بلوچستان میں مبینہ طور پر ’امن فورس‘ کے قیام کا فیصلہ، مقامی قبائلی و سیاسی شخصیات کو شامل کرنے کی تجویز

128

کوئٹہ: بلوچستان میں سکیورٹی کی بگڑتی صورتِ حال، اعلیٰ فوجی افسران کی ہلاکتوں اور ان واقعات پر پنجاب میں سامنے آنے والے ردِعمل کے تناظر میں پاکستانی فوج کی جانب سے مبینہ طور پر ایک نئی حکمتِ عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

فوج سے وابستہ ایک اہم ذریعے کے دعوے کے مطابق، اس حکمتِ عملی کے تحت بلوچستان میں فوج کو نسبتاً پسِ پردہ رکھتے ہوئے مقامی قبائلی و سیاسی شخصیات کی سرپرستی میں ’امن فورس‘ کے نام سے مسلح گروہ تشکیل دینے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس تجویز پر اتفاق کیا گیا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مقامی وڈیروں، سرداروں، قبائلی عمائدین، مذہبی شخصیات، یونین کونسل کے چیئرمینوں اور وزرا کی سرپرستی میں امن فورس قائم کی جائے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان گروہوں کو مقامی سطح پر منظم کرکے فوج کو نسبتاً پسِ پردہ رکھنے کی حکمتِ عملی اپنائی جائے گی۔

مذکورہ ذریعے کے مطابق، بلوچستان بھر میں امن فورس کے قیام کا فیصلہ مبینہ طور پر جی ایچ کیو کی ایک متفقہ پالیسی کے تحت کیا گیا ہے، جس پر مرحلہ وار عمل درآمد کیا جائے گا۔ ذریعے نے دعویٰ کیا کہ اس منصوبے میں تعاون سے انکار کرنے والے قبائلی سربراہوں، وزرا یا دیگر بااثر شخصیات کو دشمن کا ہمدرد قرار دے کر ان کے خلاف کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔

ذریعے کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں حالات توقع سے زیادہ تیزی سے خراب ہوئے ہیں اور فوجی قیادت اس رفتار کا درست اندازہ لگانے میں ناکام رہی۔ ان کے مطابق، عام اہلکاروں کے بعد اعلیٰ فوجی افسران کی ہلاکتوں نے صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جبکہ ان واقعات پر پنجاب میں سامنے آنے والے ردِعمل کے بعد فوج کو بلوچستان میں اپنی براہِ راست موجودگی کم کرنے اور مقامی عناصر کو آگے لانے کی حکمتِ عملی اختیار کرنا پڑ رہی ہے۔

ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد مقامی امن فورسز اور بلوچ مسلح مزاحمت کاروں کے درمیان تصادم کی صورت میں فوج کو براہِ راست محاذ آرائی سے نسبتاً دور رکھنا ہے۔ تاہم، ایسی صورتِ حال میں مقامی آبادی اور بلوچوں کے درمیان باہمی تصادم اور جانی نقصان میں اضافے کے خدشات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

مالی انتظامات کے حوالے سے ذریعے نے دعویٰ کیا کہ امن فورس کی قیادت کرنے والے متعلقہ مقامی شخص کے اخراجات کا نصف حصہ صوبائی حکومت کے ایک مخصوص بجٹ سے ادا کیا جائے گا، جبکہ باقی نصف اخراجات کی ذمہ داری اسی شخص پر عائد ہوگی۔

اہم وضاحت: اس رپورٹ میں بیان کردہ منصوبے، مبینہ اجلاس کے فیصلوں، مالی انتظامات اور ممکنہ کارروائیوں سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ پاکستانی فوج یا صوبائی حکومت کی جانب سے ان دعووں پر کسی باضابطہ مؤقف کی تصدیق بھی ممکن نہیں۔