بلوچستان آگ میں جل رہا ہے اور نوجوان پہاڑوں پر چڑھ گئے ہیں۔سردار اختر مینگل

1

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن کا جواز پیش کیا گیا، لیکن بلوچستان میں کتنے آپریشن کیے گئے اور ان کے نتائج کیا نکلے؟ آج بلوچستان آگ میں جل رہا ہے اور نوجوان پہاڑوں پر چڑھ گئے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاریوں کا ذکر کرتے ہوئے مینگل نے کہا، ’’اس صوبے کے منتخب وزیراعلیٰ اور اسپیکر لاپتہ ہیں۔ ان کی حکومت بھی چھین لی گئی اور پُرامن احتجاج بھی نہیں کرنے دیا جاتا۔ اس طرح کا نظام چلنے والا نہیں ہے۔ پختونخوا اور بلوچستان کے عوام کو باور کرایا جاتا ہے کہ آپ غلام ہیں، لیکن جب تک ہم ایک قوم نہیں بنیں گے، ہمیں غلام ہی رکھا جائے گا۔‘‘

سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ اسپیکر ایک آئینی عہدہ ہے اور اس عہدے کے حامل شخص کو مارشل لا کے دور میں بھی گرفتار نہیں کیا جاتا تھا، لیکن آج اسپیکر دن دہاڑے غائب ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسی صورتِ حال میں جمہوریت کے دعوے کس بنیاد پر کیے جا رہے ہیں؟

انہوں نے مزید کہا کہ ایک طرف منتخب نمائندے اور وزرا غائب ہیں، جبکہ دوسری طرف فارم 47 کے ذریعے منتخب ہونے والے ارکان ایوانوں میں بیٹھے ہیں۔