمانی و ذہنی طور پر عملی میدان کے لیے تیار کیا۔ بعد ازاں، وہ جنگی محاذوں پر دشمن کے خلاف فوجی اقدامات میں بھرپور حصہ لیتے رہے اور دشمن کو نقصانات سے دوچار کرتے رہے۔
سنگت اختیار بلوچ نے جنگی میدان میں عملی شمولیت سے لے کر شہادت تک ثابت قدم رہتے ہوئے جس بہادری، دلیری اور جذبۂ وطنیت کا مظاہرہ کیا، اس کے ذریعے انہوں نے دیگر نوجوانوں کو ابہام میں رہنے کے بجائے ایک واضح پیغام دیا۔ دشمن کے خلاف مختلف فوجی معرکوں میں سنگت اختیار بلوچ نے شرکت کی اور اسے نقصان سے دوچار کیا۔ 19 ستمبر کو دشمن کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران دشمن کے ایک حملے میں چند دیگر ساتھیوں سمیت وہ شہادت کے رتبے پر فائز ہو گئے اور قومی آزادی کی تاریخ میں اپنا نام روشن کیا۔
ہکل کے مطابق، علی عرف سلمان ولد روزی خان، سکنہ دمبک، بلیدہ، نے 2026 میں تنظیم میں شمولیت اختیار کی اور 19 ستمبر 2026 کو پروم کے محاذ پر جانبحق ہوئے۔
تنظیم کے مطابق، سنگت علی عرف سلمان نے بلوچ سرزمین، خودمختاری اور آزادی کے دفاع میں بلوچ لبریشن آرمی کی صفوں میں رواں سال شمولیت کا شعوری، فکری اور تاریخی فیصلہ کیا اور قبضہ گیر کے خلاف جاری قومی آزادی کی جنگ کا حصہ بن گئے۔ انہوں نے پروم کے محاذ پر ساتھیوں کی ہدایت پر مورچہ سنبھالا اور بنیادی تربیتی کورسز میں بہترین کارکردگی دکھا کر فرنٹ لائن پر لڑنے کے لیے خود کو ثابت کیا۔ بلیدہ سے تعلق رکھنے والے سنگت علی نے مختصر مدت میں جنگی محاذ پر خود کو ایک انقلابی، نظریاتی اور سخت حالات کا مقابلہ کرنے والے سنگت کے طور پر منوا لیا۔
مزید کہا گیا کہ انہوں نے دشمن کے خلاف ہونے والے مختلف فوجی معرکوں اور کارروائیوں میں انتہائی بہادری و شجاعت کے ساتھ حصہ لیا اور قبضہ گیر کو نقصان پہنچایا۔ جس نظریاتی اور فکری آگاہی کے ساتھ انہوں نے اس قومی جنگ میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا، وہ اس پر عظمت و بہادری کے ساتھ قائم رہے اور کبھی بھی کسی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کیا۔ 19 ستمبر کو دشمن کے خلاف ایک کارروائی میں انہوں نے اپنے چند دیگر ساتھیوں کے ساتھ جان قربان کی اور قوم و وطن کا نام روشن کیا۔ ان کا جذبۂ قربانی اور قومی آزادی کی راہ میں بہایا گیا خون دیگر نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ بنے گا کہ وہ بھی اس جدوجہد کا حصہ بنیں۔
ہکل کے مطابق، ثناء اللہ عرف شئے مرید ولد حیر محمد، سکنہ گومازی، پنجگور، نے 26 اکتوبر 2025 کو تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔ وہ پروم، پنجگور اور ماشکیل کے محاذوں پر گشتی کمانڈر کی حیثیت سے سرگرم رہے اور 19 ستمبر 2026 کو پروم میں جانبحق ہوئے۔
بیان کے مطابق، پروم کے جنگی محاذ پر تعینات سنگت ثناء اللہ نے گزشتہ سال اکتوبر میں بلوچ لبریشن آرمی میں اس نیت سے شمولیت اختیار کی کہ وہ بلوچ سرزمین اور وطن پر طاقت کے زور پر مسلط قبضے، جو تشدد کے نظریے کے تحت قائم ہے، کے خاتمے کی جنگ میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ اسی نظریے کے تحت انہوں نے جنگی محاذ پر قومی آزادی کی راہ میں اہم کردار ادا کیا۔ بنیادی تربیتی کورسز مکمل کرنے کے بعد انہوں نے عملی طور پر مختلف محاذوں پر دشمن کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لیا۔ انہوں نے پنجگور اور ماشکیل، اور بعد ازاں پروم میں تنظیمی کمان کی ہدایت کے مطابق مختلف سرگرمیاں انجام دیں۔
ہکل کے مطابق، شہید سنگت ثناء اللہ جنگ کے میدان میں بہادری و شجاعت کا مظاہرہ کرنے اور دشمن کا بھرپور مقابلہ کرنے والے ساتھیوں میں شامل تھے۔ دشمن کے خلاف مختلف معاشی و اسٹریٹجک ناکہ بندیوں اور اس کی نقل و حرکت محدود کرنے والی کئی کارروائیوں میں انہوں نے حصہ لیا۔ تنظیمی اقدامات کے دوران بہترین نظم و ضبط اور جنگی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کی بنیاد پر انہیں پروم ریجن میں گشتی کمان کی ذمہ داریاں سونپی گئیں، جو انہوں نے آخری لمحے تک بہترین انداز میں نبھائیں۔ انہوں نے 19 ستمبر 2026 کو قومی آزادی اور وطن کے دفاع کی خاطر دشمن کے خلاف میدانِ جنگ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اور قومی آزادی کی تاریخ میں اپنا نام روشن کیا۔
