لائبہ ستار کے لواحقین نے ویڈیو بیان مسترد کر دیا، اسلام نیچاری کو شفیق مینگل کی پشت پناہی حاصل ہونے کا الزام

16

بلوچستان کے علاقے قلات سے 19 سالہ طالبہ لائبہ ستار کی گمشدگی کا کیس اس وقت سامنے آیا ہے جب ان کے لواحقین نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرکے بتایا کہ لائبہ کو اسلام نیچاری نامی شخص نے زبردستی شادی کے لیے اغوا کیا ہے اور ان کے والد عبدالستار کو رشتہ نہ دینے پر قتل کیا گیا ہے۔

بعد ازاں، لواحقین نے عبدالستار کے قتل اور لائبہ کے اغوا کے خلاف کراچی، کوئٹہ شاہراہ پر قلات کے مقام پر احتجاج کیا۔ احتجاج کے دوران ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ملزم اسلام نیچاری کی گرفتاری اور لائبہ کی بازیابی کی یقین دہانی پر احتجاج ختم کیا گیا۔

اس کے بعد بلوچستان اسمبلی میں گوادر سے رکنِ اسمبلی ہدایت الرحمٰن نے اس واقعے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ لائبہ کو بااثر لوگوں نے اغوا کیا ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے انتظامیہ ناکام ہو چکی ہے۔

واضح رہے کہ اس دوران احتجاج اور دیگر تمام ذرائع استعمال کیے گئے، لیکن لائبہ کی صورتِ حال سے متعلق ان کے لواحقین مکمل طور پر بے خبر رہے۔ آج یہ کیس ایک بار پھر بلوچستان میں زیرِ بحث آیا، جب کل بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ان کی تصویر شائع کرتے ہوئے کہا کہ لائبہ کو 29 مارچ 2026 کی رات 9 بجے قلات سے لاپتا کیا گیا ہے اور اس میں ڈیتھ اسکواڈ ملوث ہے۔

جبکہ آج لائبہ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں وہ کہہ رہی ہیں کہ انہوں نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے۔

اس ویڈیو پر ان کے لواحقین نے کہا کہ ویڈیو زبردستی بنائی گئی ہے۔ ہم اس ویڈیو کو مسترد کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں منظرِ عام پر لایا جائے۔

ایک آڈیو بیان میں رخسانہ عزیز نے کہا کہ قاتل اور اغوا کار اسلام نیچاری کو شفیق مینگل کی پشت پناہی حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام نیچاری میرے بھائی کے قاتل ہیں۔ میری بہن لائبہ کو بازیاب کرا کے شفاف تحقیقات کی جائیں۔ اگر انہوں نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے تو ان کے والد اور بھائی کو کیوں قتل کیا گیا ہے؟

واضح رہے کہ اس وقت بلوچستان کے اضلاع خضدار اور قلات میں اسمہ جتک اور لائبہ ستار کے کیسز پر بلوچستان اسمبلی میں بحث سمیت دیگر سیاسی پارٹیوں اور لواحقین کا مؤقف ہے کہ ان جرائم میں ریاستی حمایت یافتہ سرداروں اور مسلح جتھوں کا ہاتھ ہے۔ اس لیے حکومت اور ضلعی انتظامیہ ملزمان کو جانتے ہوئے بھی ان کے خلاف کارروائی سے گریزاں ہیں۔