ہکل کے مطابق، امان اللہ مینگل عرف میرک ولد عبدالکبیر مینگل، سکنہ احمد وال، نوشکی، نے 2026 میں تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔ وہ بولان اور زیارت کے محاذوں پر سرگرم رہے اور 8 اگست 2026 کو زیارت میں جانبحق ہوئے۔
بیان کے مطابق، نوشکی سے تعلق رکھنے والے سنگت امان اللہ نے قومی آزادی، ریاست کی خودمختاری کے دفاع اور عوامی مفاد کے لیے رواں سال بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت اختیار کی اور انہیں بولان کے محاذ پر تعینات کیا گیا۔ وہ بی ایل اے کی پیشہ ورانہ جسمانی و ذہنی تربیت میں بہترین کارکردگی دکھانے والے ساتھیوں میں شامل تھے۔ تربیتی سرگرمیاں مکمل کرنے کے بعد انہیں فرنٹ لائن پر بھیجا گیا، جہاں انہوں نے انتہائی بہادری و شجاعت کے ساتھ ایک قومی سرمچار کے طور پر اپنا فرض ادا کیا۔ وہ تنظیمی نظم و ضبط کی پابندی کرنے اور اس کی پاسداری کرنے والے ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔
تنظیم کے مطابق، قومی آزادی کے جذبے اور شعور سے لیس سنگت امان اللہ جنگی میدان میں انتہائی بہادری دکھانے والے ساتھیوں میں شامل تھے۔ بولان کے علاوہ انہوں نے زیارت میں بھی وطن کے دفاع و آزادی کے لیے اپنے فرائض انجام دیے۔ ان کی محنت، وطن سے بے انتہا محبت اور قومی فرض کے ساتھ مخلصی ہمیشہ ان کی پہچان رہی۔ وہ 8 اگست کو دشمن کے ساتھ ایک مقابلے کے دوران وطن کے دفاع میں اپنی قیمتی جان کا نذرانہ پیش کر گئے اور اس وعدے اور قول کی پاسداری کرتے ہوئے اس شعور کو عملی شکل دی، جس کی بنیاد پر انہوں نے فکری آگاہی اور نظریے کے تحت وطن کی آزادی کا راستہ اختیار کیا تھا۔
ہکل کے مطابق، اسحاق شوکت بلوچ عرف میران ولد شوکت، سکنہ لین بازار، ہوشاب، تربت، نے 10 نومبر 2022 کو تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔ وہ شور پارود، قلات، نوشکی اور چاغی کے محاذوں پر گشتی کمانڈر کی حیثیت سے سرگرم رہے اور 18 ستمبر 2026 کو سیاہ چنگ، چاغی میں جانبحق ہوئے۔
ہکل کے مطابق، اسحاق عرف میران بلوچ لبریشن آرمی کے شور پارود محاذ سے تعلق رکھنے والے ایک بہادر، وطن سے بے حد محبت کرنے والے، ذمہ دار اور انقلابی شعور سے لیس سرمچار تھے، جنہوں نے گزشتہ چار سال سے مسلح محاذ پر قومی دفاع کی خاطر مورچہ سنبھال رکھا تھا اور وطن کی آزادی و دفاع کے لیے بی ایل اے کی صفوں میں سرگرم تھے۔ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ان کی محنت، مشقت، ایمانداری، ایثار اور قربانی کا جذبہ ہمیشہ نمایاں رہا۔ انہی صلاحیتوں اور محنت کی وجہ سے انہیں علاقے میں گشتی کمان کی اہم ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ وہ آخری دنوں تک اپنی ذمہ داریاں ایک ثابت قدم ساتھی کی حیثیت سے نبھاتے رہے۔
تنظیم کے مطابق، آپریشن ہیروف کی تیاری، دشمن پر حملوں، دشمن کے خلاف معاشی ناکہ بندی، نئے علاقوں میں تنظیمی وسعت اور پیش قدمی، نئے نوجوانوں کو بی ایل اے کی صفوں میں بھرتی کرنے اور مختلف تنظیمی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ان کا کردار شامل تھا۔ انہوں نے شور پارود ریجن کے مختلف علاقوں، چاغی، نوشکی، قلات اور دیگر مقامات پر تنظیمی کمان کی ہدایت کے مطابق اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھائیں۔ 18 ستمبر کو چاغی کے دلبند میں دشمن کے ساتھ ایک جھڑپ کے دوران انہوں نے وطن کے دفاع و آزادی کے لیے اپنی جان قربان کی اور بلوچ قومی تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ کے لیے اپنا مقام بنا لیا۔


















































